कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خواتین بھی بن سکتی ہیں کامیاب انٹرپرینیور

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے ہر دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ کبھی وہ جنگ جو بنیں،کبھی معلمہ، کبھی معالج اور آج کے دور میں وہ انٹرپرینیور بن کر دنیا کو بتا رہی ہیں کہ اگر موقع ملے تو وہ روشنی کے لیے صرف چراغ ہی نہیں جلا سکتیں بلکہ سورج کی مانند روشنی بھی پھیلا سکتی ہیں۔عصر حاضر کی خاتون صرف گھر کی ملکہ نہیں بلکہ معاشی دنیا کی شراکت دار بھی ہے۔ انٹرپرینیورشپ یعنی کاروباری قیادت اب صرف مردوں کا میدان نہیں رہا۔خواتین بھی چھوٹے کاروبار قائم کر رہی ہیں اور انہیں کامیابی کی نئی بلندیوں تک بھی لے جا رہی ہیں۔چاہے گھریلو پکوان کا آن لائن کاروبار ہو، آرٹ اینڈ کرافٹ اسٹور ہو یا ای کامرس اسٹور، خواتین نے ہر میدان میں اپنی قابلیت، محنت اور جدت کا لوہا منوایا ہے۔انٹرپرینیورشپ یعنی کاروباری قیادت۔ یہ محض نفع حاصل کرنے کا عمل نہیں ہے بلکہ خود اعتمادی، خود انحصاری اور سماجی تبدیلی کی ایک تحریک بھی ہے۔خواتین کے لیے ایک نئی راہ اور ایک نئی پہچان بھی ہے۔لفظ Entrepreneur فرانسیسی زبان سے آیا ہے، جس کے معنی ہیں "پہل کرنے والا اور کامیابی کی جستجو میں خطرہ مول لینے والا انسان”۔جب یہ لفظ خواتین سے جڑتا ہے تو وہ مالی خود مختاری کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔خود فیصلہ لینے کی قوت پاتی ہیں۔خاندان و معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرتی ہیں۔دوسری خواتین کو بھی اپنے ساتھ ترقی کی راہ پر لاتی ہیں۔عورت صرف ایک پروڈکٹ ہی نہیں بیچتیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر صارفین سے اعتماد کا رشتہ جوڑتی ہیں۔ معاشرے کی ترقی میں برابر کی حصہ دار بنتی ہیں۔بطور انٹرپرینیور خواتین مندرجہ ذیل شعبوں میں تیزی سے کامیاب ہوسکتی ہیں۔
*ہوم بیکری / کچن بزنس: کیک، بسکٹ اور دیسی کھانے۔
*فیشن اور بوتیک ڈیزائننگ: کپڑے، جیولری اور ہینڈ بیگز۔
*ایجوکیشن اور کوچنگ: آن لائن کلاسز اور ٹیوٹرنگ۔
*سوشل میڈیا مارکیٹنگ: انسٹاگرام بزنس اور یوٹیوب چینلز۔
*ہینڈ میڈ کرافٹ اور ڈیکوریشن آئٹمز۔
*ہیلتھ، بیوٹی اینڈ ویلنس: ہربل پراڈکٹس، ہوم میڈ صابن اور اسکِن کیئر آئٹمز۔
*کتاب نویسی اور بلاگنگ۔
انٹرپرینیور ہونے کے فائدے:
معاشی خود کفالت:
خواتین جب خود کماتی ہیں تو وہ معاشی طور پر خودکفیل ہوتی ہیں۔وہ اپنی مدد کرنے کے ساتھ اپنے افراد خانہ کی بھی مدد کرسکتی ہیں۔مشکل وقت میں کام آتی ہیں۔بچت کرتی ہیں۔
سماجی شناخت:
بطور انٹرپرینیور انھیں سماج میں ایک شناخت حاصل ہوتی ہے۔وہ اپنے اندر مثبت تبدیلی محسوس کرتی ہیں۔زندگی میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ انتہائی دلیری اور خوداعتمادی سے کرسکتی ہیں۔
فیصلہ سازی:
بعض اوقات خواتین کو مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ایسے میں وہ سمجھ نہیں پاتیں کہ وہ کہاں جائیں؟ کیا کریں؟ اور بچوں کی تعلیم یا زندگی کی منصوبہ بندی کس طرح ہوگی؟وہیں اگر وہ معاشی طور پر خود مختار ہیں تو انھیں فیصلہ لینے میں آسانی ہوتی ہے۔خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔افراد خانہ اور معاشرہ بھی ان کے فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔غرض انھیں فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔
بچوں کے لیے رول ماڈل:
انٹرپرینیور ماں اپنے بچوں کے لیے عملی سبق بن جاتی ہے۔خود پر یقین رکھو، کچھ بھی ممکن ہے۔ اپنی والدہ کو خود اعتماد دیکھ کر بچے بھی خود اعتمادی اور خود انحصاری سیکھتے ہیں۔
کچھ رکاوٹیں اس راہ میں آج بھی حائل ہیں۔
روایتی سوچ اور سماجی دباؤ:
عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے، کاروبار نہیں۔”
ایسی باتیں کچھ جگہوں پر آج بھی سننے کو مل جاتی ہیں۔عورت کے اختیارات اور فیصلوں کی حیثیتت ثانوی ہوتی ہے۔لیکن اگر خواتین عزم کرلیں،افراد خانہ کو اعتماد میں لیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیں تو ہر روایتی سوچ اور سماجی دباؤ سے پرے کامیابی اور ترقی کی منازل طے کر ہی لیتی ہیں۔
مالی معاونت کی کمی:
کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لیے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض اوقات خواتین کو نہ تو کسی اسکیم کی معلومات ہوتی ہے اور نہ ہی مختلف منصوبوں تک ان کی رسائی ہوپاتی ہے۔بینک لون یا سرمایہ کی کمی اکثر ان کے ارادے کو متزلزل کرتی ہے۔افراد خانہ یا تو مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے یا مخالفت میں کسی طرح کا تعاون دینا ہی نہیں چاہتے ہیں۔بہرحال آج سوشل میڈیا اور مائیکرو فنانس سے یہ چیلنجز کم ہوئے ہیں۔
گھریلو ذمے داریاں:
گھر، بچے،سسرال اور دیگر ذمہ داریاں، خواتین کے کاندھوں پر سب کچھ ہوتا ہے۔ لیکن ایسی کئی مثالیں عصر حاضر میں موجود ہیں کہ خواتین نے بہتر منصوبہ بندی، خوش اخلاقی اور دن رات کی قربانی سے اپناے خواب کو ناصرف زندہ رکھا ہے بلکہ اسے شرمندہ تعبیر بھی کیا ہے۔
پیشہ ورانہ تعلیم اور ٹیکنیکل اسکلز کی کمی:
خواتین انٹرپرینیورشپ میں آگے تو جانا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس پیشہ ورانہ تعلیم کا فقدان ہوتا ہے۔اسی طرح کئی خواتین کے پاس مہارت تو ہوتی ہے مگر انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل اسکلز کی کمی ان کے ارادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
مسائل کا حل:
خود پر یقین رکھیے:
شروع میں سبھی کو مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے لیکن خود پر یقین رکھ کر، مستقل مزاجی اور مسلسل محنت سے وہ اپنے ہدف کو حاصل کرتے ہیں۔لہذا خود پر یقین رکھیے۔ماہر خواتین سے ملاقات کیجیے۔ان سے سیکھیے۔ان شاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی۔
مفت آن لائن تربیت حاصل کیجیے:
NIELIT، MSME، Udemy، Coursera اور Skill India جیسے پلیٹ فارم
خواتین کے لیے خاص ٹریننگ پروگرامز:
EDPs اور Women Startup Programs
حکومتی اسکیمز کا فائدہ اٹھائیے:
MUDRA Loan
Stand Up India
Mahila Coir Yojana
SIDBI Women Empowerment Program
خواتین نیٹ ورکس سے جڑیے:
Self Help Groups (SHGs)
Women Chambers of Commerce
Facebook گروپس اور WhatsApp کمیونیٹیز
انٹرپرینیورشپ صرف کاروبار نہیں انقلاب ہے۔یہ معاشرتی تبدیلی کا ایک ذریعہ ہے جوصنفی مساوات کو فروغ دیتا ہے۔غربت کے خاتمے میں مددگار ہے۔دیہی خواتین کو شہر میں رہنے والوں کے برابر مواقع فراہم کرتا ہے۔خواتین کو لیڈر، مینٹور اور گائیڈ بناتا ہے۔خواتین جب فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ صرف ایک خاتون ہی نہیں بلکہ ایک رول ماڈل، رہنما اور معمارِ قوم بنے گی تو دنیا اس کی بات سنتی ہے۔انٹرپرینیورشپ کے ذریعےخواتین وہ مقام حاصل کر سکتی ہیں جس کی وہ حقدار ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے