कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حق کے نام سے باطل کی مدد!

تحریر:ذکی نور عظیم ندوی۔ لکھنؤ

گزشتہ دنوں بنگال میں بابری مسجد کے نام سے ایک نئی مسجد کی تعمیر کے شگوفہ پر جوابتدائی تثرذہن میں آیا وہ یہی کہ یہ سیاسی شطرنج کا نیا مہرہ ہے یا ایک بار پھر حق کے لبادہ میں باطل کی مدد اور تعاون کا نیا کھیل۔ کیونکہ تاریخ اسلام میں ایسے متعدد عبرت ناک واقعات پیش آچکے ہیں جہاں باطل نے حق کے پْرکشش لباس میں آکر اور دین کے نام پر وہ فساد برپا کیا جس سے امت کی وحدت پارہ پارہ ہوئی، امت میں دوری پیدا ہوئی، خونریزی پھیلی، اور ایسے زخم وجود میں آئے جن کی چبھن صدیوں تک محسوس ہوتی رہی۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ فتنے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے جو نیکی اور حق کے نام سے نمودار ہوئے، کیونکہ جب برائی حقیقی شکل میں نمودار ہوتی ہے تو اسے پہچاننا مشکل نہیں ہوتا مگر جب وہ خیر کا لباس اوڑھ لیتی ہے تو اس فریب کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ فتنہ ہے جسے ’’حق ْرید بہ باطل‘‘ (یعنی وہ حق جسے باطل مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا )کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
ان فتنوں کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ عام طور پر پسندیدہ دینی قدروں (امر بالمعروف، نہی عن المنکر، عدل و انصاف، حریت و آزادی، جہاد و حقوق کی بازیابی، شریعت کی سربلندی، خدمت خلق و حقوق انسانی) کے نام سے اٹھتے ہیں اور ان میں ایسی چمک، دل فریبی اور نعرے استعمال ہوتے ہیں کہ بہت سے مخلص اہلِ ایمان بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔
تاریخ اسلام میں اس کی پہلی مثال ان گروہوں کی صورت میں سامنے آئی جنہوں نے قرآن کی بعض آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ظاہری معنی میں استعمال کیا اور من پسند نتائج نکالے ان میں سب سے نمایاں طبقہ وہ تھا جس نے ’’اِنِ الحْکمْ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ کو محض نعرے میں تبدیل کر کے مسلمانوں کی تکفیر اور ان کے خلاف تلوار اٹھانے کا جواز فراہم کیا۔ اس آیت کا اصل مقصد عدل، اطاعتِ الٰہی، اور اجتماعی نظم و نسق کی درستگی تھا، مگر موقع پرستوں نے اسے خانہ جنگی کا عنوان بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دین نعروں کا مجموعہ بن گیا، اور امت کے خون سے زمین سرخ ہو گئی۔ اس کے پس پردہ سب سے بڑا دھوکہ یہی تھا کہ بات قرآن کی کی گئی، مگر مزاج نبوی سے ہٹ کر، توحید کا دعوہ مگر عمل تفرقہ اور خونریزی کا، کلمہ حق کا مگر مقصود حق نہیں باطل۔
اسی طرح تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے لوگ بھی اٹھے جنہوں نے محبت اہلِ بیت کو اساس بنا کر ایسا غلو پیدا کیا کہ بھولے بھالے مسلمان ایمان کی سیدھی راہ چھوڑکر باطل کی ڈگر پر چل پڑے۔ محبت کے نام پر صحابہ کرام کے خلاف بغض کو فروغ دیا، امت مسلمہ کو تقسیم کیا، اور دین کی بنیادوں میں وہ شگاف ڈالے جنہوں نے عقیدہ اور عبادات دونوں کو بدل کر رکھ دیا۔ یہاں بھی خیر کے نام پر فتنہ ظاہر ہوا اور وہ محبت جو دین کا حصہ ہے جب حد اعتدال سے نکلی تو توحید کے عقیدہ سے ٹکرا گئی، امت میں انتشار کا سبب اور ایک بڑی آزمائش بن گئی۔
تاریخی فتنوں میں وہ تحریکیں بھی شامل ہیں جنہوں نے عدل و مساوات اور ظلم کے خاتمے کے نام پر دین کی بنیادی تعلیمات سے کھلواڑ کی کوشش کی۔ مگر حقیقت میں ان کا مقصد دین کو کمزور کرنا اور اس کی بنیادوں میں شگاف پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے عبادات کو بے معنی قرار دیا، شریعت کی عمارت کو پامال کر دیا، اور حرم کی حرمت تک کا خیال نہیں کیا۔ یہاں بھی انھوں نے عدل کا نام اور نعرہ استعمال کیا ، مگر اس کے اندر فتنہ اور فساد پوشیدہ تھا۔
یہ سب کسی خاص زمانہ کی داستان نہیں بلکہ ایسے فتنے آج بھی نئے چہروں، نئے طریقوں اور نئے نعروں کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں اور نہ صرف زیادہ باریک ہیں بلکہ زیادہ مؤثر بھی، کیونکہ ان کے پیچھے میڈیا، سوشل پلیٹ فارم، اور فکری لابیاں ہوتی ہیں۔ اسی لئے یہ بات ہر کچھ دنوں کے بعد سامنے آتی ہے کہ بعض ایسے لوگ بھی بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو دین کو بنیادی سطح پر نقصان پہونچانے کا سبب بنتے ہیں۔ کچھ شدت پسندی کی طرف لے جاتے ہیں، کچھ بے دینی کی طرف، کچھ جذباتی شورش کی طرف، اور کچھ ایسے شک و شبہات پیدا کرتے ہیں کہ ایمان کی بنیادیں ڈگمگا جاتی ہیں۔
آج کا سب سے بڑا فتنہ شدت پسندی ہے۔ جس میں چند مقدس اعمال کا نام لیا جاتا ہے، مگر نبوی طریقہ کی پرواہ نہیں کی جاتی، وہ جذبات سے مغلوب اور دین کی حقیقی سوجھ بوجھ سے بے نیاز ہوکر شریعت کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کی دعوت میں حکمت کی جگہ غصہ، نرمی کی جگہ سختی، اور تدریج کی جگہ بیجا تیزی ہوتی ہے۔ وہ دین کے نام پر نوجوانوں کو غلط راستے پر لے جاتے ہیں اور امت کی ساکھ کو دنیا بھر میں مجروح کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ خیر کا نام لے کر اگر فساد کیا جائے تو وہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ دین امن اور انسانیت کی حفاظت کا نام ہے اور وہ تمام کاوشیں جو ان بنیادوں کو نقصان پہونچائیں تو اس کا نعرہ جتنا بھی پر کشش ہو، وہ باطل ہے۔
اسی نوعیت کے فتنوں میں تجدید کا لبادہ اوڑھ کر دین کے قطعی اصولوں کو مشکوک بنانا اور شریعت کے ثابت شدہ احکام پر سوال اٹھانا بھی شامل ہے، جس میں قرآن اور احادیث کے نصوص کو بعض لوگ اپنی محدود سمجھ کی بنیاد پر کمزور اور ناقابل عمل قرار دیتے ہیں، اور قرآن و سنت کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تجدید و ترقی کے نام پر ایمان کی بنیادیں کمزور کرتے ہیں۔ ان کی یہ روش اور طریقہ کار امت کو حق سے دور اور مصادر اسلام سے متنفر کرنے کا سبب بنتا ہے اور یہ بھی اس طرز عمل سے نیکی اور خیر کے نام پر باطل کے راہی بن جاتے ہیں۔
آج کا ایک بڑا فتنہ یہ بھی ہے کہ دین کے مکمل تصور کے بجائے اس کے بعض جزوی احکام کو اس طرح پیش کیا جائے کہ اسلام کی حقیقی تصویر ہی مسخ ہو جائے۔ کوئی عبادات پر اتنا زور دیتا ہے کہ عقیدہ اور اخلاقی و اجتماعی ذمہ داریاں دب جاتی ہیں، کوئی دعوت کے نام پر فتنہ کھڑا کرتا ہے، کوئی حقوق کے نام پر شریعت کی حدود کو پامال کرتا ہے، اور کوئی اصلاحِ معاشرہ کے نام پر ایسی آزادی کا ماحول بناتا ہے جو اللہ اور رسول کی پیروی سے متصادم ہو۔ اور اس کے لئے بھی نیکی کے عنوانات استعمال کیے جاتے ہیں مگر وہ نبوی تعلیمات سے انحراف اور دین کے ناقص تصور پر مبنی ہوتا ہے۔
ایسے فتنوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ دین کو قرآن و سنت اور صحابہ کرام کی زندگیوں کی روشنی میں سمجھا جائے۔ جذبات کے بہاؤ میں بہہ کر، سوشل میڈیا کے نعروں سے متثرہو کر، یا ناقص علم رکھنے والوں کی باتوں میں آ کر دین کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ فتنوں سے حفاظت کا راستہ اعتدال، توازن، اور علمی بنیادوں کی مضبوطی ہے۔ جبکہ نیکی کے نام پر پیدا ہونے والے فتنے عقل کو دھوکا دیتے ہیں، جذبات کو بھڑکاتے ہیں، ایمان کو کمزور کرتے ہیں، اور امت کی وحدت کو برباد کر دیتے ہیں، اور دشمنان اسلام کے لئے ماحول سازگار کرتے ہیں۔
ایسے فتنوں کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب لوگ دین کو گہرائی سے سمجھیں، ہر عمل کو شریعت کی روشنی میں پرکھیں، اور ایسی ہر تحریک اور اقدام سے دور رہیں جو نرمی کے بجائے سختی، حکمت کے بجائے جذبات، اور اتحاد کے بجائے انتشار پیدا کرے۔ لہذا اس وقت ایسے افراد کے سامنے آکر قائدانہ رول ادا کرنے کی سخت ضرورت ہے جو نیکی کے نام پر برپا فتنوں کو پہچان سکیں، حق کو باطل کی آمیزش سے الگ کر سکیں، اور لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر سکیں کہ دین میں اللہ کی مخلوق سے رحمت و ہمدردی، معاملات میں حکمت و مصلحت اور فتنہ و فساد سے دوری بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور ایسے تمام اقدام غیر مطلوب ہیں جو ان سے متصادم ہوں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے