कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دوسری شادی ، خواہش نہیں بلکہ ایک سماجی ضرورت

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
ڈائریکٹر: وی آئی پی پیامات شادی سینٹر، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

دنیا بھر میں عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مطلقہ اور بیواؤں کی تعداد بھی کم نہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو زندگی کے کسی موڑ پر سہارا، تحفظ، اور محبت سے محروم ہو چکی ہیں۔ اگر کوئی مرد صاحبِ استطاعت، باکردار، اور ذمے دار ہے تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا نہ صرف ایک سنت بلکہ ایک سماجی ضرورت بھی ہے۔
اسلام نے تعددِ ازواج کو خواہش پر مبنی نہیں رکھا بلکہ اسے عدل، کفالت، اور معاشرتی توازن کے اصولوں سے جوڑا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
“فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً”
یعنی "پس ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں: دو، تین یا چار۔ اور اگر عدل کا خوف ہو تو ایک پر اکتفا کرو۔”
یہ آیت خود ظاہر کرتی ہے کہ اسلام نے تعددِ ازدواج کو وسعتِ رحمت کے طور پر رکھا ہے، نہ کہ ظلم یا خواہش کے اظہار کے طور پر۔
ابن سینا کہتے ہیں: “جس معاشرے میں مرد صرف ایک بیوی پر اکتفا کرتے ہیں، وہاں عورتیں بے سہارا ہو جاتی ہیں، اور سماج کمزور پڑ جاتا ہے۔”
اسی طرح ابن خلدون نے لکھا: “میں نے جن قوموں کو زوال پذیر دیکھا، ان میں ایک بیوی پر قناعت کرنے کا رجحان عام تھا۔”
یہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ دوسری شادی کو صرف ذاتی معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے اجتماعی فلاح سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔
بدقسمتی سے آج کی عورت اگر اپنے شوہر کی دوسری شادی کی بات سنتی ہے تو اسے اپنی توہین سمجھتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے گھر کا بوجھ، ذمہ داریاں، اور نفسیاتی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ ازدواجی تعلقات میں توازن پیدا ہوتا ہے، اور وہ عورتیں جو بیوہ یا مطلقہ ہیں، انہیں نئی زندگی کا موقع ملتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں کئی بیوائیں اور مطلقہ خواتین شامل تھیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دوسری شادی کا مقصد محض خواہش نہیں بلکہ کسی محروم عورت کو عزت و سہارا دینا ہے۔
آج کے حالات میں جہاں لاکھوں بیوائیں اور مطلقائیں تنہائی، غربت اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں، وہاں دوسری شادی کا رجحان سماجی عدل اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے اپنانا چاہیے۔
اگر ہمارے معاشرے میں باشعور خواتین اس حقیقت کو سمجھ جائیں کہ دوسری شادی کسی کے حقوق چھیننے کے بجائے محروموں کو حق دینے کا عمل ہے، تو نہ صرف خاندانی نظام مضبوط ہوگا بلکہ معاشرتی امن و سکون بھی بڑھے گا۔
“جو مرد اپنی دوسری شادی سے کسی بے سہارا خاتون کو سہارا دے، وہ دراصل ایک گھر، ایک خاندان اور ایک عزت کو بچاتا ہے۔”
اسلام میں دوسری شادی اجازت ہے، مجبوری نہیں۔ مگر جب بیواؤں، مطلقاؤں اور تنہا عورتوں کی کثرت ہو جائے تو یہ اجازت رحمت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی مرد صاحبِ حیثیت اور ذمہ دار ہو، اور عدل کے ساتھ ایک اور عورت کو زندگی کا سہارا دینا چاہے، تو اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے نہ کہ ملامت۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے