कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب ؒ (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ مالیگاؤں)

تیسری قسط

از قلم: مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

زندہ اور باحوصلہ قوموں کی، ایک نمایاں شناخت یہ ہوتی ہے، کہ ان کا رشتہ اپنے ماضی کی روشن تاریخ ، ماضی کے اہل عزیمت اور آئیڈیل بزرگوں، ماضی کے بیش قیمت اثاثہ اور رہنما اقدار سے بہت مضبوط ہوتا ہے، واقعہ یہی ہے کہ اپنے روشن ماضی سے وابستگی اپنے حال کو تاب ناک بنانے کا مستحکم ذریعہ ہے، اور پھر اسی سے درخشاں مستقبل کی تعمیر کی راہیں ہموار ہوتی ہے ماضی کی بافیض، مثالی اور قابلِ رشک شخصِیَّات میں سے ایک نمایاں نام حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب کا ہے
تھانہ بھون کا سفر:
زمانہ طالب علمی میں جس وقت حضرت دارالعلوم دیوبند میں زیرِ تعلیم تھے تعطیل وسطِ مدتی میں عارف بالله حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح کی دید اور زیارت کے لئے چند رفقائے درس کے ہمراہ دیوبند سے تھانہ بھون کے لئے بشوقِ رغبت و محبت تشریف لے گئے ، تھانہ بھون پہونچ کر مقصدِ آمد کو آشکارا کرتے ہوئے ملاقات کی اجازت چاہی اجازت موصول ہونے کے بعد حکیم الامت سے خصوصی ملاقات ہوئی، رات خانقاہ میں گزاری، دو نماز، عشاء اور فجر حضرت کی اقتداء میں ادا کی، روانگی کے وقت حکیم الامت رح نے حضرت کے سر پر دستِ شفقت پھیر کر علمِ نافع اور عملِ صالح کے حصول کے خصوصی دعا فرمائی، جس کا ثمرہ، عملی زندگی میں خوب نمایاں ہوا،
حضرت مولانا کے اساتذہ کرام:
حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب کی خوش نصیبی تھی کہ ان کو اپنے وقت کی بلند پایہ اور گرانمایہ علمی شخصیتوں کے خرمنِ علم سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی، آپ کو جن اصحاب فضل و کمال کے دامنِ فضل سے وابستگی اور سر چشمہ علم وفن سے کسب فیض اور اکتساب علم کا شرف حاصل ہوا ان میں کئی ایک اس زمانہ کے عبقری اور علم وفن کی آبرو تھے، بلکہ ان میں چند ایسے بھی تھے کہ ان جیسے صدیوں میں بہ مشکل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں قابلِ ذکر محدثِ کبیر و محققِ جلیل ابو الماثر علامہ حبیب الرحمن صاحب اعظمی، (تلمیذِ خاص علامہ انور شاہ کشمیری رح) حضرت مولانا عبداللطيف صاحب نعمانی رح،(تلمیذِ علامہ ابراہیم بلیاوی رح حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی، (تلمیذِ خاص و منظورِ نظر علامہ انور شاہ کشمیری رح) مولانا عبدالحی صاحب رح، مولانا شبلی شیدا صاحب، مولانا نزیر احمد خیرآبادی، مولانا شاہ محمد سریُانوی،
طریقہ تدریس شاگردوں کی زبانی:
راقم السطور نے شمسی صاحب کو دیکھا نہیں مگر حضرت کے شاگردوں سے طریقہ تدریس معلوم ہوا تو ان کو الفاظ کا جامہ پہنا کر قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی
حضرت مولانا تعلیم و تدریس میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے، جس فن کو پڑھاتے تھے ماہرِ فن معلوم ہوتے تھے، ، درس حدیث کے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ علم کا ایک دریا ہے جو امنڈا چلا آرہا ہے ، رواة پر فنِ اسماء الرجال کی حیثیت سے بحث کرتے ، مناسب مقام پر رواۃ کے حالات پر روشنی ڈالتے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جب کسی صحابی کا ذکر آجا تا ان کی خصوصیت ذکر فرماتے، اس کے بعد متن حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھاتے کہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتا تھا ، تعارض کو اس خوبی سے دور کرتے کہ یقین کرنا پڑتا کہ ان میں کبھی تعارض تھا ہی نہیں، تراکیب نحویہ اور بلاغت کی جانب بھی اشارہ کرتے جاتے ، ساتھ ہی فنِ حدیث کی اصطلاحات کی تشریح ، صحابی کی احادیث مرویہ کی تعداد اور وجہ تخصص، مذاہب ائمہ اربعہ کو بھی واضح کرتے ، دیگر علوم و فنون کی اصطلاحات کی تشریح، فرق باطلہ کے عقائد کی توضیح مع دلائل تراجم ابواب سے احادیث مرویہ کی مطابقت، اگر کوئی حدیث اختلافی مسئلہ سے متعلق آجاتی تو تفہیمِ حدیث کے بعد اختلافِ مذاہب اور برائمہ کے دلائل بالتفصیل بیان کرتے اور سب سے آخر میں مذہب حنفی کو قوی دلائل سے مزین فرماتے ، ۔ مشکل سے مشکل مسائل کا حل ایسے عنوانات سے بیان کرتے کہ سننے والے پر ایک کیفیت سی طاری ہوجاتی ، جس سے مولانا کے تبحرِ علمی اور ہرفن میں مہارت کا انداز ہ ہوتا ہے۔ دورانِ درس میں کبھی کوئی غیر متعلق بات نہیں کرتے اور نہ کبھی تکان دور کرنے کے لیے یا ذہن کو نشیط کرنے کے لیے کوئی لطیفہ، واقعہ یا علمی نکتہ بیان کرتے تھے، یہ مولانا کا خاص طرز تھا جو عام اساتذہ کے طرز سے جدا گانہ تھا۔
بعض چیدہ شاگردوں کے نام:
حضرت مولانا کے شاگرد کی ایک طویل فہرست ہیں جو ملک کے مختلف علاقوں میں میں اپنے فرضِ منصبی کو ادا کررہے ہیں ان میں بعض شاگرد قابلِ ذکر ہیں، حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی (شیخ الحدیث و صدر المدرسين دارالعلوم محمدیہ) حضرت مولانا شکیل احمد صاحب قاسمی (استاذ تفسیر و حدیث دارالعلوم محمدیہ)
حضرت مولانا صغير شمسی صاحب (نائب صدر جمعیتِ علماء سلیمانی چوک مالیگاؤں)
حضرت مولانا مفتی یعقوب صاحب شمسی، حضرت مولانا میر ذاکر علی صاحب محمدی، (پربھنی) حضرت مولانا نورالدین صاحب محمدی، مولانا نثار احمد صاحب محمدی،
حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب کی دلی چاہتـ:
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کی بناء بھی اسی عرصہ میں رکھی گئی، اور درجہ بدرجہ، کلاسوں میں اضافہ ہوتا رہا، جب کلاس مشکوة تک پہونچ گئی تو مولانا وستانوی صاحب شمسی صاحب رح سے اصرار کرتے رہے کہ آپ اکل کوا تشریف لے چلیں، مگر حضرت فرماتے تھے کہ کوئی وجہ نہیں، اس نومولود مدرسہ کو چھوڑ کر کیسے اکل کوا آجاؤ، ؟ مگر مولانا وستانوی صاحب نے ہمت نہیں ہاری مسلسل کوشش کرتے رہے اور حرمین شریفین کی ہر حاضری پر ملتزم اور غلافِ کعبہ سے چمٹ کر جامعہ کی خدمت کے لیے خدا تعالیٰ سے حضرت مولانا سلیمان شمسی صاحب رح کو مانگا، دعا قبول ہوئی اور حضرت مولانا بڑی شان سے اکل کوا تشریف لے گئے
حضرت مولانا کی تصانیف* حضرت مولانا نے درس تدریس اور امامت و خطابت کے ساتھ تصنیف و تالیف پر بھی خصوصی توجہ دی۔
١)فقہ حنفی اور ردِ غیر مقلدیت
٢)خطاب شمسی (رودادِ کربلا)
٣)خود نوشت سوانح حیات بنام حیاتِ شمسی
٤) منظوم کلام شمسی
آپ کا تصنیفی کارنامہ ہے
امامت و خطابت:
تدریس اور دیگر علمی و عملی ذمہ داریوں کے ساتھ امامت و خطابت کے مرتبہ رفیع پر فائز رہے تقریباً غُربید مسجد میں 1968 تا 1986

بیس سال تک خدمت انجام دی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے