कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خود سے دوستی کر لیجیے، زندگی بہت مختصر ہے

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
معلمہ ضلع پریشد اردو بوائز اسکول بودوڈ ،ضلع جلگاؤں
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

زندگی کے ہنگامہ خیز سفر میں ہم اکثر دوسروں کے رویوں کے اسیر بن جاتے ہیں۔ کسی کے ایک لفظ، کسی کے ایک تیکھے جملے یا بے توجہی کے کسی لمحے کو ہم اپنے دل کے گرد لپیٹ لیتے ہیں اور پھر وہی لمحہ ہماری زندگی کی خوشیوں اور اطمینان پر غالب آجاتا ہے۔ ہم مسکرانا بھول جاتے ہیں، جینا بھول جاتے ہیں اور اپنے اندر کے روشن حصے کو اندھیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ مگر کبھی رک کر سوچا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی دراصل اتنی ارزاں نہیں کہ ہم اسے دوسروں کی ناپسندیدگی کے خوف میں گزار دیں۔زندگی جینے کا ہنر اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان یہ سیکھ لے کہ دوسروں کی رائے کو خود پر حکومت نہ کرنے دے۔ ہر شخص کا زاویۂ نظر الگ ہے اور ہر فرد کی سوچ مختلف۔ کوئی آپ کو سمجھ نہیں پایا تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔شاید اُس شخص کی نگاہ میں وہ روشنی نہیں تھی جو وہ آپ کی اچھائیوں اور خوبیوں کو دیکھ پاتا۔ اس لیے افسوس کرنے کے بجائے مسکرائیے کیونکہ یہ مسکراہٹ ہی آپ کا اعلانِ حیات ہے۔
انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی خاموش خود اعتمادی ہے۔ وہ اعتماد جو چیخ کر نہیں بلکہ سکون سے کہتا ہے کہ "میں خود کو جانتا ہوں، مجھے کسی کی توثیق درکار نہیں۔” یہ احساس جب دل میں جگہ بنا لیتا ہے تو انسان کے اندر کی بےچینی خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔ پھر تنقیدیں زخم نہیں بن پاتیں بلکہ درسِ حیات بن جاتی ہیں۔ہمارا زندگی جینے کا طریقہ اوروں سے مختلف ہوسکتا ہے کیونکہ عام طور پر دنیا میں دو اقسام کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو دوسروں کے اپروول پر زندہ رہتے ہیں۔انھیں اپنی شخصی اوصاف، کامیابی اور خوشیوں کے لیے دیگر لوگوں کی رائے اور ریمارکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دوسرے وہ جو اپنے ضمیر کی آواز پر زندگی گزارتے ہیں۔ اپنے کاموں اور کارکردگی سے مطمئن ہوتے ہیں۔پہلا گروہ ہمیشہ تھکن کا شکار رہتا ہے اور دوسرا پر سکون۔ جو لوگ اپنی خوشی کے فیصلے خود کرتے ہیں، وہ کبھی حالات کے غلام نہیں بنتے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خوش رہنا صرف ایک چوائس نہیں بلکہ ایک شعوری فیصلہ ہے۔اگر آپ کو کبھی زندگی کے دباؤ، رشتوں کی پیچیدگیوں یا ماضی کی یادوں نے تھکا دیا ہو تو خود سے بھاگنے کے بجائے خود کے قریب جائیے۔ ایک کپ چائے کے ساتھ چند لمحے خاموشی میں گزاریں۔ خود سے گفتگو کیجیے، جیسے کسی پرانے دوست سے بات کر رہے ہوں۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ آپ کے اندر کتنا حوصلہ، کتنی روشنی اور کتنا سکون چھپا ہوا ہے۔ بس بات یہ ہے کہ آپ نے کبھی خود کو وقت ہی نہیں دیا اور نہ ہی خود کو جانا ہے۔غم اور تکلیف زندگی کے لازمی حصے ہیں۔ مگر انسان وہی کامیاب ہوتا ہے جو انہیں اپنی شخصیت کا مرکز نہیں بناتا۔ دنیا کے کامیاب ترین اور خوش ترین لوگ وہ نہیں جو دکھ سے آزاد ہیں بلکہ وہ ہیں جنہوں نے دکھ کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر طوفان کے بعد ایک پرسکون خاموشی ہوتی ہے اور ہر زخم کے لگنے کے بعد حوصلوں کو ایک نئی روشنی ملتی ہے جو حالات سے نبردآزما ہونے میں کام آتی ہے۔
زندگی کی خوبصورتی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آپ کسی دکھ کے باوجود مسکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ حوصلہ انسان کے کردار کو بلند کرتا ہے۔ لوگوں کے رویے اگر تلخ ہوں، ان کے الفاظ اگر چبھ جائیں تو یاد رکھیے کہ ان کا زہر صرف تب اثر کرتا ہے جب آپ اسے دل میں جگہ دیتے ہیں۔ دل کے دروازے پر پہرہ رکھیے۔ صرف ان احساسات کو اندر آنے دیجیے جو آپ کے سکون کو بڑھائیں۔آپ کا سکون سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دنیا بدل جائے تو بدل جائے مگر اپنے دل کا اطمینان ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔ کسی کی نفرت، کسی کی غلط فہمی یا کسی کی بے نیازی کو اپنی خوشی پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔ جہاں دل تنگ ہو وہاں سے ہٹ جائیے۔ جہاں لفظ دل دکھائیں وہاں خاموش ہو جائیے۔ آپ کو ہر کسی کے ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ہر منفی ریمارک پر اپنا ردعمل دینا ضروری نہیں ہے۔ ہر تنقید پر خود کو غلط سمجھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ تنقید ہر وقت اصلاح کے لیے ہو یہ ضروری نہیں۔کچھ تنقیدیں برائے تنقیص بھی ہوتی ہیں اور یہ ان افراد کی جانب سے ہوتی ہیں جن کی آنکھیں آپ کی روشنی سے خیرہ ہوگئی ہیں۔اسی لیے کبھی کبھی خاموشی سب سے خوبصورت جواب ہوتی ہے۔یاد رکھیے! زندگی کے ہر موڑ پر کچھ لوگ ملیں گے جو آپ کے احساسات کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ کچھ آپ پر تنقید کریں گے، کچھ آپ کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں گے اور کچھ آپ کی خاموشی کو کمزوری سمجھیں گے۔ مگر ان سب کے باوجود اگر آپ اپنی روشنی کو قائم رکھ سکتے ہیں تو یقین کیجیے آپ جیت گئے ہیں۔دھیان رہے، سکون ایک کمرا ہے جو آپ کے اندر ہی موجود ہے۔ بس دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے۔ ہر صبح آئینے میں دیکھ کر خود سے کہیے کہ "میں وہ شخص ہوں جو اپنے دکھوں کے باوجود جینا جانتا ہے، جو اپنے زخموں کو چھپا کر اوروں کو مسکراہٹ بانٹ سکتا ہے۔یقین جانیے یہی وہ لمحہ ہے جب زندگی واقعی خوبصورت محسوس ہونے لگتی ہے۔خود سے صلح کر لیجیے۔ لوگوں سے نہیں، اپنے دل سے سمجھوتا کیجیے۔ اپنے وجود کو کمزوریوں سمیت قبول کیجیے۔تب آپ کو محسوس ہوگا کہ زندگی کتنی نرم، کتنی حسین اور کتنی قیمتی ہے۔یہ چند برسوں کی امانت ہے، اس پر غم کی گرد جمنے مت دیجیے۔ اپنی مسکراہٹ کو اپنی پہچان بنا لیجیے کیونکہ شاید دنیا کو ابھی بھی کسی ایسے چہرے کی ضرورت ہے جو دکھوں کے باوجود مسکرا سکتا ہو۔اپنے اندر کی خاموشی میں بیٹھ کر دیکھیں، ہر دھڑکن، ہر سانس، ہر لمحہ آپ کا اپنا ہے۔ دنیا کے شور اور تلخیوں کے باوجود آپ کے دل کے کمرے میں ایک چھوٹی روشنی جلتی ہے۔یہ روشنی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ یہ آپ کی اپنی حفاظت میں ہے۔ کبھی اس روشنی کو چھوئیں، کبھی اسے محسوس کریں اور کبھی خاموشی سے اپنے دل کی بات سنیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب زندگی کا اصل حسن آپ کے سامنے آتا ہے۔نہ کسی کی تعریف میں،نہ کسی کی تنقید میں اور نہ ہی کسی کے ردعمل میں بلکہ صرف آپ کے اپنے ہونے میں پوشیدہ ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے