कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دارالعلوم سے پڑھا ہوا طالبعلم اب ڈاکٹر بھی بنے گا

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

حدیث میں ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ خداے برتر نے بھی قرآن کریم میں سب سے پہلے علم سیکھنے اور سکھانے کو کہا ہے۔ ہمارے ملک عزیز میں دینی تعلیم کے ادارے اور جامعات و کلیات کی کمی نہیں ہیں۔ اور الحمد للہ یہی دارالعلوم جامعات علم دین پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی روشناس کروانے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ یو ں کہے کہ یہ دین کے ادارہ قوم و ملت کا ایک بہترین اثاثہ ہے۔ جس کے بغیر ہماری شناخت ممکن نہیں ۔ علماء و فقہاء انبیاء کے وارث ہیں۔ اگر ان کی کمی ہو تو یقینا ہماری اور قوم ملت کی ترقی کی راہیں مسدود ہونگی۔ اس لیے ہمیں ان دین کے قلعوں کو مظبوط کرنا ضروری ہے۔ بلکہ یہ ہمارے لیے فرض عین ہے۔ کیونکہ اسی اداروں سے طلباء کی وہ پرورش ہوتی ہے ، جس سے وہ دینی علوم پر محنت کرکے عصری تعلیم حاصل کرنے میں بھی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے آزادی سے لیکر اب تک دینی مدارس دینی جامعات اور دارالعلوم نے وہ علماء اور فضلاء پیدا کیا۔ جنہوں اپنے علم کی لوگوں میں ضیاء پاشی کے ساتھ ساتھ مختلف علمی شخصیات پر تحقیقی مقالہ جات لکھے، اور Ph.D کی ڈگری سے تفویض ہوے۔ اور بہت سارے طلباء مدارس علم دین حاصل کرنے کے ساتھ بارہویں امتحانات میں نمایاں نشانات حاصل کرنے کے بعد نیٹ کے امتحان میں تشفی بخش نمبرات لیکر شعبہ طب مکمل کرکے ڈاکٹرس اور اطباء بنے ہیں۔ جو ہمارے اور قوم و ملت کے لیے باعث فخر اور قابل رشک ہیں۔ دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ طلباء کی فکری اور ذہنی استعدا پیدا ہوتی ہے ۔ اور کسی بھی میدان میں کم نہیں ہوتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں عصری تعلیم کی سوجھ بوجھ نہیں رہتی۔ اور نہ ہی وہ اطمینان بخش انگلش سے واقف ہوتے ہیں۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ۔ مدرسہ اور دارالعلوم کے فارغین مختلف یونیورسٹیز سے محکمہ طب سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جب وہ دینی تعلیم کے حصول کے بعد عصری تعلیم میں کوشاں ہوتے ہیں ، تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر ان جیسی صلاحیت اور استعداد اوروں میں بہت کم نظر آتی ہے۔ چنانچہ آج قوم و ملت کو ہمدرد اور اچھے ڈاکٹرس کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ آج جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم یوگا کہ صحت عامہ بہت زیادہ گرتا جارہا ہے۔ لوگ مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلاء ہورہے ہیں۔ ایسے میں جو غیر ہمدرد اطباء ہیں ، وہ زیادہ فیس لیتے ہیں ، جس سے غریب لوگوں کو کافی پریشانی ہوتی ہے۔ انسانی خدمت بھی خدائ خدمت کے مترادف ہے۔ علم دین حاصل کرنے کے بعد علماء حفاظ شعبہ طب سے وابستہ رہیں تو بہت حد تک یہ لوگ قوم و ملت کا درد بہتر طریقہ سے سمجھ سکتے ہیں ۔ اور غریب نادار لوگوں کی کسی حد تک علاج و معالجہ میں آسانی ہوسکتی ہے۔ الحمد اللہ آج ہندوستان میں بڑے بڑے دارالعلوم ہیں جس میں عربی کے ساتھ ساتھ عصری علوم پڑھاے جاتے ہیں۔ جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا میں شعبہ حفظ عالمیت کے ساتھ MBBS کا لج بھی ہے۔ جہاں علماء کو بھی مواقع حاصل ہیں ، اگر وہ اس میں دلچسپی اور اشتیاق رکھتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اب مدرسہ کے فارغین بھی اپنی شناخت کو قائم رکھتے ہوے ڈاکٹرس انجنئیر وکیل بن سکتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ I.A.S UPSC کے امتحانات میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ ابھی منہاج العلوم رنجنی جو جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کی شاخ ہے ، وہاں سے ایک طالب علم تصدق حسین جو پربھنی کے ہیں جو منہاج العلوم رجنی سے حافظ قرآن ہے نے ابھی چند دنوں قبل NEET 2025 میں 532 مارکس سے امتحان پاس کیے ہیں۔ اور جلد ہی شعبہ طب میں داخلہ لینگے ۔ اگر ہم ماضی قریب کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس ملک عزیز میں مدرسہ سے پڑھے ہوے طلباء نے ایک تاریخ مرتب کی ہے۔ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد جو ایک مدرسہ کے طالب علم تھے۔ وہ ملک عزیز ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے۔ اور بہترین سیاست دان اور ملک عزیز میں تعلیم کا بہترین نظم قائم کیا۔ مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی نوراللہ مرقدہ ۔ مدرسہ کے طالب علم تھے۔ جن کی ابتدائ تعلیم ایک مدرسہ سے ہوئ۔ اور بعدہ دارالعلوم ندوة العلماء سے تعلیم حاصل کی۔ اور انہوں نے کئ قیمتی کتب تصانیف کی ہیں۔ کچھ کتابیں تو عرب ممالک کے کلیات اور جامعات میں نصاب کے طور پر شامل ہیں۔ عربی اور انگلش زبان پر وہ مہارت اور قدرت تھی ۔ جب وہ عرب ممالک میں عربی میں تقریر کرتے تو لوگ ڈکشنری تلاش کرتے کہ حضرت نے یہ کونسا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور جب مغربی ممالک کا دورہ کرتے اور وہاں انگلش تقریر کرتے تو اہل زباں عش عش کرتے ۔ اور یہی نہیں بلکہ مختلف ممالک کی یونیورسٹیز نے مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمة اللہ کو اعزازی رکنیت سے بھی نوازا تھا۔ انشاء اللہ اب دین کے قلعوں سے بھی قوم و ملت کو نفع رسانی کے لیے جید علماء کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس اطباء بھی نکلیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے