किया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دیولگاؤں مہی کا منفرد رمضان کلچر

تحریر : عبدالرحمٰن ناندیڑ
معلم پی ایم شری ضلع پریشد اردو اسکول دیولگاؤں مہی (ضلع بلڈھانہ)
abdulrehmannanded@gmail.com

رمضان کا مبارک مہینہ آتے ہی بلڈھانہ ضلع کے قدیم و تاریخی قصبہ دیولگاؤں مہی میں دینی ماحول اور روایتی مسلم کلچر کی فضا عام ہوجاتی ہے۔ ابھی ابھی ہوش سنبھالنے والے بچوں سے لے کر ضعیف و ناتواں بزرگ تک ہر کوئی رمضان المبارک کا جوش و خروش سے استقبال کرتا ہے۔ سحر، افطار، نمازیں، تلاوت اور تراویح کے ساتھ ساتھ قصبے میں ہمدردی و غم گساری کے مناظر دیکھنے لائق ہوتے ہیں۔ مسجدیں پانچوں وقت نمازیوں سے بھری رہتی ہیں۔ تراویح کا ہر کوئی خشوع و خضوع سے اہتمام کرتا ہے۔ شہروں کی طرح یہاں پر چند رکعتیں پڑھ کر چلے جانے یا سستی و کاہلی کے ساتھ تراویح ادا کرنے کا ماحول نہیں ہے بلکہ عموماً پوری دلجمعی کے ساتھ تراویح ادا کی جاتی ہے۔ نمازی جس جگہ تراویح کی پہلی رکعت ادا کرتا ہے اسی جگہ بیسویں رکعت بھی ادا کرتا ہے۔ اس قصبے کی مسجدیں صرف عبادات کی جگہ ہی نہیں ہوتیں بلکہ باہمی اخوت و محبت اور ملی ثقافت کا مرکز بھی ہوتی ہیں۔ یہاں کی مسجدوں میں نماز گاہ کے ساتھ ساتھ علاحدہ ہال ہوتا ہے جہاں چھوٹی موٹی سماجی تقریبات، طَعام کے پروگرام وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں دیولگاؤں مہی کو جو چیز دیگر مقامات سے ممتاز کرتی ہے وہ یہاں کا اجتماعی افطار اور طَعام کلچر ہے۔ یہاں کی تینوں مساجد (جامع مسجد، مدینہ مسجد اور چشتیہ مسجد) میں تقریباً ہر روز کسی نہ کسی فیملی کی جانب سے روزہ داروں کے لیے افطار اور طَعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس مبارک کام کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے ہر فیملی کی باری طے ہوتی ہے۔ اس کام کے لیے مسجد میں ایک چارٹ آویزاں کیا جاتا ہے۔ جس فیملی کو جس تاریخ میں دعوت افطار اور طَعام کا انتظام کرنا ہے وہ اس تاریخ کے کالم میں اپنا نام درج کرا دیتے ہیں۔ روزہ دار مسجد میں جمع ہوکر خلوص و محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ افطار کرتے ہیں۔ نماز مغرب ادا کرتے ہیں اور پھر طَعام سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عام طور پر افطار اور طَعام کی یہ دعوتیں مسجد واری محلے کی سطح پر ہوتی ہیں۔ بعض اہل ثروت گھرانوں کی جانب سے سارے قصبے کے روزہ دار مرد و خواتین کے لیے افطار اور طَعام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسی دعوتیں عموماً شادی خانوں اور بڑے مکانوں میں ہوتی ہیں۔ دیولگاؤں مہی کی تقریبات اور دعوتیں تصنع، بے جا تکلفات اور اسراف سے پاک اور سادگی کا مرقع ہوتی ہیں۔ امیر و غریب اور چھوٹے بڑے سب بغیر کسی احساس برتری یا کمتری کے یکساں طور پر ان دعوتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor aitebar news, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے