कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رؤیت ہلال کے سلسلہ میں سنجیدہ و منظم کوشش کی ضرورت

تحریر: ذکی نور عظیم ندوی۔ لکھنو ٔ

سورج و چاند اللہ کی ان عظیم مخلوقات میں ہیں جن سے نہ صرف گردش لیل و نہار کا تعین ہوتا ہے بلکہ یہ مختلف موسموں و حالات میں بھی اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔ دینی نقطۂ نظر سے بھی اعمال کی صحت اور مختلف مسائل کے تعین میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے مہینوں، عشروں اور دنوں میں چاند کے طلوع کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے روزہ، عید ، بقرعید، حج اور عدت جیسے بعض دیگر مسائل اور ان کے ایام طے پاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ اسلام میں سورج کے مقابلہ چاند کی گردش زیادہ معتبر مانی گئی ہے ، بلکہ غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح ماہ و سال عید و بقرعید اور عشروں کی تعیین میں رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا اسی طرح دن کے مختلف اوقات اور نمازوں کے اوقات کے تعین کے لئے سورج کی گردش کو معتبر مانا گیا ۔
سورج کی گردش کو سائنسی اعتبار سے ٹیکنالوجی کی مدد سے اس طرح مرتب کردیا گیا ہے کہ عام طور پر اس میں تقدیم و تاخیر اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا اور چونکہ نماز کی اوقات کا تعین سورج کی گردش اور اس کے طلوع و غروب اور زوال سے متعلق ہے اس وجہ سے اوقات صلاۃ کے کلنڈر دنیا بھرمیں اس طرح رائج ہیں کہ اس کلنڈر کے مطابق ہی نماز اور اس سے متعلق اعمال انجام دئے جاتے ہیں اور اس پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کیا جاتا ہے اور اس چیز کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ حقیقی طور پر سورج کے طلوع اور غروب کا یقین کیا جائے۔
جب کہ چاند کا نظام کچھ اس طرح ہے کہ اس کے افق پر موجود ہونے یا نہ ہونے کے بجائے عید و بقرعید اور دیگر اسلامی معاملات میں اس کی حقیقی رویت کا اعتبار کیا جاتاہے۔ اور حدیثوں میں صراحت کردی گئی ہے کہ مطلع اگر ابر آلود ہویا بدلی ہو یا بدلی کی وجہ سے چاند کا دیکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائنسی ٹیکنالوجی یا فلکیات کے نظام کی مدد سے اس کے تعین کے بجائے چاندکی حقیقی رویت اور اس کے نکل آنے کے یقین ہوجانے کے بعد ہی اس کااعتبارہوگا اور اگررویت اور اس کی معتبر گواہی کسی صورت میں بھی ممکن نہ ہو تو اسلامی مہینہ ۳۰ دنوں کا مانا جائے گا۔
یوں تو اسلام میں تمام مہینوں کے درمیان کسی خاص قسم کی تفریق کی گنجائش نہیں لیکن رمضان، عید اور بقرعید یہ ایسے اہم اسلامی مواقع ہیں کہ جن کا انحصار چاند کی رویت پر ہے اور اس سلسلہ میں مسلمانوں میں عمومی بیداری اور چاند کے دیکھنے کے یا اس کی یقینی خبر کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ لہٰذا ان تینوں موقعوںپر چاند کی رویت اور اسکی بنیاد پرہی روزہ اور عبادات کا شروع کرنا اورعید یا بقرعید کا منانا منحصر ہے۔ اس وجہ سے ان مہینوں چاند کے دیکھنے کی زیادہ فکر کی جاتی ہے۔
بقرعید چونکہ رؤیت ہلال کے دس دن بعد ہوتی ہے یا رمضان ۳۰ دن کے روزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اس وجہ سے ان دونوں موقعوں پر بھی چاند کی خبر کا انتظار تو رہتا ہے لیکن عید الفطر چاند کی رویت کے اگلے دن بعد ہی ہوتی اور اسی کے ساتھ روزے کا مہینہ بھی ختم ہوتا ہے لہٰذا ان تین مہینوں میں بھی رمضان اور بقرعیدکے چاند کے مقابلے موجود اسلامی سماج میں عید الفطر کے چاند کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔اور اس سلسلہ میں تحقیق کا سلسلہ چاند کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ عام مسلمان بلکہ بہت سے روزہ نہ رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروںتک دراز ہوجاتا ہے اور دیر رات تک چاند کے سلسلہ میں تحقیق دوسرے شہروں میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں سے بھی ہوتی رہتی ہے اور کہیں سے بھی چاند کی رؤیت کی کوئی خبر کسی بھی ذریعہ سے پہونچ جائے تو اس کی بنیاد پر اندازے اور امید پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔
عام طور پر بر صغیر ہند و پاک میں سعودی عرب کے ایک دن بعد عید منائی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی یہ وقفہ ایک دن سے زائد بھی ہوسکتا ہے۔ اور بعض سالوں میں اسی دن دونوں ملکوں میں رؤیت کے امکان کوقطعی طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔ امسال بھی سعودی عرب میں سائنسی جائزہ کے مطابق ۲۹ کی رویت کا امکان بہت کم ہے اوراس کا زیادہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سال وہاں عید ۱۰؍اپریل ۲۰۲۴ء بروز بدھ ہوگی اور اس طرح بر صغیر ہندو پاک میں اس کے ایک دن بعد یعنی ۳۰ویں روزہ کے بعد ۱۱؍اپریل ۲۰۲۴ء بروز جمعرات عید الفطر ہونے کا امکان زیادہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
محکمہ موسمیات اور ماہرین فلکیات کے تجزیہ کے مطابق اس سال چاند کی گردش کچھ اس انداز کی ہے کہ ہندوستان کے بیشتر شہروں میں ۹؍اپریل ۲۰۲۴ء بروز بدھ سورج کے غروب ہونے کے تقریباً ۴۵-۵۰ منٹ تک چاند افق پر موجود رہے گا اور ایسی صورت میں جب کہ نئے چاند کے وجود میں آئے ہوئے تقریبا ۱۹ گھنٹے ہی ہوتے ہیں عمومی رؤیت کا امکان نہیں ہوتا لیکن اونچائی یا خاص قسم کی دوربین سے یا مختلف شہروں میں انفرادی طور پر چند لوگوں کے ذریعہ اس کے نظرآنے کو کلیۃً خارج بھی نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ملک کے بعض حصوں سے شہادت یا چاند کی رؤیت کے دعوی کا امکان بالکل خارج کردینا مناسب نہیں۔
عام طور پر مسلمانوںکا مزاج عید کے موقع پر مختلف شہروں ہی نہیںبلکہ مختلف ملکوں پرچاند کی خبر پر لگی رہتی ہے لہٰذا دیر رات ہی سہی لیکن رؤیت کے سلسلہ میں کم از کم اس سال چاند کی گردش کو دیکھتے ہوئے چند گواہیاں آنے کوقطعاً خارج نہیں کیا جاسکتا اور ایسے موقع پر رؤیت ہلال کمیٹیوں اور چاند سے متعلق اداروں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔لیکن گذشتہ کئی سالوں سے اس سلسلہ میں عمومی طور پر جو سرد مہری دیکھنے میں آئی ہے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کا انتشار واضح ہوکر شرمندگی کا سبب بنا ہے اور ان کی الگ الگ دنوں میں ایک زائد عیدیں ہوئی ہیں وہ باعث تکلیف اور نہایت افسوسناک ہے۔
یوں تو ایک ہی شہر میں کئی کئی چاند کمیٹیاں موجود ہیں لیکن ان میں آپس میں رابطہ اورا تفاق رائے اور باہمی تبادلہ خیال کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بھی دیکھنے کا مقام ہے کہ کیا ان کمیٹیوں میں مسلمانوں کے مختلف طبقات مسلکوں اور تحریکوں ، علماء اور ماہرین فلکیات کی اس طور پر نمائندگی رکھی گئی ہے کہ جس پر ہر طبقہ اعتماد کرسکے اور وقت ضرورت تحقیق میں بھی آسانی ہو۔ اسی طرح ملک کے دوسرے شہروں میں بڑی چاند کمیٹیوں میں آپس میں کتنی تال میل ہے یہ بھی باعث تشویش امر ہے۔ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ عمومی رویت نہ ہونے کی شکل میں چاند کمیٹیاں چاند کا اعلان کرتے وقت اپنے اعلان میں ان بنیادوں کا کتنا تذکرہ کرتی ہیں جس کی بنیاد پر مسلمانوں کو عید مناتے ہوئے مکمل سکون و اطمینان حاصل رہے۔ اور اس طرح چاند کمیٹیوں کے اعتبار میں بھی اضافہ اور آپسی اختلاف و انتشار سے بچتے ہوئے متحدہ طور پر خوشی کے اس موقعہ کو ایک اچھا پیغام بھی دیا جاسکے۔

zakinoorazeem@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے