कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حماس کے عسکری کمانڈر محمد ضیف کون ہیں؟

غزہ:14؍جولائی: محمد الضیف حماس کے عسکری کمانڈر جنہیں اسرائیل اپنے نائن الیون ( سات اکتوبر) کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے، وہ کم ہی بولنے اور عوامی مقامات پر سامنے تقریبا نہ آنے والے کمانڈر کے طور پر مشہور ہیں۔ اب تک کم ازکم سات بار قاتلانہ حملوں اور کارروائیوں میں نشانہ بنانے کی کوششوں کے باوجود بچ نکلے۔اسرائیلی فوج کے مقابل اس چھلاوا صفت کمانڈر کی قسمت اور اہلیت دونوں ہی حیران کن رہی ہیں۔ ہفتے کے روز محمد ضیف کوغزہ کے شہرخان یونس میں بمباری کے نشانے پر لیا گیا۔ اس بمباری میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 71 فلسطینی ہلاک اور 289 زخمی ہو چکے ہیں۔تاہم ضیف کے بارے میں کوئی ایسی تصدیق شدہ اطلاع نہیں ہے۔ حتی کہ اسرائیلی فوج بھی ایسا کوئی دعوی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسرائیل کے ایک سیکورٹی عہدے دار نے بتایا اس بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔البتہ اسرائیلی فوج کو یہ یقین ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک غزہ میں حماس کی زیر زمین دفاعی سرنگوں اور غزہ کی گلیوں سے کیے جانے والے فوجی آپریشنز کی ہدایات محمد ضیف ہی اپنے دوسرے سینئیر ساتھیوں کیساتھ مل کر دیتے رہے ہیں۔تیس سال پہلے حماس کے عسکری ونگ کو کھڑا کیا جانے لگا تو ضیف نے غزہ مین زمینی سرنگوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا اور بم سازی کی مہارت کو بڑھاوا دیا۔ اسرائیل حماس کے جن چند عسکری رہنماں کا سر سب سے زیادہ چاہتا آیا ہے محمد ضیف ان میں سے ایک ہیں۔ اسرائیل ضیف کو خودکش حملوں میں مارے جانے والے درجنوں اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار بھی سمجھتا ہے۔ اب سات اکتوبر کا اسرائیل پر حماس کا حملہ 75 برسوں کے دوران اسرائیل کے لیے بد ترین اور تباہ کن حملہ رہا ہے۔سات اکتوبر کو طوفان الاقصی حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے یحی السنوار ، محمد ضیف اور مروان عیسی کے قتل کا تہیہ کیا تھا۔ ان میں سے مروان عیسی کی ماہ مارچ میں ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔ سات اکتوبر کے اس تاریخی حملے کو محمد ضیف نے ہی طوفان الاقصی کا نام دیا تھا۔ تاکہ اسرائیل کو پیغام دے سکیں کہ یہ اس کی طرف سے مسجد اقصی پر حملوں کا جواب ہے۔حماس سے جڑے ایک ذریعے نے بتایا ‘ ضیف نے اس طوفان الاقصی کی منصوبہ بندی 2021 مئی میں کی تھی۔ یہ مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر اسرائیلی حملے کے جواب میں طے کیا گیا تھا۔’اسرائیل نے مسجد اقصی پر حملہ ماہ رمضان میں کیا تھا۔ حماس سے جڑے ذریعے نے مزید بتایا مسجد اقصی پر اسرائیلی حملے نے فلسطینی عوام میں سخت رد عمل اور غصہ پیدا کیا تھا۔ اس وقت اسرائیل نے فلسطینیوں پر الزام دھر دیا کہ یہ یروشلم میں اشتعال اور تشدد کو ہوا دے رہے تھے۔ تاہم فلسطینیوں نے اس الزام کو مسترد کیا تھا۔
اقصی کا غصہ
کمانڈر محمد ضیف کی اب تک صرف تین تصاویر سامنے آسکی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر ضیف کی 20 سال کی عمر کے قریب کی ہے۔ دوسرے میں اس نے چہرے پر ماسک لیا ہوا ہے، یہ اس وقت کی ہے جب 7 اکتوبر کو محمد ضیف کی طرف سے آڈیو پیغام ریلیز کیا گیا۔ جبکہ ایک تصویر اس کے سایہ کی ہے۔58 سالہ ضیف کم ہی بولنے والا اور کم ہی نظر آنے والا کمانڈر ہے۔ جب حماس کے ٹی وی چینل نے کہا کہ محمد ضیف آج کچھ کہیں گے تو فلسطینیوں نے سمجھا کہ اب کچھ بڑا ہونے والا واقعہ بہت قریب ہے۔ضیف نے اس موقع پر کہا ‘آج الاقصی کا غصہ، ہماری عوام کا غصہ اور ہماری قوم کا غصہ پھٹنے والا ہے۔ ہمارے مجاہدین آج بتانے والے ہیں کہ اس جرائم پیشہ دشمن کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے۔’ یہ بات محمد ضیف نے آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کہی۔حماس کے قریبی ذریعے نے بتایا 7 اکتوبر کا حملہ محمد ضیف اور یحی السنوار نے مل کر شروع کیا تھا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اس کا اصل معمار محمد ضیف ہے۔ حماس کے اس شعبے میں دو شاہ دماغ ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک ماسٹر مائنڈ ہیں۔ایک اسرائیلی سیکیورٹی ذریعے نے کہا ‘7 اکتوبر کے حملے کی سوچ بچار سے لے کر عملی شکل دینے تک ضیف اس کا براہ راست حصہ تھا۔ اس منصوبہ کا تصور دراصل ضیف نے ہی دیا تھا۔ جس نے دیر تک اس کو اسرائیل سے چھپائے رکھا اور اسرائیل دھوکے میں رہا۔حماس اسرائیل کے بڑے دشمن ایران کا اتحادی ہے۔ وہ غزہ میں جنگ یا ٹکرا میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی کیونکہ اسے معاشی اعتبار سے آگے بڑھانے کی خواہش تھی کہ وہ 2007 سے غزہ میں حکمرانی کر رہی ہے۔ لیکن جب اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو زیادہ معاشی ترغیبات دینے کا آغاز کیا تو گروپ کے جنگجوں کو تربیت دینا شروع کر دی گئی۔ یہ تربیت کھلے میدانوں میں بھی دی گئی جو اسرائیلی فوج کے لیے تھے۔دوسری جانب محمد ضیف نے بہت پرسکون آواز میں کہا ‘حماس نے بارہا اسرائیل کو انتباہ کر رکھا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور مسجد اقصی کے خلاف اپنے جرائم بند کر دے اور فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ ختم کر دے۔’اب تک غزہ کی اسرائیلی جنگ میں 38300 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
حماس میں کئی دہائیاں
محمد ضیف جس کا اصل نام محمد مسیح ہے۔ 1965 میں خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوا جو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ میں قائم کیا گیا تھا۔ وہ 1987 میں حماس کی دوسری انتفاضہ کے دنوں میں حماس میں شامل ہوا اور پھر محمد ضیف کے نام سے لیڈر کے طور پر جانا جانے لگا۔ اسے 1989 میں اسرائیل نے گرفتار کیا اور 16 ماہ تک جیل میں نظر بند رکھا۔محمد ضیف نے اسلامی یونیورسٹی غزہ سے فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی کے مضامین پڑھے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کی انٹرٹینمنٹ کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ سٹیج پر مزاحیہ کردار بھی ادا کیا۔حماس کے ایک ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کے ایک حملے میں محمد ضیف کی آنکھ ضائع ہوگئی تھی اور اس کی ٹانگ پر بھی گہرا زخم آیا تھا۔ محمد ضیف فلسطینی نوجوانوں کے لیے ایک ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔محمد ضیف کی اہلیہ، 7 ماہ کا بیٹا اور 3 سالہ بیٹی 2014 میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے