कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رحمت نگر سوگوار: الحاج عبد القدوس صاحب یادوں اور خدمتوں کے ساتھ رخصت

شہر ناندیڑ کے گنجان آبادی ہی نہیں، بلکہ گنجان محبتوں والے گھرانوں پر محیط ’’رحمت نگر‘‘ میں مقیم الحاج عبد القدوس ولد الحاج عبد الطیف صاحب کی رحلت کا اعلان مسجد کے اسپیکر سے جیسے ہی گونجا، رحمت نگر کی فضا اچانک سوگوار ہوگئی۔ اہلِ خانہ اور لواحقین کے کرب کی انتہا نہیں رہی، ہر دلعزیز شخص، پڑوسی، دوست احباب، متعلقین مغموم ہوگئے۔ سب کے دل بھر آئے، چہرے اتر گئے، گھر پر دیدارِ میت والوں کا تانتا بندھ گیا۔ مجھے جیسے ہی اطلاع ملی اچانک بڑی تکلیف ہوئی، دل بیٹھ گیا، طبیعت اداس ہوگئی۔ دوست احباب ان کے نیک طبیعت کے تذکرے کرنے لگے، کوئی خوش مزاجی، کوئی دینی رجحان، کوئی شفقتوں، محبتوں کی سرگوشیاں کرنے لگا۔ ہر کسی کے منہ سے یہی جملہ نکل رہا تھا: ’’عبد القدوس بھائی بہت اچھے آدمی تھے‘‘۔ ہمارے بھائی سے تذکرہ کرنے پر بھائی بھی اداسی سے خاموش ہوگئے، پھر یکلخت خاموشی توڑ کر تقریباً دو دہائیوں پہلے ایک واقعہ کی یاد دلائی۔ عصر کی نماز کے بعد رحمت نگر کی گلی میں بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب کے ساتھ مزید چار پانچ افراد، جس میں بھائی خود موجود تھے، الحاج عبد القدوس صاحب کے گھر عیادت کے لیے پہنچے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب نے اس وقت کے مختصر سانحہ پر ہمت افزائی کی، تسلی دی، اطمینان کی بات کی۔ میرے بچپن کی یادیں بالکل تازہ ہوگئیں، چونکہ عاجز بھی اس وقت گلی میں موجود بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب کے ساتھ رواں دواں تھا۔ اسی دن جب بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب کی سبھا ہوئی تو تقریر میں ان کی للکار میں عبد القدوس صاحب کی عیادت گونج رہی تھی۔دوسرے دن اخبار کی سرخیوں میں بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب کی یہ للکار کے ساتھ سبھا میں کی گئی عوام سے تمام باتیں شائع ہوئیں۔ اسی طرح بچپن سے اب تک کی یادداشت میں ان کی تمام تر خدمات پیوست ہیں۔
مسجد معراج، جو اللہ کا گھر ہے، اس کی خدمت میں ہمیشہ خود اور اپنے بھائیوں، دونوں صاحبزادوں کو کوشاں رکھے ہوئے تھے۔ اسی طرح قومی، ملی، سماجی، معاشرتی زندگی میں بھی ہمیشہ سرگرم رہے۔ ہمیشہ صاف ستھرا، مہذب لباس پہنتے، بال اچھے سے سنوارتے جس سے حسن مزید دوبالا ہوجاتا، ہر کسی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے۔ رشتے داروں سے بہت محبت کرتے، محلوں والوں سے بڑی ہمدردی کرتے، بچوں پر شفقت کرتے۔ گو خوش کلام بھی تھے، خوش دل بھی تھے۔ گھریلو ذمہ داریوں کو بہت ہی احسن طریقے سے نبھاتے، چونکہ گھر میں سب سے بڑے ہونے کے منصب سے چھوٹوں کو خوب جوڑے رکھے، خوب محبت، شفقت، صلہ رحمی کرتے۔ انصاف پسند آدمی تھے۔ اسی طرح اور بھی بہت ساری خوبیوں کے حامل تھے جو ان کے لیے ضرور ذخیرہ آخرت ہوگی۔
بہرحال بروز اتوار صبح 9 بجے جسد خاکی کو گھر سے بذریعہ گاڑی گنج تک لے جایا گیا، پھر وہاں پہلے سے موجود محبین و متعلقین کی انتظار کرتی کثیر تعداد جنازے کو بھیڑ میں کاندھا دینے کا موقع تلاش کرتے رہے۔ کسی کو موقع ملا، کوئی محروم رہا۔ جنازہ گنج شہیداں کربلا کے میدان میں رکھا گیا۔ شہر کے معززین، مشہور و معروف شخصیات میں امام و خطیب مکہ مسجد مرکز حضرت مفتی وقایت اللہ صاحب قاسمی، حضرت مفتی شیخ محبوب احسن صاحب قاسمی، امام و خطیب مسجد عثمان بن عفان حضرت مفتی صدیق صاحب قاسمی، جناب انجینئر مسیح الدین صاحب، جناب ایوب لیڈر صاحب،سابقہ امام و خطیب مسجد معراج حافظ جاوید صاحب، اسی طرح بہت سارے دوست احباب، رشتے دار، متعلقین، دارالعلوم عربیہ تجوید القرآن کے مدرسین، شہر کے مفتیانِ کرام، علمائے دین، حفاظِ کرام، آئمۂ مساجد، اور مسجد معراج کے تمام مقتدی حضرات جنازہ گاہ میں موجود تھے۔ آخری دیدار کے لیے لوگ قطار میں لگے تھے۔ عاجز بھی آخری دیدار کے لیے شامل ہوا۔ بالکل تازہ، صاف و شفاف، مسکراتا چہرہ یوں لگ رہا تھا جیسے آرام کررہے ہوں، اور کیوں نہ ہو، ایمان والوں کے لیے سفرِ آخرت آرام دہ ہی ہوگا۔ وہی معاملات کی صفائی کے لیے حضرت مفتی عبد الرزاق صاحب مظاہری دامت برکاتھم نے اعلان بھی فرمایا۔ صفیں درست ہوچکی، 10 بج چکے تھے، پھر بھی لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ کسی نے آواز دی کہ بہت سارے احباب پاس میں ہی آرہے ہیں، ذرا رکیں۔ لوگ آتے گئے۔ مختصر وقفہ کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد الرزاق صاحب مظاہری دامت برکاتہم، چونکہ مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں، اپنی اشک بار آنکھوں کے ساتھ نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تمام محبین، مخلصین، متعلقین کے جمع غفیر نے حضرت مفتی عبد الرزاق صاحب کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی۔ پھر جنازہ کو قبرستان لے جایا گیا۔ وہاں عجیب منظر تھا۔ سب لوگ خاموش کھڑے تھے۔ قبر کے اردگرد بڑا مجمع تھا اور لوگ کنارے کھڑے نم آنکھوں سے منظر دیکھ رہے تھے۔ قبر کی بھرائی مکمل ہوئی، پھر دعائے مغفرت کے ساتھ اداس لہجہ میں سب کی واپسی ہوئی۔
گھر کے بڑے ہونے کا اعلیٰ کردار انہوں نے بہترین طریقے سے نبھایا۔ ایک جنازہ ایسا بھی جس میں پانچ چھوٹے بھائی بڑے بھائی کی محبتوں، شفقتوں، صلہ رحمی، ہمدردی، خلوص سے ظاہری طور پر محروم تو ہوئے، لیکن ان کی جوڑی ہوئی محبتیں ہمیشہ سرسبز و شاداب رہیں گی۔ بھائیوں کے درمیان ایسی معزز بھائی چارگی نئی نسل کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔
لواحقین میں پانچ بھائی: جناب عبد المقیت (بیکری والے)، عبد المجیب، عبد الصمد، عبد اعلیٰ سر مدرس ضلع پریشد ناندیڑ، حضرت مولانا مفتی عبد الرزاق صاحب، اور اہلیہ معہ چھ صاحبزادیاں، بڑے فرزند جناب عبد الواسع، چھوٹے فرزند جناب عبد الرافع ، اسی طرح نواسے نواسیاں، پوتے پوتیاں، بھتیجے بھتیجیاں،داماد،بہویں سب موجود و مغموم ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب عبد القدوس صاحب کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آپ تمام احباب سے بھی درجات کی بلندی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔

از قلم:- گلی کا ایک دیرینہ فرد(محمد ضیاء ولد محمد اسماعیل صاحب)
رحمت نگر، ناندیڑ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے