कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدائی دستور ہی کامیابی کا ضامن

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
( بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف )

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ ، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائ پر لیٹے ہوے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ چٹائ کے نشانات آپ کے جسم اطہرپر نمایاں نظر آرہے ہیں۔ اور بازو میں ایک پانی کا مشکیزہ اور کچھ روکھی سوکھی روٹی ہے۔ حضرت عمربن الخطاب یہ دیکھ کر رونے لگے، پیغمبر اسلام رحمت اللعالمین نے جب پوچھا اے عمر کیوں رورہے ہو ؟ حضرت عمر نے کہا کیوں نہ روؤوں آپ نبی بناکر مبعوث کیے گیے ہیں۔ اور آپ کے منشاء کے مطابق خداے برتر آپ کو ہر چیز عطا کرسکتا ہے۔ اور آپ کے پاس زندگی گزارنے کا انتہائ مختصر سامان ہے۔ اور قیصر و کسری کے پاس عیش و آرام کے سبھی ساز و سامان ہیں۔ اور ان کی زندگی پھلوں پھولوں اور محلوں میں گزر رہی ہے۔ ہیں۔ پیغمبر اسلام اور رحمت اللعالمین نے جواب دیا۔ اے عمر کیا اس میں آپ کو شک و شبہ ہے کہ یہ قیصر و کسری جنت کے اہل ہوں گے۔ یہی تو ایمان کی چنگاری تھی جس نے اسلام کو جلا بخشا اور ساری دنیا کے نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ اے اہل ثروت ، دنیا کی شان و شوکت اور عیش و آرام کو فوقیت دینے والو۔ اے لوگوں جو صرف مال و زر شہرت و تشہیر ،اور دنیا کی رنگینیوں میں محو ہیں۔ اگر ہم اس حدیث پر نظر ڈالیں تو یقینا ہماری زندگیاں سنورسکتی ہیں ۔ رحم و کرم کا معاملہ، انسانیت ، اخوت، عاجزی و انکساری، شکر گزاری ایثار و قربانی، قناعت پسندی ہماری زندگیوں میں داخل ہو سکتی ہیں۔ جو آج وقت کی اہم اور شدید ضرورت ہے ۔ آج ہمارا حال کیا ہے؟ ہم نے تو دین کا علم حاصل ضرور کیا ہے۔ لیکن عمل سے کوسوں دور ہیں۔ آج اہل علم بھی ایک دوسرے کو ذلیل و خوار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ دین میں تو یہ سب نہیں ہے۔ پھر ہم کس دین پر عمل کر رہے ہیں؟ دین تو یہ کہتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ دار ہے۔ لیکن ہم دوسروں کو اسکی برائ کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ کیا ہم اس حدیث کو فراموش کر رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے پاس ایک شخص آیا۔ آپ نے اس کو آنے کی اجازت مرحمت فرمائ۔ اور فرمایا کہ یہ آدمی اپنے عزیز و اقارب اور خاندان میں براہے۔ پھر آپ نے اس سے محبت اور الفت سے بات کی اور اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ جب وہ شخص محفل سے لوٹا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے تو فرمایا تھا کہ یہ اپنے خاندان میں براہے ،تو آپ نے اس سے محبت و الفت کا معاملہ کیوں فرمایا؟ پیغبراسلام نے جواب دیا ۔اے عائشہ سب سے برا اور ذلیل شخص وہ ہے جو برے آدمی سے محبت و الفت اور اخلاق سے پیش نہ آتا۔ ہم اہل علم ، صاحب علم ، اعلی تعلیم یافتہ، اس حدیث پر کتنا عمل کر رہے ہیں۔ اور ہم دن میں کتنے لوگوں کو رسوا اور ان کی دل آزاری کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم کون سے دین کو فالو اور اسکی پیروی کر رہے ہیں ؟پیغبر اسلام اور صحابہ کرام نے اس دین عظیم کو بھوک و پیاس برداشت کرکے ہم تک رسائ کی ہے۔ جو ہم پر احسا عظیم ہے۔ لیکن ہم اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں ۔اس لیے کہ ہم اسلام کے دعویدار توہیں ، لیکن ہماری روزہ مرہ کی زندگی میں اسلام کی کوئ آمیزش نظر نہیں آتی اور نہ ہماری زندگیاں اس کے مطابق گزر رہی ہیں۔ اسلام جو ساری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔ لیکن افسوس کہ جن کو فالو کرنا ہے ، وہ خود اس خوبصورت خدائ دستور اور بہترین نظام عمل سے دورہیں۔ ہماری تہذیب وثقافت اور اسلام کے اصولوں سے خالی ہیں۔ آج ہم جوبھی نشر واشاعت کرتے ہیں ، اسکا کوئ خاص اثر ہم پر آشکارہ نہیں ہوتا، اور نہ اس کے اثرات ہم پرمرتب ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ کا فرمان ہے۔ اے لوگو جو تم کہتے اس پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے؟ ہمیں اسلامی روح کو پیدا کرنا ہوگا۔ جو آج ہم میں اس کا یکسر فقدان ہے۔ ماضی پر اگر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا مدارس دینیہ بہت کم تھے ، لیکن علم عمل کا جذبہ اور احترام یہاں تک تھا کہ اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرنے میں فخر محسوس کرتے ۔ لیکن آج مدارس دینیہ کی بہتات ہے ، علم بھی عام ہے لیکن طلباء میں اپنے اساتذہ اور دوسروں کے تئیں ادب و احترام مفقود نظر آتا ۔ ادب و احترام کی مثال یوں بھی ملتی ہے کہ، ابن انشاء جو ایک پاکستانی مصنف اور ایک شاعر تھے۔ اپنے جاپان سفر نامہ میں لکھا ہے کہ، وہ جاپان یونیورسٹی میں ایک پروفیسر دوست کو ملنے گیے۔ اور جب وہ جامعہ پہونچے۔ اور اپنے دوست پروفیسر سے محو گفتگو تھے ، دیکھا کہ یونیورسٹی کے طلباء اپنے استاذ کے عقب سے کود کود کر جارہے ہیں۔ ابن انشاء نے پوچھا یہ اسٹوڈینٹس آپ کے عقب سے کود کر کیوں جارہے ہیں؟ ان کے پروفیسر دوست نے جواب دیا ۔ یہ میرے شاگرد ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ میرے سایہ کو روند کر جائیں ۔اس لیے وہ کود کر جارہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے اپنے اساتذہ کے لیے ادب و احترام کا جذبہ۔ آج تو ہر جگہ یہ حال ہوگیا ہے کہ، استاذ کو ہی شاگرد کا احترام کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ ہم میں اسلامی اصل روح کا فقدان ہے۔ ایسا لگتا ہے ہم اس خدائ دستور اور اسلام کے بہترین نظام عمل کے حاشیہ پر اپنی زندگیاں بسر کررہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے