कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دوسرا عشرہ مغفرت کی ہمہ گیر صدا اور رجوع الی اللہ کی گھڑی

تحریر:ڈاکٹر محمد سعیداللہ ندوی
ناظم جامع الحسنات للبنات دوبگا، لکھنؤ
رابطہ:8175818019

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور انوارِ الٰہی کا ایسا خزانہ لے کر آتا ہے جس کی مثال سال کے کسی اور مہینے میں نہیں ملتی۔ یہ مہینہ دراصل انسان کی روحانی تربیت کا ایک مکمل نصاب ہے۔ اس کے دن ضبطِ نفس کی مشق ہیں اور اس کی راتیں راز و نیاز کی ساعتیں۔ اس کے تین عشرے گویا روحانی سفر کے تین مراحل ہیں۔ پہلا عشرہ رحمت کا پیامبر ہے جوتقریبا گزرچکاہے، دوسرا مغفرت کی نوید سناتا ہے اور تیسرا نجات کی خوشخبری دیتا ہے۔
دوسرا عشرہ اس روحانی سفر کا نہایت اہم موڑ ہے۔ اگر پہلے عشرے میں بندے نے اپنے دل کو نرم کیا، اپنی زبان کو ذکر کا عادی بنایا اور اپنے اعضاء￿ کو گناہوں سے روکا تو دوسرا عشرہ اس کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بندہ اپنے ماضی کی لغزشوں کو یاد کر کے اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے اور دل کی گہرائیوں سے معافی کا طلبگار بنتا ہے۔
مغفرت کا مفہوم محض گناہوں کی فہرست کو مٹا دینا نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن کو پاکیزہ بنانے کا عمل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو معاف فرماتے ہیں تو وہ اس کے دل پر پڑی سیاہی کو دھو دیتے ہیں، اس کے ضمیر کو تازگی عطا کرتے ہیں اور اس کے قدموں کو سیدھی راہ پر جما دیتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کی تلاش میں انسان ساری عمر سرگرداں رہتا ہے۔
رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کمزور ہے، خطاکار ہے، لغزش اس کی سرشت میں شامل ہے، مگر مایوسی اس کا مقدر نہیں۔ اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور مغفرت کی بارش اس کے انتظار میں ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ سچے دل سے پلٹ آئے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور آئندہ کے لیے اصلاح کا عزم کرے۔
آج کا انسان بظاہر آسودہ ہے مگر باطن میں بے چین ہے۔ اس کے پاس وسائل ہیں مگر سکون نہیں۔ ترقی کی چکاچوند نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے مگر دل کی تاریکی باقی ہے۔ ایسے ماحول میں رمضان کا دوسرا عشرہ ایک روحانی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی دل کی صفائی میں ہے، اصل سکون اللہ سے تعلق میں ہے اور اصل عزت اس کے حضور جھکنے میں ہے۔
جب بندہ سحر کے وقت اٹھتا ہے، تنہائی میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور آنسوؤں کے ساتھ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے معاف کر دے، تو اس کی یہ فریاد عرش تک پہنچتی ہے۔ اس لمحے اس کا دل دنیا کی ہر آلائش سے پاک ہونے لگتا ہے۔ یہی دوسرا عشرہ ہے جو بندے کو اپنے رب کے قریب لے آتا ہے اور اس کے اندر ندامت کی وہ چنگاری روشن کرتا ہے جو اصلاح کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
یہ عشرہ ہمیں اپنے تعلقات کی اصلاح کی بھی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم اللہ کی مغفرت چاہتے ہیں تو ہمیں بندوں کو بھی معاف کرنا ہوگا۔ دل میں پلنے والی رنجشیں انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ کینہ اور حسد عبادت کی روح کو کمزور کر دیتے ہیں۔ مغفرت کا حقیقی راستہ یہی ہے کہ ہم اپنے دل کو صاف کریں، اپنے بھائی کو معاف کریں اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔
رمضان کا دوسرا عشرہ دراصل خود احتسابی کا زمانہ ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہماری نمازوں میں خشوع کتنا ہے، ہماری زبان کتنی محفوظ ہے، ہماری نگاہ کتنی پاک ہے، ہمارا رزق کتنا حلال ہے۔ یہ سوالات ہمیں اپنے آپ سے پوچھنے چاہییں۔ مغفرت ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے عیبوں کو پہچانتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن کریم اس عشرے کی روح ہے۔ قرآن دلوں کو نرم کرتا ہے، انسان کو اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور اسے اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہیں تو ہمیں اپنی کوتاہیاں نظر آتی ہیں اور توبہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو مغفرت کا دروازہ کھولتی ہے۔
استغفار اس عشرے کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ زبان پر استغفار، دل میں ندامت اور عمل میں تبدیلی—یہ تینوں مل کر بندے کو مغفرت کے قریب کر دیتے ہیں۔ استغفار ایک لفظ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، ایک عاجزی ہے، ایک اعتراف ہے کہ میں خطاکار ہوں اور میرا رب بخشنے والا ہے۔
یہ عشرہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جذباتی کیفیت کو مستقل مزاجی میں بدلنا ضروری ہے۔ چند آنسو کافی نہیں، بلکہ کردار کی تبدیلی درکار ہے۔ اگر ہم نے جھوٹ چھوڑ دیا، ظلم سے کنارہ کشی اختیار کر لی، نماز کو اپنا معمول بنا لیا اور حرام سے بچنے کا عزم کر لیا تو یہی حقیقی مغفرت ہے۔
آج دنیا نفرتوں اور تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے میں رمضان کا دوسرا عشرہ ہمیں جوڑنے کا پیغام دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک رب کے بندے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی اختیار کرنی ہے۔ اگر دل صاف ہوں گے تو معاشرہ بھی پاکیزہ ہوگا۔
رمضان کا دوسرا عشرہ امید کی نوید ہے۔ چاہے گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت ان سے بڑی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم سچائی کے ساتھ رجوع کریں۔ یہ عشرہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا رخ بدلیں، اپنے دل کو پاک کریں اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کریں۔
اگر ہم نے اس عشرے کی قدر کر لی تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔ دل کی سختی نرم ہو سکتی ہے، آنکھیں اشک بار ہو سکتی ہیں اور روح کو سکون نصیب ہو سکتا ہے۔ یہی اس عشرے کا اصل پیغام ہے کہ مغفرت مانگو، اصلاح اختیار کرو اور امید کا دامن نہ چھوڑو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عشرے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہمیں اپنی رضا کا مستحق بنا دے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے