कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رقیہ شرعیہ اور اس کی اہمیت

قسط نمبر 1

از: شیخ جاسم حسین العبیدلی
ترجمہ: ظفر ہاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

رقیہ کے معنی ہیں العوذہ – ( اردو میں پناہ چاہنا) علامہ ابن ثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رقیہ یعنی کوئی مصیبت زدہ اس کے ذریعہ مصیبت سے نجات چاہتا ہے جیسے بخار مرگی وغیرہ آفتوں سے۔ علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:رقیہ وہ کلام ہے جس کے ذریعہ کسی آفت سے شفاء حاصل کی جاتی ہے- امام قرافی فرماتے ہیں:رقیہ وہ خاص الفاظ ہیں جن کے ذریعہ بیماری اور ہلاک کر دینے والے اسباب سے شفاء حاصل ہوتی ہے- ان میں کچھ جائز ہیں جیسے سورہ فاتحہ اور معوذتین( سورہ فلق اور سورہ ناس) کا پڑھنا اور کچھ ناجائز ہیں جیسے جاہلی دور کے ٹوٹکے جو کفر کی حد تک پہونچا دیں-
فرد اور معاشرہ کے لئے اس کی اہمیت:
رقیہ شرعیہ کی بڑھی اہمیت ہے اور اس کے فائدے بھی بہت واضح ہیں- پہلی بات یہ ہے کہ یہ بڑے ثواب کا کام ہے اور انبیاء و صالحین سے ٹابت ہے- شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں: یہ بہترین عمل ہے اور انبیاء و صالحین اسے کرتے تھے- کیونکہ انبیاء اور نیک لوگ اللہ کے حکم سے انسانوں کو شیطانوں سے بچاتے تھے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) کیا کرتے تھے- ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بارے میں امت کو تعلیم دینے اور خو د عمل کرنے کی بڑی پابندی کی ہے- جیسے آپ خود اپنے اوپر دم کرتے اور اپنے گھر والوں پر بھی کرتے تھے- آپ نے صحابہ پر بھی رقیہ کیا ہے- اگر آپ کی طبیعت خراب ہو جاتی تو جبرئیل علیہ السلام آپ پر رقیہ کے الفاظ پڑھتے- جس مرض میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ پر رقیہ کرتی تھیں-
رقیہ کی صحیح احادیث:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیمار ہوئے تو آپ خود اپنے آپ پر معوذات( سورہ الکافرون،سورہ الاخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر اپنے اوپر پھنکتے- جب بیماری بڑھ گئی تو میں پڑھتی اور آپ کے ہاتھوں کو برکت حاصل کرنے کی نیت سے چھوتی تھی-(بخاری حدیث نمبر 5016,مسلم حديث نمبر 2192)
دوسری حدیث میں انہی سی روایت ہے آپ جب بھی بیمار ہوتے تو جبرئیل علیہ السلام آپ پر دم کرتے اور دعا پڑھتے( باسم الله يبريك ومن كل داء يشفيك ومن شر حاسد اذا حسد وشر كل ذي عين میں اللہ کے نام سے دم کرتا ہوں اور ہر بیماری سے شفاء دیتا ہوں اور حسد کرنے والے کے حسد سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والے کی بری نظر سے بھی ( مسلم حدیث نمبر2185)۔
حضرت خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں:ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس ہوئے اور ایک عربی محلے سے گذر رہے تھے تو ان لوگوں نے کہا ہمیں معلوم ہواہے کہ آپ لوگ بڑے خیر والے آدمی کے پاس سے آ رہے ہو تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا رقیہ ہے کیونکہ ہمارے درمیان ایک پاگل سا ہے زنجیروں میں جکڑا ہوا – ہم نے کہا جی ہاں – وہ لوگ ہمیں اس آسیب زدہ کے پاس لے آئے- میں اس پر تیں دن تک صبح شام سورہ فاتحہ پڑھتا رہا۔ جب جب سورہ ختم کرتا اپنا تھوک اس پر پھونکتا تو وہ گویا بندھی رسی سے چھٹکارا پاتا – پھر ان لوگوں نے مجھے کھانا دیا – میں نے سوچا کہ اس بارہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں – آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کھاؤ کیونکہ میری عمر کی قسم کوئی باطل کر کے کھاتا ہے مگر تم نے سچا رقیہ پڑھا ہے تم کھا سکتے ہو-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے