कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حمایت فاؤنڈیشن، گیورائی – بے کسوں کی پکار

تحریر : رغیب الرّحمٰن انعامدار
(معاون معلم، بلال اردو پرائمری اسکول، گیورائی، ضلع بیڑ)
موبائل : 8766787156

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ جو شہِ رگ سے بھی قریب ہے، جس کی رحمت بے کنار، جس کا کرم بے حساب، جو بھوکوں کو کھلاتا ہے، بیماروں کو شفا دیتا ہے، اور بے کسوں کو سہارا فراہم کرتا ہے۔ جو کہتا ہے:
وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ” (اور احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) – سورۃ البقرہ، 195۔”
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ستاروں کی مانند چمکتے ہیں، جو اپنی روشنی سے اندھیروں کو نگل لیتے ہیں، جو تھکے ہارے قافلوں کے لیے منزل کا پتہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ستارے کا نام ہے مفتی محمد عمر قریشی۔
یہ نام صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک تحریک، ایک جذبہ، ایک خواب کی تعبیر ہے۔ میں اکثر سوشل میڈیا پر ایسی خبریں پڑھتا، ایسی تصویریں دیکھتا، جن میں کوئی بچہ بھوک سے بلک رہا ہوتا، کوئی بے سہارا عورت اپنے آنسو چھپا رہی ہوتی، کوئی بیمار اپنی دوا کے پیسے نہ ہونے پر بستر پر سسک رہا ہوتا۔ اور انہی تصویروں کے نیچے ایک نام جگمگاتا –’’حمایت فاؤنڈیشن گیورائی‘‘۔
یہ نام میرے دل کے دروازے پر دستک دیتا۔ میں سوچتا کہ گیوارئی جیسے مقام پر ایک 27 سالہ نوجوان کیسے اس قدر بڑی ذمہ داری کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا سکتا ہے؟ اس میں یہ جذبہ کہاں سے آیا؟ یہ تڑپ اسے کس نے دی؟
یہ سفر یکدم شروع نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد برسوں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ مفتی محمد عمر قریشی وہ خوش نصیب ہیں جن کے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ خود علم کے موتی چننے میں مصروف تھے۔ مفتی صاحب کے اس بے لوث جذبے کے پیچھے ان کے اساتذہ کا بھی بڑا اثر ہے۔ دورانِ طالب علمی وہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کے مہتمم مولانا محمد غلام وستانوی، شیخ رضوان الدین معروفی، مولانا فاروق صاحب مدنی، مولانا اخلاق صاحب، مفتی اشفاق صاحب اور مولانا عبدالرحیم صاحب فلاحی جیسے اساتذہ اور علمائے کرام کی درس و تدریس اور نصائح سے بے حد متاثر ہوئے۔
انہوں نے اپنی عالمیت جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا سے مکمل کی، جہاں انہیں سکھایا گیا کہ دین صرف عبادت نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت بھی دین کا اہم ترین رکن ہے!
یہیں سے ان کے دل میں ایک چنگاری بھڑکی تھی – وہ چنگاری جو وقت کے ساتھ ایک الاؤ میں بدل گئی، جو آج حمایت فاؤنڈیشن کی صورت میں لاکھوں بے سہاروں کے گھروں میں روشنی کر رہی ہے۔
مگر یہ سفر تنہا ممکن نہ تھا۔ یہ چراغ مزید روشن ہوا جب سہیل سید نائب صدر کی حیثیت سے ان کے ساتھ آ کھڑے ہوئے، جب شیخ مجیب نے معتمد کی حیثیت سے ہاتھ بٹایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں بھی وہی درد ہے، وہی تڑپ، وہی لگن جو مفتی عمر قریشی میں موجود ہے۔
یہ قافلہ چلا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں 100 سے زائد ممبران شامل ہو گئے، وہ بھی جو ہاتھ بٹانے والے بنے، وہ بھی جو دل جوڑنے والے بنے، وہ بھی جو آنسو پونچھنے والے بنے۔
نو مہینے – ایک ماں کے لیے اتنا وقت کافی ہوتا ہے کہ وہ ایک نئی زندگی کو جنم دے سکے۔ اور ان نو مہینوں میں، حمایت فاؤنڈیشن نے 13 مریضوں کو 5 لاکھ روپے سے زائد کی مالی مدد فراہم کی، اور بے شمار بیماروں کا مفت علاج کروایا۔ یہ وہ لوگ تھے جو زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے تھے، جن کے گھروں میں غربت کے سائے گہرے تھے، جن کے پاس علاج کے لیے وسائل نہ تھے۔
یہی نہیں، یہ فاؤنڈیشن کسی خاص قوم، نسل یا مذہب تک محدود نہ رہی۔ یہاں مساجد کے دروازے بھی کھلے، اور مندروں کے دروازے بھی۔ یہاں مسلمان بھی برابر کے حق دار تھے، اور غیر مسلم بھی۔ یہاں رنگ و نسل کی کوئی قید نہ تھی، صرف ایک اصول تھا – جو ضرورت مند ہے، وہ ہمارا اپنا ہے!
یہی نہیں یہ روشنی صرف ہمارے ملک تک محدود نہ رہی، بلکہ یہ سرحدوں کو بھی پار کر گئی۔ فلسطین – وہ سرزمین جہاں آج بھی بچے ماؤں کے آنچل سے لپٹ کر سوتے ہیں، جہاں گھروں سے دیواریں گر چکی ہیں، جہاں فضا میں بموں اور میزائل کی آوازیں ہیں، جہاں بے سہارگی کا عالم ہے۔
حمایت فاؤنڈیشن گیورائی نے وہاں بھی اپنی موجودگی کا ثبوت دیا، وہاں بھی مالی مدد بھیجی، وہاں بھی بے سہاروں کے لیے دستِ شفقت بڑھایا۔ یہ وہ گھڑی تھی جب حمایت فاؤنڈیشن نے ثابت کر دیا کہ خدمتِ خلق کسی جغرافیائی حد کی پابند نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک وسیع دریا کی طرح ہوتی ہے، جو ہر بنجر زمین کو سیراب کر دیتا ہے۔
دوستو ! ابھی رمضان کا بابرکت مہینہ آنے والا ہے، وہ مہینہ جس میں رحمتیں برستی ہیں، مغفرت کے دروازے کھل جاتے ہیں، جنت کی ہوائیں دلوں کو نرم کر دیتی ہیں، اور نیکی کا اجر 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا” (جو کوئی نیکی کرے گا، اس کو اس کا دس گنا اجر ملے گا) – سورۃ الانعام، 160۔
اور رمضان میں یہ اجر 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے!
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کو سب سے بہترین جگہ خرچ کریں – حمایت فاؤنڈیشن گیورائی کے ذریعے ان مستحقین تک پہنچائیں جو ہماری مدد کے انتظار میں ہیں۔
دوستو! آئیے ہم بھی اس روشنی میں اپنا چراغ جلاتے ہیں، تاکہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں، تو ہماری نیکیوں کے چراغ جلتے رہیں، ہمارے صدقے کے درخت پھل دیتے رہیں، اور ہمارے دیے ہوئے چند سکے کسی مجبور کے لیے دعا بن جائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے