कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدا،اورقانون فطرت

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

کائنات کی ہر چیز اور دنیا میں ہر پیدا ہونے والا انسان خدا کے وجود کو فطری طور پر مان ہی نہیں رہا ہے بلکہ اللہ کے وجود کو ثابت کررہا ہے۔ اور دنیا کا ہر انسان عین ( Islamic nature) اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ آپ اللہ کے وجود کی دلیل پیش کریں تب بھی وہ موجود ہے۔ اور دلیل نہ دو تو بھی، خدا اس کائنات کا پالنہار اور کائنات میں موجود ہے۔ اور اس کے موجود ہونیکی ہر تخلیق خداے برتر کی گواہی دیتی ہے۔ ایک مشہور واقعہ جو فخرالدین رازی سے منسوب ہے کہ جب وہ نزاع کی حالت میں تھے، شیطان ان کے پاس آیا اور خدا کے وحدانیت کی دلیلیں مانگنے لگا، حضرت نے اللہ کی وحدانیت پر بہت ساری دلیلیں پیش کی ، لیکن شیطان ان پر ہاوی ہوتا گیا۔ تو ان کے پیر خواجہ نجم الدین کبری نے کہا کہ تو یہ کیوں نہیں کہتا کہ بغیر دلیل کے خداے برتر ایک ہے۔ اورکائنات کا مالک ہے۔ قرآن کریم کی پہلی آیت جس میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑ،ھنے کا حکم صادر فرمایا،اور گویا کہ اللہ نے یہ سارے انسانوں کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تعلیم اور علم کا فیض فرمایا۔ جو اللہ کے وجود اور اسکی معرفت اور حقانیت کو پہچاننے کا ذریعہ یے۔ ایک شعر یے جو علم کی ضرورت اور اسکی افادیت جو خدا کی معرفت اور اسکے ( Omnipotent ) قادر مطلق ہونے کی دلالت کرتا ہے۔ پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے۔ بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ گویا کہ اللہ نے انسان کی تخلیق سے قبل علم کو اولیت دی کہ میرے بندے علم کی روشنی کے ذریعہ معرفت کو حاصل کریں، اور میرے رب ہونے کا اقرار کریں۔ یہی نہیں آج ہم اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے موجود ہونے پر (Debate) ڈیبیٹ اور مناظرہ کی تقریبات منعقد کرتے جو قابل تحسین اور خوش آئیند بات ہے۔ لیکن ہم تمام جو قیامت تک پیدا ہوتے رہینگے۔ اللہ نے عالم ارواح میں ہم سے سوال کیا تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ ہم تمام نے ایک زبان کہا تھا، اور اقرار کیا تھا کہ قالوا بلی ، یعنی ہاں آپ ہمارے رب ہیں۔ اس طرح یہ اللہ کی وحدانیت اور قادر مطلق ہونے کی بین دلیل ہے۔ دنیا میں ہر شعبہ ہر یونیورسٹی، ہر ( University ) جامعہ، اسکول اور ہر محکمہ کا ایک سربراہ یا صدر ہوتا ہے۔ جو اپنے اپنے شعبہ کے ( system) سسٹم کو مینیج کرتا ہے ۔ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی شعبہ میں دو صدر ہیں کسی جامعہ میں دو یا تین پرنسپال ہیں، یا کسی ہائ اسکول میں دو صدر مدرس ہیں۔ گویا کہ کسی بھی شعبہ میں ایسا عمل ممکن نہیں۔ پھر اللہ کا ارشاد ہے۔ کہ اگر اس کائنات کو تخلیق کرنے میں دو خالق، دو ( Creator) ہوتے تو یہ دنیا تہس نہس ہوجاتی ،اور اس دنیا کا اور انسانوں کا وجود خطرہ میں ہوتا۔ چناں چہ رب کریم کا ارشاد ہے۔ اور خدا ان سب سے مبرا یے ، سعد بن وقاص سے روایت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑا قصور وار ہے وہ شخص جو بے فائدہ سوال پوچھتا ہے گرچہ کہ وہ حرام نہ ہو، لیکن بے فائدہ پوچھنے سے حرام ہوجاے۔ اسی طرح اللہ کی وحدانیت اور اسکے وجود کا وہ علم رکھتا ہو، اللہ کی نشانیاں اس ہر عیاں ہو، جو خدا کے وجود کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اور وہی خدا ( Omnipotent) قادر مطلق ہے۔ اللہ اس دنیا میں ملحدوں اور اللہ کے نا فرمانوں کو بھی رزق عطا کررہا ہے، اور مومنوں کو بھی، صرف فرق اتنا یے کہ مومنوں کی حیثیت اعلی و ارفع یے۔ لیکن دنیا ان کے لیے قید خانہ ہے, یعنی وہ اس دنیا میں محتاط زندگی گذاریں۔ اور ملحدوں نا فرمانوں کے لیے جنت ہے، یعنی وہ عیش کی زندگی میں مصروف ہیں،اور خدا سے غافل۔ اللہ کی پکڑ بہت ہی سخت ہوتی ہے جب وہ انتقام لینے پر آتا ہے۔ بقول مولانا وحیدالدین خان دامت برکاتہم العالیہ رحمت اللہ علیہ نوراللہ مرقدہ رقم طراز ہیں کہ روٹی چوہے کو بھی کھٹکے میں دی جاتی ہے تاکہ وہ ہکڑا جاے۔ اور روٹی طوطے کو بھی پنجرہ میں دی جاتی تاکہ وہ اس کے لیے غذا بن سکے۔ بس اسی طرح یہ قادر مطلق کا نظام ہے کہ وہ مومنوں کے لیے عافیت والی زندگی اس دنیا کے پنجرہ میں رکھا ہے کہ وہ ہر شر سے محفوظ رہے۔ اور ملحدوں کو ان کے حال پر۔ اس دنیا میں کسی چیز کو پانے کے لیے انتھک جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ جو انسان کرتا ہے۔ اور خالق کائنات کو پانے کے لیے معرفت ضروری ہے۔ اور معرفت علم کے ذریعہ ہم پر آشکارہ ہوتی ہے۔ انسان کو اسی طرح اللہ کو اور اس کے (Existence ) وجود کو سمجھنے کے لیے اسکی (Beautiful creation) خوبصورت تخلیق جس میں سب سے خوبصورت انسان کی تخلیق یے۔ اور اس کے بعد انسان کو یہ اختیار دیا گیا اور مکلف بنایا ہے کہ صحیح کیا یے،اور غلط کیا ہے، اس کا انتخاب کرے۔ اللہ کا شکر کرکے خدا کا مقرب بن جاے، یا پھر نافرمان اور نا شکرا بنکر اللہ کے عذاب کا شکار۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے