कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ذات پر مبنی مردم شماری: محض عدد نہ ہو، سماج کی سمت و رفتار کا راستہ ہو

تحریر: رما شنکر سنگھ (تاریخ دان)

برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی نے ہندوستان کے باسیوں کو ہر اس زاویے سے گنا، جس کے تحت انہیں شمار کیا جا سکتا تھا شہری، دیہی، بے گھر، کسان، چرواہے، خانہ بدوش، ہندو، مسلم، سکھ، اینگلو انڈین، قبائلی، چھوت چھات کا شکار طبقات، حتی کہ کچھ کو تو پیدائشی مجرم بھی قرار دے دیا گیا، جیسا کہ 1871 کے "کریمنل ٹرائبز ایکٹ” میں ہوا۔ ہر دس برس پر ان کی تعداد بڑھتی رہی کیونکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کی سفارش پر کلکٹر کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی بھی برادری کو "پیدائشی مجرم” قرار دے دے اور وہ اس کام میں پوری تندہی سے لگے ہوئے تھے۔
برطانوی حکمرانوں نے نہ صرف انسانوں کو، بلکہ سانپوں کی اقسام سے لے کر ریچھوں تک کو گن لیا تھا۔ 1872 میں جب پہلی مردم شماری ہوئی تو ہندوستان کو ایک "اعدادی حکمت سے چلنے والی ریاست” میں بدل دیا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ہندوستانیوں نے اس گنتی کو اپنے اوپر ایک نظم و ضبط کے آلے کے طور پر قبول کر لیا۔
آزادی سے پہلے: مردم شماری، سیاست اور طاقت
اگر آپ آزادی سے قبل کے چار دہائیوں کا باریک بینی سے مطالعہ کریں، تو دیکھیں گے کہ مردم شماری اور اس کے اعداد و شمار، سیاست اور سماجی مطالبات کا محور بنتے جا رہے تھے۔ 1909 کے مارلے-منٹو اصلاحات سے لے کر 1930-31 کے گول میز اجلاس، ذات پر مبنی مردم شماری، اور 1932 کے گاندھی-امبیڈکر پونا معاہدے تک ذات اور اس کی عددی حیثیت نے ہندوستانی سیاست میں ایک گہرا مقام حاصل کر لیا۔
دستور ساز اسمبلی اور مردم شماری
دستور ساز اسمبلی میں 1931 کی مردم شماری کا بار بار ذکر آیا۔ مختلف طبقات کے رہنما اپنی آبادی کے اعداد و شمار پیش کر رہے تھے اور بعض اوقات مردم شماری کے طریقہ کار پر سوالات بھی اٹھا رہے تھے۔ شِبن لال سکسینہ نے 1948 میں کہا کہ شہروں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے، اور الیکشن سے پہلے نئی مردم شماری کی ضرورت ہے تاکہ حلقہ بندی بہتر طریقے سے ہو۔
اسی طرح، آسام کے لیڈر این سی لشکر نے، جو دلتوں کے لیے سرگرم تھے، 1921 سے دلت آبادی میں کمی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بعض برادریوں کی تعداد اچانک گھٹ گئی تھی، جو مردم شماری کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔
اسی زمانے میں، قبائلی رہنما اور ہاکی کے مشہور کھلاڑی جے پال سنگھ منڈا نے کہا تھا کہ ہم (آدیواسی) اس ملک کے اصل وارث اور "اصل دھرتی پتر” ہیں۔ انھوں نے 1931 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو قبائلیوں کی پہچان اور حق تلفی کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا۔
آزادی کے بعد: اعداد و شمار سے ترقی کی سمت
آزادی کے بعد، پنڈت نہرو نے بارہا کہا کہ اتنی بڑی آبادی کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی ضروری ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار، پنچ سالہ منصوبوں کی بنیاد بنے۔
پھر جب کالیلکر کمیشن آیا، اور ڈاکٹر لوہیا نے 90 فیصد عوام کے لیے 60 فیصد مواقع کا مطالبہ کیا، تو یہ اعداد و شمار سیاسی مطالبات کا ہتھیار بن گئے۔ کالیلکر کمیشن کی سفارشات نافذ نہ ہو سکیں۔ 1979 میں منڈل کمیشن نے ذات پر مبنی پسماندگی کی نشاندہی کی اور 27 فیصد ریزرویشن کی بات کی، لیکن جب 1990 میں اسے نافذ کیا گیا تو ملک گیر مخالفت ہوئی، حتی کہ عدالتِ عظمی کو دخل دینا پڑا۔ "کریمی لئیر” کی شرط لگی، لیکن سماجی نابرابری جوں کی توں رہی۔
آج: ذات پر مبنی مردم شماری کا سماجی-معاشی مطلب
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذات پر مبنی مردم شماری ماضی کی طرف لوٹنے والا قدم ہے، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ ذات کا نظام پہلے سے موجود ہے، اور اس کی اصلاح کے بغیر مساوات ممکن نہیں۔ آج کی مردم شماری محض برطانوی دور کی نقل نہیں، بلکہ اس کا مقصد سماجی اور معاشی تفریق کو سمجھنا اور دور کرنا ہے۔
مثال کے طور پر، ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنی کتاب "The Untouchables: Who Were They and Why They Became Untouchables” میں کہا تھا کہ "پیدائشی مجرم” قرار دی گئی برادریوں کی تعداد 2 کروڑ تھی۔ ان طبقات پر بعد میں یو پی اے اور این ڈی اے، دونوں حکومتوں نے الگ الگ کمیشن بنائے، لیکن سب نے 1931 کی مردم شماری پر انحصار کیا۔
یہ کمیشن ذات پر مبنی مردم شماری کو ناگزیر مانتے ہیں تاکہ ان برادریوں کو سماجی انصاف دیا جا سکے۔ آج بھی درج فہرست ذاتوں، قبائل، اور پسماندہ طبقات کی تفصیل موجود نہیں ہے۔ اگر یہ ڈیٹا ہو تو پالیسیاں بہتر بن سکتی ہیں۔
سیاست، فریب اور مردم شماری
زیادہ تر ہندوستانی ذات کے مطابق جیتے ہیں، لیکن ظاہر ایسے کرتے ہیں جیسے ذات سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ سب اپنی آبادی بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں، جبکہ اصل ڈیٹا نہ پالیسی سازوں کے پاس ہوتا ہے اور نہ عوام کے پاس۔
اگر مردم شماری میں صرف اقتصادیات داں ہی نہیں بلکہ انسانیات اور سماجیات کے ماہرین بھی شامل کیے جائیں، جیسا کہ کالیلکر کمیشن نے کہا تھا، تو یہ گنتی حقیقت کے قریب ہوگی۔
یہ مردم شماری صرف اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ "کس ذات کے کتنے لوگ ہیں” بلکہ اس لیے ہونی چاہیے کہ کس کے پاس کتنی زمین ہے، کونسے وسائل پر کس کی اجارہ داری ہے، اور کس کے لیے موقع کہاں کم ہے۔
آخری بات
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے 17 ستمبر 1943 کو کہا تھا کہ اقتصادی نابرابری جمہوریت کو تباہ کر دیتی ہے۔ اگر ذات پر مبنی مردم شماری صرف ایک سیاسی ہتھیار بن گئی، تو یہ محض ایک فریب بن کر رہ جائے گی۔
لیکن اگر یہ مردم شماری ہمیں بتائے کہ ملک میں بے گھر، جھونپڑیوں، پلوں اور پائپوں کے نیچے رہنے والوں کی زندگی کیسے بہتر کی جائے تو یہ ہمارے سماج کو زیادہ منصفانہ بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے