कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دھڑکا

تحریر: علیم خان فلکی، حیدرآباد

پتہ نہیں کیوں آج کل ایک خیال بہت تنگ کررہا ہے، کوئی بھی کام سوچتا ہوں کہ اگلے ہفتے کروں گا لیکن ایک دھڑکا ہوتا ہے خیال آتا ہے ہوسکتا ہے میں جب تک زندہ نہ رہوں۔ لوگوں نے اتنا مایوس کیا ہے کہ لوگوں کا ہی نہیں خود زندگی کا اعتبار ختم ہوگیا ہے، اچھے اچھے سوٹ بوٹ والے تعلیم یافتہ لوگوں سے ملتا ہوں، اہلِ علم اور اہلِ دانش کو برداشت کرتا ہوں، عام کم پڑھے لکھوں، مالداروں اور غریبوں سے بڑی امید اور اشتیاق سے ملتا ہوں، بڑی پیاری پیاری باتیں، تبصرے اور تجزیئے کرتے ہیں، خوب مشورے دیتے ہیں، بلکہ مشورے ہی مشورے دیتے ہیں۔ ایوسی لے کر لوٹتا ہوں، ایسے لگتا ہے کہ لوگوں سے نہیں اپنے آپ سے مایوس ہوگیا ہوں۔ کہاں سے لاؤں نبیوں کاجگر جنہوں نے کئی سو سال شعور بیدار کرنے کی کوشش کی لیکن کسی کوایک بھی نہیں اور کسی کو صرف چند ساتھ دینے والے ملے۔ خود نبیﷺ کو مکہ کے تیرہ سال میں صرف 70+ لوگ ملے جو ہجرت کے لئے تیار ہوئے، باقی نے کہا آپ صادق ہیں، امین ہیں غریبوں کی مدد کرنے والے ہیں، اس لئے ہم آپ پر اور آپ کے اللہ پرایمان لائے، لیکن اب آپ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر رشتہ دار، اور اُن کے ساتھ کاروبار،باپ دادا کے رسم و رواج، رکھ رکھاؤ سب کچھ چھوڑدیں، سوری یہ ہم نہیں کرسکتے۔ خیر وہ تو اللہ کے نبی ﷺ تھے، اُن کو پھر مدینہ کے گیارہ سال ملے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار ساتھی ملے، لیکن ہم کو تو مکّہ ہی کی کشمکش سے باہر نکلنے کے کوئی راستے نظرنہیں آتے۔ وہی ہر سو منافق جو کلمہ توپڑھتے ہیں، لیکن اس کے تقاضے سمجھنا نہیں چاہتے، وہی جو اپنا گھر رشتہ دار اور کاروبار چھوڑنا نہیں چاہتے، باپ دادا کے رسم و رواج چھوڑنا نہیں چاہتے، اگر اُن کو اِس دھرم کو چھوڑنے کی بات کہیں تو جان اور عزت کے دشمن ہوجاتے ہیں، کہتے ہیں لیڈربننے کی کوشش ہے، اچھے انسان ہیں لیکن دین سے باغی اور علما کے مخالف ہیں، عقائد میں گڑبڑ ہے، علم اور حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہ سب چندے وصول کرنے کے دھندے ہیں، ایسے لوگ حکومت کے مخبر ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
اس لئے لوگوں سے مایوسی بہت بڑھ گئی ہے، لیکن مایوسی کفر ہے، اس لئے اس کوفت کو مٹانے کے لئے اپنی مصروفیات کو بہت زیادہ بڑھانا پڑا تاکہ مایوسیوں اور زخموں کو یاد کرنے کا وقت ہی نہ رہے۔ ہم اپنی مایوسی کا اظہار اس لئے نہیں کرسکتے کہ ڈرتےہیں کہ سننے یا پڑھنے والے ’’مایوس نہ ہونے‘‘ پر ایک تقریر نہ شروع کردیں، لیکن مصروفیات کو بڑھا کر کام کی رفتار کو دُگنی کردینے کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔ اللہ کے پاس تو ایک ہی سوال ہونے والا ہے ’’وقت‘‘ کا ۔ کہ ’’دنیا میں کیا کرکے آئے؟‘‘ تو کچھ پیش کرنے کے لئے یہ تو رہے کہ یہ مضامین ہیں جو کسی نے پڑھے نہیں، یہ ویڈیوز، آڈیوز، سیمینارز، ورکشاپس وغیرہ ہیں جن کو لوگوں نے سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کی، یہ گالیاں اور کچھ جوتے ہیں جو لوگوں نے تیرا اور تیرے نبی ﷺ کا نام لینے پر لگائے، یہ دھوکے ہیں جو اپنوں نے اور غیروں نے ہمارے حمایتی، دوست، رشتہ دار اور فدائی بن کر دیئے، کچھ نے پیٹھ میں چُھرے بھونکے، کچھ نے پیٹھ پیچھے خوب مذاق اڑایا اور سنی سنائی الزام تراشیاں کیں، یہی لوگ جب سامنے آئے تو ہم ان سے والہانہ ملے اور ایسا تاثر دیا کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ پیٹھ پیچھے کیا کیا کیا۔ اور وہ ہمیں بے وقوف سمجھ کر اپنی جیت پر مسکرانے لگے، گرمجوشی سے ہاتھ بھی ملاتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ پیش کرنے کے لئے کچھ ہے بھی نہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے