कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ربّانی بنو، رمضانی نہیں!

تحریر:ابو خالد قاسمی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد

جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا اور مسلمانوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دلوں کو اضطراب نے گھیر لیا اور فضا میں حیرت و بے یقینی چھا گئی، تو اسی گھڑی اس امت کے صدیقِ اکبرؓ مسجد میں کھڑے ہوئے اور حقیقت کو پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا۔ انہوں نے لوگوں سے وہ تاریخی کلمات ارشاد فرمائے:
اے لوگو! جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا چکے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو بے شک اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی!
حضرت ابوبکرؓ کے اسی حکیمانہ قول کو سامنے رکھتے ہوئے اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے میں بھی لوگوں کو پکارنا چاہتا ہوں:
اے لوگو! جو رمضان کی عبادت کرتا ہے، وہ جان لے کہ رمضان اب رخصت ہونے کے دہانے پر ہے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تمام مہینوں کا رب ہے!
مجھے مایوسی پھیلانا اور حوصلے توڑنا پسند نہیں، بلکہ میں ہمیشہ گلاس کے بھرے ہوئے نصف کو دیکھنے کا عادی ہوں یہاں تک کہ کبھی اس کا خالی حصہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ میں تاریکی کو کوسنے کے بجائے ایک چراغ جلانے کا قائل ہوں، کیونکہ اس مقام پر یہی طرزِ عمل سودمند ہے۔
بلاشبہ اس مہینے میں امت کا اپنے رب کے منتخب کردہ مہینے کی طرف رجوع کرنا دل کو سرور بخشتا ہے اور روح کو سکون دیتا ہے۔
فجر کی نماز میں بھری ہوئی صفیں آنکھوں کے لیے راحت اور دل کے لیے اطمینان کا باعث بنتی ہیں کہ یہ امت بیمار تو ہو سکتی ہے، مگر مر نہیں سکتی؛ اور اللہ تعالیٰ ہر سال اسے ایک ایسا مہینہ عطا فرماتا ہے جو اس کے اندر مر چکی روح کو پھر سے زندہ کر دیتا ہے۔
تراویح میں لبریز مساجد کا منظر خوشی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔
قرآنِ مجید کی بار بار تکمیل کی باتیں سننا دل کو مسرت سے بھر دیتا ہے۔
رمضان کی قرآنی مقابلہ جات میں بچوں کی شرکت اس بات کی نوید ہے کہ اس امت کے مستقبل کے بیج سلامت ہیں، جو ایک دن سرسبز ہو کر پھل دیں گے۔
پڑوسیوں کے درمیان کھانوں کا تبادلہ محبت اور اخوت کی ایک خوبصورت روایت ہے۔
اور صدقات کی کثرت اور محتاجوں کی خبرگیری، معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی روشن علامت ہے۔
لیکن ایک سوال ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے:
ہم رمضان کی عبادات اور اخلاق کو سال بھر کے لیے کیوں نہیں اپناتے؟
کیوں آخری عشرے میں فجر کی صفیں بھر جاتی ہیں، مگر شوال کے آغاز ہی میں پہلی صف بھی مکمل نہیں ہو پاتی؟
کیوں ہم قرآن کو ایک مہینے کی کتاب سمجھتے ہیں، پوری زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ نہیں؟
کیوں ہم باقی مہینوں میں محتاجوں کی تلاش نہیں کرتے؟
کیوں ہم ربیع الاول، جون یا دسمبر میں اپنے پڑوسیوں کو کھانے کے تحفے نہیں دیتے؟
کیوں بچوں کو قرآن حفظ کرنے کی ترغیب رمضان کے بعد ماند پڑ جاتی ہے، اور اسے سال بھر جاری رہنے والا مقابلہ نہیں بنایا جاتا؟
یقیناً رمضان کی تعظیم، اس کے حقوق کی ادائیگی نماز، روزہ، تلاوت اور صدقات کے ذریعے ایک عظیم اور خوش آئند عمل ہے۔
اور وہ امت جو اس مہینے کو اس قدر اہتمام سے سنبھالتی ہے اور اسے ضائع نہیں کرتی جیسا کہ پچھلی امتوں نے کیا، یقیناً وہ اس بات کی اہل ہے کہ دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرے، انسانیت کی رہنما بنے اور تہذیب و تمدن کا پرچم تھامے، جیسا کہ اس نے صدیوں تک کیا۔
لیکن یہ امت اس وقت تک اپنی اصل مقام پر واپس نہیں آ سکتی جب تک وہ رمضان کو باقی مہینوں میں ساتھ لے کر نہ چلے۔
پس ربّانی بنو، رمضانی نہیں!
اور آپ سب کو عید مبارک!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے