कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دو ریاستی حل کی اصطلاح مسترد، پورا فلسطین ہمارا ہے:خالد مشعل

دوحہ :18؍جنوری:اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے اپنی جماعت اور فلسطینی عوام کی جانب سے دو ریاستی حل کی اصطلاح کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے فلسطینی عوام آزادی، اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے سے نجات، مکمل خود مختار ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔مشعل نے عمار پوڈ کاسٹ کے دوران کہا کہ "مغرب یہ بات کر رہا ہے کہ 7 اکتوبر کی جنگ نے سیاسی نقطہ نظر کے مسئلے کے لیے ایک افق کھول دیا، اور یہاں سے وہ اپنی پرانی چیز کی طرف لوٹ رہے ہیں جو کہ دو ریاستی حل ہے”۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فلسطینی قوم دو ریاستی حل کی اصطلاح کو قبول نہیں کرتی۔ جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہمیں اپنی ریاست اس وقت ملے گی جب ہم ایک دوسری غاصب ریاست کو تسلیم کریں گے یعنی ہم اسرائیل کا ناجائز تسلط قبول کریں۔انہوں نے کہا کہ حماس کا موقف اور فلسطینی قوم کی اکثریت کا موقف دریائے اردن سے بحر مردار تک فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ ہے اور سات اکتوبر کی کارروائی میں اس مطالبے کی تجدید ہوئی ہے۔انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیوں؟ فلسطینیوں کو فلسطین کا پانچواں حصہ قبول کرنا پڑے گا۔ یہ کون سا منصفانہ حل ہے۔ سنہ1967 کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقے کل فلسطین کا 21 فیصد ہیں جب کہ فلسطینی ریاست کو فلسطین کی کل پانچ فی صد اراضی پر ریاست کی بات کی جا رہی ہے۔خالد مشعل نے اس بات پر زور دیا کہ سارا فلسطین ہمارا ہے۔ سمندر سے دریا تک اور راس الناقورہ سے ام الرعش یا خلیج عقبہ تک یہ ہمارا فلسطینیوں کا حق ہے۔ یہ ہماری سرزمین ہے۔ سرزمین پر ہماری موجودگی آج بھی ہے اور ہزاروں سال سے ہے۔ جب کہ ناپاک صہیونی ریاست کا وجود 1948 کے بعد کا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے