कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خواتین اور ڈیجیٹل دنیا

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

خواتین اور ڈیجیٹل دنیا کا تعلق موجودہ عہد کی ان حقیقتوں میں شامل ہے جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو تیزی سے بدلا ہے وہیں اس نے ہماری دنیا اور سوچ کو بھی نئی صورت عطا کی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا اب صرف ایک سہولت نہ ہوکر ایک مکمل طرزِ زندگی بن چکی ہے۔ موبائل فونز، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور دیگر افراد کے ساتھ ہی ساتھ خواتین کے لیے بھی دنیا کو ایک اسکرین تک محدود کر دیا ہے۔ وہ خواتین جو کبھی صرف گھر اور قریبی معاشرتی دائرے تک محدود سمجھی جاتی تھیں آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بلاشبہ ترقی کی علامت ہے لیکن اس ترقی کے ساتھ کچھ فکری، اخلاقی اور سماجی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔بلاشبہ ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کو مافی الضمیر کے اظہار کی ایک ایسی طاقت دی ہے جو ماضی میں بہت کم میسر تھی۔وہ اب اپنے خیالات، تجربات، احساسات اور مسائل کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے سامنے رکھ سکتی ہیں۔ اپنی کہانی خود بیان کر سکتی ہیں، اپنے دکھ سکھ خود سنا سکتی ہیں اور اپنے وجود کو خود معنی دے سکتی ہیں۔ یہ آزادی بہت سی خواتین کے لیے حوصلے اور خود اعتمادی کا ذریعہ بنی ہے۔ تعلیم، تربیت، سماجی شعور، گھریلو مسائل، خواتین کے حقوق اور خود آگہی جیسے موضوعات پر عورت کی آواز پہلے سے زیادہ واضح اور مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے عورت کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ اکیلی نہیں، اسی کی طرح احساسات رکھنے والی اور بھی بے شمار خواتین موجود ہیں۔وہیں آن لائن تعلیم نے بھی اس سفر کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ وہ لڑکیاں جو معاشی کمزوری، سماجی پابندیوں یا جغرافیائی مسائل کے باعث تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں آج ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے علم حاصل کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹل تعلیم نے ان کے لیے اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ علم کسی مخصوص جگہ یا وقت کا محتاج نہیں۔ یہ علم نہ صرف ان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے بلکہ انھیں خود اعتمادی اور خود انحصاری کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ پورے معاشرے کی فکری بنیاد کو مضبوط کرتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کے لیے معاشی خود مختاری کی نئی راہیں بھی کھولی ہیں۔ بہت سی خواتین اپنے گھروں میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں، ہنر اور علم کو روزگار میں تبدیل کر رہی ہیں۔ فری لانسنگ، آن لائن تدریس، کنٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائنگ، مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل کاروبار جیسے کئی شعبوں میں خواتین کی شمولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت محض مالی فائدے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس عمل سے خواتین میں فیصلہ لینے کی صلاحیت، خود اعتمادی اور فکری وسعت بھی پروان چڑھی ہے۔ جب کوئی عورت اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے تو وہ انفرادی ترقی کے ساتھ خاندان اور معاشرے کے لیے ایک مضبوط ستون بن جاتی ہے۔
تاہم ڈیجیٹل دنیا کی یہ روشن تصویر مکمل نہیں۔ اس دنیا کا ایک تاریک پہلو بھی ہے جس کا سامنا بھی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایکٹیو اور موجود رہنا خواتین کے لیے اکثر ہراسانی اور ذہنی اذیت کا سبب بن جاتا ہے۔ نازیبا پیغامات، جعلی اکاؤنٹس، تصاویر کا غلط استعمال اور مسلسل تنقید ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سی خواتین ان مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بھی خاموش رہتی ہیں کیونکہ انہیں بدنامی، الزام اور سماجی ردِعمل کا خوف ہوتا ہے۔ یہی خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے اور ڈیجیٹل دنیا کو ان کے لیے غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کو اکثر ان کی صلاحیت، ذہانت اور کردار کے بجائے ذات اور ظاہری پہلوؤں کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معاشرے کے مخصوص طبقے کی فکری کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال کا حل سماجی شعور بیدار کرنے میں ہے۔ صنف نازک کے لیے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی موجودگی کو کیسے محفوظ، باوقار اور بامقصد رکھا جائے؟ ڈیجیٹل آزادی کا مطلب بے لگام رویہ نہیں بلکہ ذمہ داری اور احتیاط ہے۔ یہ ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔خاندان، تعلیمی ادارے اور میڈیا اگر مل کر ڈیجیٹل تربیت کو فروغ دیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ خواتین میں اس شعور کو فروغ دیا جائے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانیں، اپنی پرائیویسی کی حفاظت کریں اور غیر ضروری نمائش سے خود کو محفوظ رکھیں۔ اسی طرح ہراساں کرنے والے افراد کے لیے بھی یہ سمجھ لینا بے حد ضروری ہے کہ کسی خاتون کی ڈیجیٹل موجودگی اس کے کردار پر سوال اٹھانے کا جواز نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو سراہنے کا موقع ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی شمولیت کا ایک اخلاقی اور سماجی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ترقی کی علامت ہے لیکن اقدار اور اخلاقیات کے بغیر یہ ترقی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ عورت اگر حیا، وقار اور خودداری کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھے تو وہ نہ صرف خود محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ جدید ذرائع کو انسانیت اور اخلاق کے تابع رکھا جائے نہ کہ خود کو ان کا اسیر بنا لیا جائے۔ آج بہت سی خواتین ڈیجیٹل دنیا میں مثبت کردار ادا کر کے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ یہ دنیا عورت کے لیے صرف آزمائش نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ وہ علم بانٹ رہی ہیں، شعور پھیلا رہی ہیں، دوسروں کے لیے روزگار کے راستے ہموار کر رہی ہیں اور یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اگر سمت درست ہو تو کوئی ڈیجیٹل پلیٹ فارم عورت کو کمزور نہیں بناتا ہے۔ یہ خواتین آنے والی نسلوں کے لیے امید اور حوصلے کی علامت ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خواتین اور ڈیجیٹل دنیا کا تعلق نہ مکمل خیر ہے اور نہ مکمل شر بلکہ یہ ایک ذمہ دارانہ اور باشعور سفر ہے۔ اگر عورت کو علم، تحفظ، شعور اور اعتماد فراہم کیا جائے تو ڈیجیٹل دنیا اس کے لیے قید نہیں بلکہ پرواز بن سکتی ہے۔ ایک باخبر، باشعور اور خوددار خاتون ہی ڈیجیٹل معاشرے کو انسانی اقدار کے ساتھ آگے لے جا سکتی ہے اور یہی اس دور کی سب سے بڑی ضرورت اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے