कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رحمت کے سفیر ﷺ: ایک ایسی کہانی جو وقت کی قید سے آزاد ہے

تحریر: خان اجمیری(عرف خان میڈیم) زوجہ ڈاکٹر خان خرم زبیر
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ،ضلع ناندیڑ (مہاراشٹر)

مکہ معظمہ کی مقدس وادی میں جب ظلم و جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے، انسانیت کی کرنیں ماند پڑ چکی تھیں، عورت کو ذلت کا سامان سمجھا جاتا تھا، بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، خونریزی اور انتقام عرب کے قبیلوں کا شعار بن چکا تھا، اور خانہ کعبہ جو حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی توحید کی یادگار تھا، وہ بھی تین سو ساٹھ بتوں سے بھر چکا تھا، ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے عظیم نعمت، سب سے بڑی رحمت اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ عام الفیل کے سال، بارہ ربیع الاول کو، عبد اللہ بن عبد المطلب اور حضرت آمنہ کے گھر وہ نور پیدا ہوا جس کی بشارتیں آسمان و زمین نے صدیوں پہلے سن رکھی تھیں۔ آپ ﷺ کی ولادت کے وقت عجیب نشانیاں ظاہر ہوئیں، فارس کے آتش کدے بجھ گئے جو ہزار برس سے روشن تھے، کسریٰ کے محل کے کنگرے گر پڑے، بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور یہ ساری نشانیاں اعلان کر رہی تھیں کہ اب دنیا میں وہ ہستی آ چکی ہے جو اندھیروں کو اجالوں میں بدل دے گی۔ مگر ابھی بچپن ہی میں یتیمی کا غم آپ ﷺ کے ساتھ ہو گیا، والد گرامی آپ کی پیدائش سے پہلے ہی انتقال فرما گئے تھے اور صرف چھ برس کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں، یوں آپ کی کفالت پہلے دادا عبد المطلب نے کی اور ان کے انتقال کے بعد چچا ابو طالب نے، جنہوں نے زندگی بھر آپ کا ساتھ دیا۔ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں چرائیں، سختیوں کو جھیلا مگر صداقت و امانت کی چمک ہر وقت آپ کے چہرے پر نمایاں رہی۔ مکہ کے لوگ آپ کو "الصادق الامین” کے لقب سے پکارنے لگے کیونکہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے اور کبھی امانت میں خیانت نہیں کرتے تھے۔ جب آپ جوان ہوئے تو تجارت کے سفر کرنے لگے، شام و یمن کی طرف گئے، ہر سفر میں اپنی سچائی اور دیانت کا ایسا ثبوت دیا کہ لوگ حیران رہ گئے۔ انہی تجارتی معاملات میں آپ حضرت خدیجہؓ کے سامانِ تجارت کو لے کر شام گئے، وہاں بھی اپنی ایمانداری کا ایسا اثر چھوڑا کہ حضرت خدیجہؓ کے دل میں آپ کی عظمت بیٹھ گئی اور واپسی پر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ یہ نکاح آپ ﷺ کی زندگی کے لیے سکون اور حوصلے کا ذریعہ ثابت ہوا، حضرت خدیجہؓ نے نہ صرف گھر کی زندگی کو سنوارا بلکہ نبوت کے مشن میں بھی آپ کی سب سے بڑی مددگار اور سہارا بنیں۔
آپ ﷺ کو بچپن سے ہی تنہائی اور غور و فکر کا شوق تھا، اور چالیس برس کی عمر میں یہ شوق اور بڑھ گیا، آپ غارِ حرا میں جا کر اللہ کی عبادت کرتے، اپنی قوم کی گمراہی پر غور کرتے اور اللہ کے ذکر میں محو رہتے۔ ایک دن غارِ حرا میں وہ لمحہ آیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر آئے اور کہا: "اقرأ” یعنی پڑھو۔ آپ ﷺ گھبرا گئے مگر حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دی اور ورقہ بن نوفل نے بھی گواہی دی کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا تھا۔ یوں نبوت کا آغاز ہوا اور دنیا کو وہ پیغام ملا جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ نے ایمان قبول کیا، پھر حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ، اور رفتہ رفتہ ایک قافلہ تیار ہونے لگا۔ مگر قریش کو یہ دعوت سخت ناگوار گزری، انہوں نے آپ ﷺ پر ظلم ڈھانے شروع کیے، کبھی طعنے دیے، کبھی پتھر مارے، کبھی آپ پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی، کبھی صحابہ کو سخت اذیتیں دیں، بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، خباب بن الارتؓ کو دہکتے کوئلوں پر جلایا گیا، سمیہؓ کو شہید کر دیا گیا، مگر یہ قافلہ ڈٹا رہا۔ کفار نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا اور شعبِ ابی طالب میں تین برس تک بھوکے پیاسے محصور رکھا، یہاں تک کہ پتے اور چمڑے کھانے پر مجبور ہوئے، لیکن ایمان نہ ٹوٹا۔ انہی دنوں حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کا انتقال ہوا، آپ ﷺ نے اسے عام الحزن کہا کیونکہ یہ غم کے دن تھے۔
غم سے نڈھال ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے طائف کا سفر کیا کہ شاید وہاں کے لوگ اسلام قبول کریں، مگر وہاں کے سرداروں نے مذاق اڑایا اور آوارہ لڑکوں کو پیچھے لگا دیا، جنہوں نے پتھروں سے آپ ﷺ کو لہو لہان کر دیا۔ آپ کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، مگر آپ نے بددعا نہیں کی بلکہ فرمایا: "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں۔” یہی وہ شانِ رحمت للعالمین تھی جس کی وجہ سے دشمن بھی آخرکار دوست بن گئے۔ اسی دوران مدینہ کے کچھ قبائل ایمان لے آئے، بیعت عقبہ کے ذریعے آپ ﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت ملی اور پھر اللہ کے حکم سے ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ کفار نے آپ کے قتل کی سازش کی مگر آپ غارِ ثور میں پناہ گزین ہوئے، دشمن دہانے تک آ پہنچے مگر اللہ نے حفاظت فرمائی۔ آخرکار آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو وہاں کے انصار نے خوشی سے استقبال کیا۔ آپ نے سب سے پہلے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی، مہاجرین و انصار کو بھائی بنایا اور ایک ایسا معاہدہ کیا جس میں یہودیوں سمیت سب کو امن کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی۔
مگر مکہ کے دشمن باز نہ آئے، جنگ بدر کا معرکہ ہوا، تین سو تیرہ مسلمان ہزار سے زیادہ کافروں کے مقابلے میں اترے اور اللہ نے ایمان والوں کو فتح عطا کی۔ احد کی جنگ میں کچھ صحابہ کی غلطی سے نقصان اٹھانا پڑا اور خود آپ ﷺ زخمی ہو گئے مگر صبر اور حوصلے کی مثال قائم کی۔ خندق کی جنگ میں مدینہ کو محفوظ رکھنے کے لیے خندق کھودی گئی اور اللہ نے دشمن کو ناکام و نامراد کر دیا۔ ان جنگوں کے درمیان آپ ﷺ نے مسلمانوں کو اخوت، مساوات اور عدل سکھایا۔ یتیموں اور بیواؤں کے حقوق بیان کیے، عورتوں کو عزت دی، غلاموں کو آزادی کی بشارت دی، بچوں کے ساتھ شفقت کی اور یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کیا۔
چھ ہجری میں حدیبیہ کا معاہدہ ہوا، بظاہر مسلمانوں کے حق میں سخت تھا مگر دراصل ایک عظیم فتح ثابت ہوا، کیونکہ اس امن کے ماحول میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ دو برس بعد ہی مکہ فتح ہو گیا، آپ ﷺ سر جھکائے داخل ہوئے، دشمن سوچ رہے تھے کہ آج انتقام لیا جائے گا، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: "لا تثریب علیکم الیوم” یعنی آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ یہ عفو و درگزر کی وہ مثال تھی جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔
اس کے بعد اسلام کی روشنی پورے جزیرہ عرب میں پھیل گئی، بادشاہوں کو خطوط بھیجے گئے، قبائل کے وفود مدینہ آنے لگے، اور دین ایک عالمی پیغام کی شکل اختیار کر گیا۔ دس ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے وہ عظیم خطبہ دیا جس میں مساوات، انسانی حقوق اور اسلام کی بنیادیں واضح کر دیں، فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں، سب برابر ہیں، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، ایک دوسرے کا خون اور مال حرام ہے، اور یہ کہ آج دین مکمل ہو گیا۔ اسی موقع پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔” گویا مشن کی تکمیل کا اعلان ہو گیا۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد آپ ﷺ بیمار ہو گئے، کئی دن تک مسجد میں نہ آ سکے، مگر امت کی فکر ہر وقت زبان پر رہی، بار بار نماز اور کمزوروں کے حقوق کی وصیت فرمائی۔ گیارہ ہجری میں بارہ ربیع الاول کو، ظہر سے پہلے، آپ ﷺ نے دنیا کو الوداع کہا۔ اس وقت بھی آپ کے لبوں پر امت کا ذکر تھا۔ صحابہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا مگر حضرت ابوبکرؓ نے تسلی دی کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ کا وصال ہو چکا ہے اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ ہمیشہ زندہ ہے۔ یوں یہ دنیا سب سے عظیم ہستی سے محروم ہو گئی مگر آپ ﷺ کا پیغام، آپ کی سنت اور آپ کا نور قیامت تک زندہ رہے گا، اور انسانیت کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا چراغ بنتا رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے