कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دنیا ایک خوبصورت دھوکہ

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی ہربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
اکثر ہمیں صحرا اور ریگستان میں کہیں دور چمکتی ہوئی ریت پانی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ وہاں جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں وہ پانی نہیں ریت ہے۔ بس اسی طرح دنیا کی مثال ہے، یہاں روزانہ پرفریب، دلکش اور گلیمر مناظر اپنی طرف مائل کرتے ہیں، قرآن نے اس بات کو ان الفاظ میں کہا ہے۔ جس کا مفہوم ہے۔ مال، اولاد دنیا کی زینت ہے، اور آخرت کامیابی کا ضامن۔ اور جان لو کہ مال اور اولاد آپ کو کہیں اللہ کی یاد اور اس کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ ہم میں سے ہر شخص یہ جانتا ہے کہ موت ایک دن واقع ہونے والی ہے، اور سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا سچ موت ہے۔ پھر بھی ہم مطمئن ہیں اور اللہ کے ذکر سے غافل ہیں۔ اللہ کا ہم پر بڑا کرم یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو موت کے وقت سے آگاہ نہیں کیا کہ کب اور کہاں واقع ہوگی۔ اگر خدائے برتر ہم پر یہ واضح کرتا کہ ہماری موت فلاں دن، فلاں ہفتہ، فلاں مہینہ اور فلاں سال واقع ہونے والی ہے۔ تو ہم بے تاب موت تک بے چین اور پریشان ہو جاتے۔ راتوں کی نیند اڑ جاتی اور کسی چیز میں دل نہیں لگتا، اور یہاں تک کہ کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگتا۔ یہ خدا کا سسٹم ہے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے یہ ہم پر واضح نہیں کیا ہے۔ ہمیں موت کو یاد رکھنے کا حکم ہے، کہ موت واقع ہونے والی ہے۔ لہٰذا ہم موت سے قبل آخرت کی تیاری کریں۔ لیکن ہم موت کو کچھ زیادہ ہی بھول چکے ہیں۔ اور دنیا کی زینت اور اس کے فریب میں کھو چکے ہیں۔ حدیث میں ہے، جس کا مفہوم ہے دنیا ایک مردار شے ہے، اور اس کے پیچھے دوڑنے والے، اور اس کو طلب کرنے والے کلاب کے مانند ہیں۔ جہاں دنیا ایک گلیمر اور خوبصورت دھوکہ ہے، وہیں انسان کی زندگی مختصر بھی نہیں، لیکن اس ذرا سی زندگی میں انسان ھل من مزید کہہ رہا ہے۔ اور بے ساختہ دنیا کی طرف دوڑے چلا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر انسان کو ایک پہاڑ سونے کا دیا جائے، تو وہ دوسرے سونے کے پہاڑ کو طلب کرے گا۔ انسان کی خواہشات کو موت ہی قدغن لگا سکتی ہے، اور انسان کی خواہشات کا اختتام موت ہی ہے۔ ہم چاہے موت کو کتنا ہی کیوں نہ بھول جائیں، لیکن خدا کا نظم اور دستور ہے کہ اس نے وقت کو بنایا ہے۔ وقت ہی انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اب میں کمزور اور ناتواں ہو گیا ہوں، تب اس کو موت شدت سے یاد آتی ہے۔ لیکن جو دنیا پرست اور مادہ پرست انسان ہوتا ہے، اس کو عمر کے آخری مرحلے میں بھی دنیا اور مال کی خواہشات بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ قبر میں پہنچ جاتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے، انسان سے مخاطب ہے۔ کیا تم نے یہ گمان اور سوچ رکھا ہے کہ ہم نے یوں ہی پیدا کیا ہے؟ اور کیا تم مر کر اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے آخرت کو خالص نیت سے طلب کیا تو دنیا ذلیل ہو کر اس کے قدموں میں آ جاتی ہے۔ اور اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے۔ اور جس شخص کی طلب نیت دنیا ہو اللہ اس کے پیشانی پر فقر اور غریبی ثبت کر دیتا ہے۔ اور دنیا اس کو اتنی ملتی ہے جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہو۔ لیکن کتنے لوگ آنکھ رکھتے ہیں، وہ حقیقت میں اندھے ہیں۔ کیونکہ وہ دنیا کو ہی اس آنکھ سے سب کچھ سمجھتے ہیں، جو کہ سراسر دھوکہ اور خسارہ ہے۔ اللہ نے تیسری آنکھ بنائی ہے، جس سے انسان زندگی کے بعد مشاہدہ کرے گا۔ لیکن خدا نے یہ سب وارننگ اپنے کلام قرآن مجید میں بیان کی ہے۔ کہ ہم نے آپ کو یوں ہی پیدا نہیں کیا۔ زندگی اور موت کو ایک آزمائش اور امتحان کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اللہ کے پاس دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ دنیا میں اس طرح زندگی گزارو، گویا کہ آپ اجنبی یا مسافر ہیں۔ انسان کی زندگی درخت کے سائے کے برابر نہیں، جس طرح درخت کا سایہ فوری زائل ہو جاتا ہے، اسی طرح زندگی کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔
ایک یہ جہاں، ایک وہ جہاں۔
ان "دو جہاں” کے درمیان
بس فاصلہ ہے ایک "سانس” کا
جو چل رہی تو یہ جہاں
جو رک گئی تو وہ جہاں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے