कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ختم نبوت کی اہمیت

تحریر:مفتی محمد احمد خان قاسمی
(امام وخطيب مسجد قریشہ بارہ امام منیار گلی ناندیڑ)

سورہ احزاب کی آیت نمبر 40 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا محمد صل اللہ علیہ وسلم تمھارے مردوں میں سے کسی کے (نسبی) باپ نہیں ہیں؛ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اچھی طرح جانتے ہیں.
اس آیت میں اللہ رب العزت نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی صفت؛ خاتم النبیین؛ ذکر فرمائی ہے. یعنی آپ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور سلسلہ ختم نبوت کو ختم کرنے والے نبی ہیں، آیت سے یہ بات واضح ہے کہ اس بات کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا؛ اگر کوئی شخص محمد صل اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول تو مانے ،مگرآخری نبی نہ مانتا ہوتو اس کاایمان درست نہیں.
حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے بعد اس دنیا میں کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا، یہ وہ عقیدہ ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ،پھر تابعین نے صحابہ کرام سے یہی عقیدہ سیکھا اور اس کے بعد سے آج تک امت میں یہی عقیدہ رہا ہے. قیامت آسکتی ہے سورج مغرب سے نکل سکتا ہے، آسمان گر سکتا ہے مگر آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے سکتا.
آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے میری شریعت آخری شریعت ہے.
*ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے اصول اور بنیادی عقائد میں سے ہے اس کا منکر کافر ہے اس امت کا پہلا اجماع اسی بات پر ہیکہ کے منکرین ختم نبوت کو قتل کردیا جائے*
قرآن کریم کی *سو(100) آیات میں اور دوسو(200) سے زائد احادیث میں ختم نبوت کاتذکرہ ہے*
آپ صل اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اسلام کے تحفظ کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئی ہے اور اس میں جو صحابہ شہید ہوئے ہیں *ان کی تعداد259 ہے*
اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد تحفظ ختم نبوت کے خاطر سب سے پہلے مدعی نبوت مسلمہ بن کذاب کے خلاف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دور خلافت میں جو لشکر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں یمامہ کی طرف بھیجا گیا اور جسم میں جھوٹے مدعی نبوت کو ختم کیا گیا *اس میں شہید ہونے والے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمتہ اللہ علیہ کی تعداد بارہ سو تھی جسمیں صرف اور صرف سات سو حافظ قرآن اور قاری قرآن تھے*
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی گراں قدر کمائی اور پوری زندگی کی محنت یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں. جن کی بڑی تعداد نے اس عقیدہ کے لئے جام شھادت نوش فرمایا ہے اس سے اس عقیدہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے.اس لئے کے یہ عقیدہ ایمان کی ضمانت ہے.
اسی لئے جب بھی کسی بڑے سے بڑے آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، امت نے کبھی بھی اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا ہے، بلکہ ہر طرح سے بھر پور اس کے جواب دینے کی کوشش کی، *مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب تک کئی ایک ایسے عبرت ناک واقعات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں جو امت کے اپنے نبی سے عشق اور تحفظ ختم نبوت سے بے پناہ لگاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہیں*.
تحفظ ختم نبوت کا کام:
ہر امتی پر یہ فرض ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق نبی کا تحفظ کریں،کیونکہ تحفظ ختم نبوت کا کام شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، *قادیانیوں کو شیطان سے زیادہ لعین سمجھنا جزو ایمان ہے*،اور *خوش بخت اور سعادت مند انسانوں کوقدرت ان کاموں کے لئے منتخب فرماتی ہے*
اس لئے اگر ہم قیامت کے دن حضرت نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے طاقت کے مطابق تحفظ ختم نبوت کا کام کرنا چاہیئے اور ہماری نسل میں بھی اس عقیدہ کو پیوست کرنا چاہیئے اللہ ہمیں اس عقیدہ پر استقامت عطا فرمائے اور تحفظ ختم نبوت کاہم سب کو محافظ بنائے آمین .

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے