कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان اجر و ثواب کا مہینہ، غفلت و اسراف نہ کریں!

تحریر: سید شاہ واصف حسن واعظی

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، جس میں ہر نیک عمل کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا، تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ ہموار کی گئی، اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس ماہ کی برکتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالے۔ لیکن افسوس کہ ہم میں سے اکثر افراد اس مبارک مہینے کے حقیقی مقصد کو نظرانداز کر بیٹھے ہیں۔ خواتین بازاروں میں فضول خریداری میں مصروف ہوجاتی ہیں، نوجوان راتوں کو ہوٹلوں اور سڑکوں پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، اور یوں رمضان کی روحانیت محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔
رمضان کا اصل مقصد تقویٰ اور قربِ الٰہی:اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مقصد واضح الفاظ میں بیان فرمایا:’’تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘یہ مہینہ ہمیں دنیاوی غفلت سے نکال کر اللہ کی طرف رجوع کرنے، توبہ و استغفار کرنے، اور اپنے نفس کی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اعمال، زبان، نظریں، اور دل کو بھی پاک صاف رکھنے کا ذریعہ ہے۔ مگر آج کے مسلمانوں نے اس ماہ مقدس کو صرف کھانے پینے اور بازاروں کی چمک دمک کا مہینہ بنا لیا ہے۔
خواتین کی بازاروں میں بے جا خریداری: عبادت یا اسراف؟افسوس کی بات یہ ہے کہ رمضان آتے ہی بازاروں میں بے پناہ رش بڑھ جاتا ہے، اور خاص طور پر خواتین خریداری میں مشغول ہوجاتی ہیں۔ عید کے لیے کپڑے، زیورات، اور دیگر سامان خریدنے کی ایسی دوڑ لگتی ہے کہ جیسے رمضان بازار میں عبادت نہیں بلکہ خریداری فرض ہو گئی ہو۔ سحر و افطار کے وقت بھی خواتین عبادات کے بجائے پکوان اور کھانے پینے کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں۔
کیا یہی رمضان کا مقصد تھا؟ کیا نبی کریم ؐاور صحابہ کرامؓکے رمضان بھی ایسے ہی گزرتے تھے؟ نہیں! بلکہ وہ لوگ اس ماہ کو اللہ کی عبادت، دعا، اور خیرات میں گزارتے تھے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم رمضان کی بابرکت گھڑیاں خریداری میں ضائع کرکے اللہ کی رحمتوں سے محروم تو نہیں ہو رہے؟
نوجوانوں کی راتیں ہوٹلوں میں کیوں گزر رہی ہیں؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوان اس مبارک مہینے میں راتوں کو جاگنے کے عادی بن جاتے ہیں، مگر کہاں؟ مسجد میں عبادت کے لیے نہیں، بلکہ ہوٹلوں، کیفے اور گلی محلوں میں گپ شپ کے لیے!
سحری کے بہانے ہوٹلوں پر بیٹھ کر قہقہے لگانا، غیرضروری گپ شپ میں وقت برباد کرنا، اور سوشل میڈیا پر بے مقصد سرگرمیوں میں مگن رہنا، کیا یہی رمضان کا حق ہے؟ کیا اللہ نے ہمیں اس بابرکت مہینے میں اسی لیے جگایا ہے کہ ہم اپنا وقت فضولیات میں ضائع کریں؟ اگر نوجوان یہی وقت مسجد میں گزاریں، نوافل ادا کریں، قرآن کی تلاوت کریں اور اللہ کے ذکر میں مصروف ہوں تو ان کی زندگی سنور سکتی ہے۔
رمضان کی اصل خوبصورتی: رمضان المبارک کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ’’لیلۃ القدر‘‘ہے، جس کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ مگر افسوس کہ یہی راتیں ہوٹلوں، موبائل، اور تفریح میں ضائع ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ:’’ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘مگر ہماری حالت یہ ہے کہ جب اللہ اپنے بندوں پر رحمتوں کے دروازے کھول رہا ہوتا ہے، ہم ان رحمتوں کو سمیٹنے کے بجائے غفلت میں ڈوبے ہوتے ہیں۔
ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویے کو بدلیں اور رمضان المبارک کا حقیقی مقصد سمجھیں۔خواتین خریداری کم کریں، بازاروں میں غیرضروری خریداری کرنے کے بجائے اس وقت کو عبادت میں گزاریں۔ اگر خریداری کرنی بھی ہے تو رمضان سے پہلے یا بعد میں کریں۔ سحری اور افطار میں سادگی اختیار کریں، انواع و اقسام کے پکوان بنانے کے بجائے سادہ اور کم کھانے پر زور دیں تاکہ زیادہ وقت عبادت میں لگے۔ نوجوان مسجدوں کا رخ کریں، ہوٹلوں اور کیفے میں راتیں ضائع کرنے کے بجائے مسجد میں اعتکاف کریں، تلاوت کریں، اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
خاندان کے افراد کو نیکی کی ترغیب دیں،گھروں میں دینی ماحول بنائیں، اجتماعی عبادات کریں، اور بچوں کو بھی قرآن اور حدیث کی تعلیم دیں۔ شب قدر کی راتوں کو قیمتی بنائیں،ان راتوں میں نیند اور تفریح کو چھوڑ کر دعا، ذکر، اور نوافل میں مشغول ہوں تاکہ اللہ کی رحمتوں سے محروم نہ رہیں۔
رمضان المبارک ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنے کا سنہری موقع دیتا ہے۔ جو لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور جو اسے ضائع کرتے ہیں، وہ خسارے میں رہتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس فریق میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟
کیا ہم اس مہینے کو بازاروں، ہوٹلوں، اور فضولیات میں ضائع کریں گے، یا اسے اللہ کے قرب کے لیے استعمال کریں گے؟ یہ سوال ہر مسلمان کو خود سے پوچھنا چاہیے اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس رمضان کو ہماری مغفرت اور جنت کے حصول کا ذریعہ بنا دے۔ آمین!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے