कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدمت یا معاوضہ؟ ایک غلط فہمی کا سنجیدہ جائزہ

تحریر:ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے فکری مغالطے پیدا ہو جاتے ہیں جو بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات فرد کی شخصیت، اس کے تعلقات اور معاشرتی رویّوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مغالطہ "خدمت” اور "ملازمت” کے درمیان فرق کو نہ سمجھ پانا ہے۔
اکثر وبیشتر دینی و عصری تعلیمی اداروں میں یہ بات دیکھی جا سکتی ھے کسی کے وداعیہ پروگرام میں اس طرح کے خیالات بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں یا رخصت پذیر شخص بھی اپنے تعارف میں اس طرح کے خیالات ظاہر کرنے میں رتی برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ ادارے کے تئیں ان کی طویل خدمات رہیں
ایک شخص جو لمبے عرصے تک کسی ادارے سے وابستہ رہا، اپنی پوری زندگی اس کے سائے میں گزاری، اس سے تنخواہ، مراعات، عزت اور مقام حاصل کیا، اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ اس نے اس ادارے پر "احسان” کیا ہے، اور وہ اپنی اس طویل وابستگی کو "خدمات” کا نام دینے لگا—یہ دراصل ایک فکری لغزش ہے، جس کا سنجیدہ تجزیہ ضروری ہے۔
ملازمت اور خدمت میں بنیادی فرق:
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "ملازمت” اور "خدمت” دو الگ حقیقتیں ہیں۔
ملازمت ایک معاہدہ ہے، جس میں ایک فریق اپنی محنت اور وقت دیتا ہے اور دوسرا فریق اس کے بدلے میں اسے تنخواہ اور سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہاں "دینے” اور "لینے” کا توازن برقرار رہتا ہے۔
جبکہ "خدمت” ایک بلا معاوضہ جذبہ ہے، جو خلوص، ایثار اور قربانی سے عبارت ہوتا ہے۔ خدمت میں انسان بدلے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ اسے اپنی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔
لہٰذا، جو شخص چالیس یاپچاس سال تک تنخواہ لے کر کام کرتا رہا، وہ درحقیقت ایک معاہدے کی تکمیل کر رہا تھا، نہ کہ یکطرفہ احسان۔
احساسِ برتری: ایک نفسیاتی الجھن:
ایسے افراد اکثر ایک نفسیاتی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں جسے "احساسِ برتری” کہا جاتا ہے۔
طویل وابستگی، عہدہ، عزت اور معاشرتی مقام انسان کے اندر ایک خاموش غرور پیدا کر دیتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ:
– ادارہ اس کی وجہ سے قائم ہے
– اس کے بغیر ادارہ کچھ بھی نہیں
– اس کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ افراد سے بڑا ہوتا ہے۔ افراد آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر ادارے اپنی اجتماعی قوت سے قائم رہتے ہیں۔
احسان یا شکرگزاری؟:
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ احسان کس نے کس پر کیا؟
اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو:
– ادارے نے اسے روزگار دیا
– معاشی استحکام فراہم کیا
– سماجی مقام اور شناخت دی
– ترقی کے مواقع فراہم کیے
تو زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ شخص ادارے کا شکر گزار ہو، نہ کہ ادارہ اس کا ممنون۔
بار بار "خدمات” کا ذکر: ایک غیر مہذب رویہ
عوام کے سامنے بار بار یہ کہنا کہ "میں نے چالیس سال یا پچاس سال خدمات انجام دی ہیں” دراصل ایک خود نمائی کا مظہر ہے۔
یہ رویہ نہ صرف شخصیت کی سنجیدگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ سننے والوں کے دل میں منفی تاثر بھی پیدا کرتا ہے۔
اصل عظمت یہ ہے کہ انسان خاموشی سے کام کرے اور لوگ اس کی تعریف کریں، نہ کہ وہ خود اپنی تعریف بیان کرے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو کس طرح سمجھایا جائے اور اس کی اصلاح کیسے کی جائے؟
1. نرم اور حکیمانہ گفتگو :
براہِ راست ٹکراؤ یا سخت لہجہ اختیار کرنے کے بجائے حکمت اور نرمی سے بات کی جائے۔
اسے یہ سمجھایا جائے کہ ملازمت ایک باہمی معاہدہ تھی، جس میں دونوں فریق مستفید ہوئے۔
2. حقیقت کا آئینہ دکھانا :
مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا جائے کہ دنیا میں ہزاروں لوگ برسوں کام کرتے ہیں، مگر وہ اسے "احسان” نہیں سمجھتے۔
3. اجتماعی نظام کا شعور دینا :
اسے یہ احساس دلایا جائے کہ ادارے افراد کے نہیں بلکہ نظام کے بل پر چلتے ہیں۔
ایک شخص کی اہمیت اپنی جگہ، مگر وہ کل کائنات نہیں ہوتا۔
4. شکرگزاری کی طرف متوجہ کرنا :
اسے اس طرف مائل کیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ادارے دونوں کا شکر ادا کرے کہ اسے اتنا طویل موقع ملا۔
5. عملی مثال قائم کرنا :
اپنے رویّے سے یہ دکھایا جائے کہ اصل وقار عاجزی میں ہے، نہ کہ دعوؤں میں۔
خلاصہ یہ ہے کہ تنخواہ لے کر کی جانے والی طویل ملازمت کو "احسان” یا "خدمت” کا نام دینا ایک فکری مغالطہ ہے۔
یہ سوچ نہ صرف حقیقت کے خلاف ہے بلکہ انسان کو غرور اور خود پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔
اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان اپنی خدمات کو نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے، اور اپنے حاصل کردہ مقام کو اپنی محنت کے ساتھ ساتھ ادارے کی عطا بھی سمجھے۔
کیونکہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو اپنے کام سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ اپنے دعوؤں سے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے