कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دھنیا کے کارنامے

{ دی ونڈر بک فور ینگ فولکس آف انڈیا سے لیا گیا ہے }

مترجم :صحافی محمد احسان سر
ملکاپور ، ضلع بلڈھانہ ، مہاراشٹر

دھنیا پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا جس کے والدین کبھی بہت خوشحال تھے اور بعد میں بدقسمتی سے غریب ہو گئے۔ امیری سے غریبی کی طرف اچانک آجانے پر شرمندہ ہو کر، وہ اپنا آبائی شہر چھوڑ کر اونتی شہر میں آباد ہو گئے۔ وہاں، وہ اپنی تباہ و برباد ہوچکی ملکیت میں سے جو کچھ بچا پائے تھے، اس سے اس کے والد نے شہر کے مضافات میں ایک چھوٹی سی زمین خریدی اور سبزی اگانے کا کام شروع کر دیا اور باغبانی کرنے لگے. سچ مُچ یہ خاندان برے وقتوں سے گذر رہا تھا اور وہ ایک چھوٹی سی گھاس پھوس کی جھونپڑی جو مٹی سے چکنی کی ہوںٔی تھی رہے رہیں تھے، اور زمین سے روزی کما کر اپنا گذر بسر کررہے تھے۔
دھنیا کی عمر اس وقت صرف دس سال تھی، لیکن اسے اس کی عمر سے زیادہ حکمت عطا ہوئی تھی۔ وہ کفایت شعار اور محنتی بھی تھا۔ جب کہ اس کے بھائی بیکار بیٹھنا پسند کرتے تھے اور وہ خاندان کا گذر بسر چلانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرتے تھے، اور وہی دھنیا اپنے والدین کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا. اس لیے اس کے والدین اسے اپنے بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ پسند کرتے تھے اور اسے دوسروں کے لیے ایک نمونہ کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اس وجہ سے اس کے بھائی دھنیا کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے حسد کرتے تھے. دھنیا معمولی معاوضے کے عوض شہریوں کے مویشی چراتا تھا اور اس طرح اپنے خاندان کی کفالت میں اپنی تھوڑی ۔بہت آمدنی سے اضافی مدد کرتا تھا۔
ایک دن ان شہریوں میں سے ایک جن کے مویشی اس نے چرائے تھے، لڑکے کے اس اچھے کام سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے اسے ایک بہت ہی عمدہ مینڈھا تحفے میں پیش کیا دھنیا کی دیکھ بھال میں یہ ایک خوبصورت جانور ،بڑا مضبوط اور حوصلہ مند تواں بن گیا، ان دنوں مینڈھوں کی لڑائی (مقابلہ ) اونتی کے لوگوں کا پسندیدہ کھیل تھا، اور یہاں تک کہ اس جگہ کے بادشاہ کو بھی تفریح ​​کا بڑا شوق تھا، اور ان کے پاس بھی مقابلے کے لئے ملک کے بہترین لڑاکو مینڈھے تھے۔ بادشاہ کا بیٹا بھی اس کھیل کا بہت شوقین تھا اور شاہی لڑائی کے مینڈھوں میں سے ایک مینڈھا ایسا بھی تھا جس پر شہزادہ بہت مغرور تھا. یہ بہت سی لڑائیوں کا ہیرو تھا، اور ایک ناقابل شکست چیمپئن کے طور پر اس کی شہرت مملکت کے تمام حصوں میں پھیل چکی تھی. شہزادے نے دور دور تک یہ اعلان کیا تھا کہ اس کا چیمپئن مینڈھا کسی کی بھی للکار کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے اور تمام آنے والوں سے مقابلہ کرنے کے لئے کھلا ہے، اور اس نے ہر اس شخص کو ایک ہزار سونے کے مہر کا انعام دینے کا اعلان کیا جو اس کے مینڈھے کو ہرانے ( شکست) دینے کے لئے ایک ایسا مینڈھا تیار کر سکے. دھنیا نے شہزادے کا انعام جیتنے پر اپنا دل لگا لیا. اس کی ایک سوچ یہ تھی کہ وہ اپنے والدین کو دوبارہ خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے. اس لیے اس نے مقابلے کے لیے اپنے مینڈھے کو تربیت دینے میں بہت تکلیف اٹھائی، اور جب اسے اطمینان ہوا کہ اس کا مینڈھا اچھی طرح لڑائی کے لئے تیار ہے، تو اس نے شہزادے کے چیلنج کو قبول کرنے کا حوصلہ کیا. شہری اس وقت حیران رہ گئے جب یہ معلوم ہوا کہ چیلنج کرنے والا ایک غریب مویشی چرانے والا تھا جس کی عمر صرف دس سال تھی. بہت سے لوگوں نے شک میں سر ہلایا اور سوچا کہ یہ ایک بڑا مذاق ہے.
( بقیہ حصہ آںٔندہ پڑھیں )

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے