कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)

قسط دوم:

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(أستاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

انسان کے اندر تحقیق و جستجو کا مادہ پنہاں ہوتا ہے، جو حجابات اٹھاکر پوشیدہ چیزوں کو نمایاں کرتاہے، اور یہی مادہ سمندر کی گہرائیوں میں لؤلؤ اور مرجان کی تلاش اور خلاؤں کے سربستہ رازوں کو آشکارا کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اسی مادہ کی بنیاد پر انسان اپنے بڑوں اور اسلاف کے حالات، کمالات، عروج اور تابندہ کارناموں سے آشنا ہونے کا خواہاں ہوتا ہے کیونکہ باکمال افراد و شخصيات کے حالات کی تحقیق و تفتیش اور مطالعہ میں عبرت و نصیحت کے ساتھ عقیدت و محبت کے جذبات بھی شامل ہوتے ہیں اسی جذبۂ تجسّس نے حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کے حالات کو ارقام کرنے پر آمادہ کیا،
تدریسی خدمات:
مولانا عبدالحی صاحب ایک ماہر مدرس تھے ان کی زیر تربیت حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کا. جوہرِ استعداد بھی نمایاں ہوچکا تھا، ١٣٦١ھ میں دارالمبلغین سے تکمیل کے بعد امام اہل سنت، حضرت مولانا عبدالشكور صاحب لکھنؤی نے آپ کو محمودہ آباد(ضلع سیتاپور یوپی) بھیجا جو ایک شیعی ریاست تھی، یہاں مولانا نو سال رہے اور پوری ہمت و جرأت کے ساتھ رافضیت کی بیخ کنی، اور دینِ محمدی کی نشر و اشاعت میں مصروف رہے، ١٩٧٠ میں والدین کی ضعیفی، اور خانگی احوال کی وجہ سے وطنِ عزیز خیرآباد تشریف لائے، یہاں اپنی مادر علمی مدرسہ منبع العلوم میں چند سال تدریسی خدمات انجام دی ، اوقات مدرسہ کے علاوہ، محنتی اور تعلیم کے رسیّا طلبہ کو اپنے گھر پر مختلف کتابیں پڑھاتے تھے، چند سال کے بعد تدریس کو چھوڑ کر مولانا نےکاروباری لائن اختیار کر لی ، جب یہ اطلاع ان کے استاذِ عالی قدر محدث کبیر و محقق جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی کو ہوئی تو انھوں نے ناگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ میں جلد ہی تمہیں کسی مناسب جگہ بھیجوں گا تم اس کے لئے تیار رہو، چنانچہ مولانا عبدالغنی صاحب رسولوی ( خلیفہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح) کی طلب پر ان کو جامعہ مدینۃ العلوم رسولی ( بارہ بنکی یوپی ) بھیج دیا ، جہاں ترمذی و مسلم شریف اور موقوف علیہ کی کتابیں آپ کے سپرد کی گئیں ، چند سال وہاں رہے، لیکن وہاں کے حالات اطمینان بخش نہ رہے، تو پھر وہاں سے غالباً مدرسہ فلاحِ دارین( ترکیسر گجرات) تشریف لے گئے یہاں کے مکمّل حالات سے واقفیت نہیں ہوسکی مگر آئینۂ فلاح دارین کے مرتب حضرت مولانا احمد صاحب ٹنکاروی(استاذ مدرسہ فلاح دارین ترکیسر) لکھتے ہیں کہ اس نیک گھڑی میں فلاح دارین کے ان اساتذہ عظام کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں جو اس دارفانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما گئے، جنہوں نے اپنے خون جگر سے فلاح دارین کی سینچائی فرمائی، اور ادارے کو ثریا تک پہنچایا ، جن کے علم وادب ، تعلیم و تربیت اور دعائے نیم شبی سے اس گلشن کی باغ و بہار قائم ہے۔ پھر وفات پانے والے اساتذہ کرام کے اسماء کو ترتیب وار ذکر کرتے ہوئے، حضرت شمسی صاحب رح کے نام کو اس طرح ذکر کیا
۱۳ حضرت مولانا سلیمان شمسی صاحب ( تاریخِ وفات ١٩٩٩ء مدفن ناندیڑ )
(آئینہ فلاحِ دارین صفحہ٣١ )”
راقم السطور نے اپنے دیرینہ رفیق مفتی امتیاز احمد فلاحی صاحب (استاذ دارالعلوم محمدیہ) سے اس کی تصدیق چاہی تو مفتی صاحب نے توثیق کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رح کے اشعار مدرسہ کی دیوار اور آفس میں کندہ ہیں، تو شمسی صاحب نے فلاحِ دارین میں تدریسی خدمات انجام دی مگر مکمّل جانکاری حاصل نہ سکی، شاید حضرت کی خود نوشت سوانح حیات، حیات شمسی میں اس بارے میں کچھ معلومات ہوں
بحیثیت شیخ الحدیث مالیگاؤں آمد:
پھر جب مدرسہ بیت العلوم( مالیگاؤں) کی مسندِ حدیث خالی ہوگئی تو حضرت مولانا عبدالستّار صاحب اعظمی کے اشارے پر حضرت مولانا عبدالقادر صاحب قاسمی رح (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند) نے محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی سے درخواست کہ مدرسہ بیت العلوم میں دورہ حدیث کی کتب کی تدریس کے لیے کسی کو بھیج دوں تو محدث کبیر نے 1967 ء میں آپ کو مسندِ حدیث کے لئے بطورِ شیخ الحدیث بنا کر مالیگاؤں روانہ کیا، آپ نے مدرسہ بیت العلوم میں بطورِ شیخ الحدیث ١٣ سال گزارے، آپ کے درسِ بخاری سے پورا مہاراشٹر گونج اٹھا، تعلیمی معیار بلند ہوا، آپ نے اپنے دورِ زرین میں ان گنت قابلِ رشک کام انجام دئیے، آپ کے دورِ صدارت میں مدرسہ اپنی آب و تاب کے ساتھ منازلِ عالیہ پر رواں دواں تھا، مگر پھر ١٣ سالوں کے بعد کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ مولانا نے مدرسہ بیت العلوم سے استعفیٰ دے دیا،
دارالعلوم محمدیہ کی بنیاد:
مدرسہ بیت العلوم سے سبکدوشی کے بعد شہرِ عزیز کے چند نامور علمی انتساب سے منسوب، اسلاف کی امانت امین علماء کرام خصوصاً حضرت مولانا عبدالقادر صاحب قاسمی رح، حضرت مولانا مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی، حضرت مولانا شکیل احمد صاحب قاسمی، وغیرہ کے ساتھ چند علمی محبت سے سرشار، امتِ مسلمہ کے تئیں دردِ دل رکھنے والے روشن ضمیر، اہل ثروت خصوصاً حاجی عبدالرحمن صاحب 62، حاجی محمد عمر گلشن مقادم، صاحب حاجی محمد مصطفیٰ بفاتی صاحب، حاجی محمد مصطفیٰ مکی صاحب کے علاوہ شمسی صاحب رح کے مخلص شاگردوں نے اس بات کی کوشش کی حضرت مولانا مالیگاؤں سے نہ جائے، تو 1980ء میں قلبِ شہر میں ایک افتاد زمین جو کسی موقع پر حاجی کرم اللہ صاحب نے وقف کی تھی، اسی زمین پر حضرت شمسی صاحب رح نے اپنے ہمدردوں، محبین اور شاگردوں کے ساتھ مل کر ایک اقامتی درسگاہ دارالعلوم محمدیہ کے نام سے قائم کیا، اور اپنی علمی لیاقت، اسلامی ذہانت، ہمہ گیر فکری صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نومولود مدرسہ کو پروان چڑھانے کی کاوشات کی، جس کا ثمرہ ہیں کہ دینیات اول سے لیکر دورہ حدیث تک تمام کلاسیں جاری وساری ہوگئی اور ملک کی نامور علمی شخصیت کی آمد و رفت بھی شروع ہوئی، تقریباً آپ 8 سال تک دارالعلوم محمدیہ کی مسندِ حدیث پر جلوہ افروز رہے،
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا:
ابھی آپ دارالعلوم محمدیہ کے سنگ ریزوں کو تراش کر کندن بنارہے تھے کہ جوہر شناس رئیس جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا خادم القرآن و المساجد حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب نے ١٤٢٠ ھ، باصرار اشاعت العلوم اکل کوا کی مسندِ حدیث کے لئے شیخ الحدیث بنا کر لے گئے اور آخری زیست تک شیخ الحدیث کے منصب پر فائز شعبان ۱۴۲۰ھ ( نومبر ۱۹۹۹ء ) میں مولانا اپنے وطن خیر آباد تشریف لائے ، کچھ دن قیام کے بعد اپنے صاحبزادے مولانا شاہد جمال صاحب (استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا) کے ہمراہ ناندیڑ چلے گئے جہاں ان کا قیام تھا ، ناندیڑ میں ہی ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۳۰ھ مورخہ ۲۸ دسمبر 1999 ء کو مولانا کا انتقال ہوا ، اور نادیڑ ہی ان کی آرام گاہ ثابت ہوئی، اپنی پوری زندگی درس تدریس تعلیم و تعلم اور خدمتِ دین کے لیے وقف کردی تھی، رحمہ الله رحمة واسعة تقريبا نصف صدی سے زائد عرصہ تک وہ اپنی علمی ضیاء پاشیوں سے تاریکیوں کو منور کرتے رہے اور طالبانِ علوم بنوت کی تشنگی کو سیرابی عطا کرتے رہے 81 سال کی عمر میں وہ ہزاروں فیض یافتگان محبین کو سرگوار کرکے اپنی اصل منزل کی طرف چلے گئے،
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
آخری قسط آئندہ

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے