कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندویؒ

عہدحاضر کی ایک ناقابل فراموش شخصیت

تحریر: مولانا ڈاکٹرمحمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس اورنگ آباد
موبائل : 9325217306

حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندویؒ جو بانیٔ جامعہ ،ولیٔ کامل، دعوت دین کے مخلص سپاہی حضرت مولانا سعیدخان صاحبؒ کے پہلے داماد اور مولانا فاروق قاسمی کے حقیقی پہلے بہنوئی تھے اور جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کے موجودہ جنرل سکریٹری مولانا رضوان خان ندوی کے حقیقی پھوپھا جان تھے۔ مولانا محترم جنھوںنے مدرسہ عربیہ کاشف العلوم کو ریاست مہاراشٹر کا ایک عظیم ادارہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کی شکل میں بنایا یعنی ایک چھوٹے سے دینی ادارے کو مہاراشٹر کی ایک عظیم قدآور اور علاقۂ مرہٹواڑہ کی معروف و مشہور دینی درسگاہ کا روپ دلایا۔ حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کی شخصیت ہی ایسی ہے جنھوں نے بیشتر اراکین مجلس عاملہ کو رکنیت دے کر ان کو دین کی خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ چاہے وہ مجلس عاملہ کے پہلے صدر مرحوم حاجی عبدالعزیز حاجی جمال ہو یا مرحوم نورمحمد صاحب ہو یا دیگر بیشتر باغبان برادری سے تعلق رکھنے والے مجلس عاملہ کے ارکان ہو۔ موجودہ بے شمار اراکین مجلس عاملہ جن میں بطورِخاص جناب محمدعبدالجبار باغبان ، محمد اسلم راجستھانی اور جناب پاشاہ بھائی اور دیگر بہت سارے اراکین ایسے ہیں جنھیں مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ نے اپنی دور رس نگاہوں اور دوراندیشی کے ذریعہ اپنے قریب کیا اور دینی مدرسے کی خدمت کے لئے انھیں رکنیت عطا کی۔ ان کے انتقال کو تقریباً دس سال ، دو مہینے ، پندرہ دن ہوچکے ہیں آج اُن کے بارے میں اہل جنتور کے ابنائے کاشف نے محسوس کیا کہ ان کی حیات و خدمات پر ایک روزہ سمینار منعقد کیا جائے۔ اِس لئے ۲۹؍نومبر بروز ہفتہ ابنائے کاشف جنتور نے حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کے حیات و خدمات پر ایک روزہ سمینارمنعقد کر کے فرضِ کفایہ ادا کیا۔بانیٔ جامعہ حضرت مولانا سعیدخان صاحب کی حیات و خدمات پر ۱۶؍۱۷؍ستمبر ۲۰۲۳ء کو ۶۵؍سالہ اجلاس تعلیمی و تقریب دستاربندی کے موقع پر حضرت مولانا سعیدخان صاحبؒ کی حیات و خدمات پر ایک عظیم و ضخیم کتاب کا اجراء عمل میں آیا تھا اور گذشتہ سال ’تاریخ جامعہ‘ نامی کتاب منظرعام پر آئی اور ممکن ہے جامعہ کی تاریخ حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کی پچاس سالہ خدماتِ جلیلہ کے مدنظر ادھوری رہے گی۔جامعہ کی تاریخ کے اگر دس ابواب ہوں تو صرف اور صرف پانچ ابواب حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی کے لئے مختص ہوسکتے ہیں۔ممکن ہے اِس عظیم عبقری اورناقابل فراموش شخصیت پر جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کے اربابِ مجاز اور ذمہ داران نہایت عظیم الشان پیمانے پر ایک روزہ سمینار ضرور بضرور منعقد کریں گے کیونکہ حضرت مولانا کی شخصیت دورِ حاضر کی ایک ایسی عظیم و یادگار شخصیت ہے جن کی خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ بانیٔ جامعہ حضرت مولانا سعیدخان صاحبؒ نے اِس دینی ادارہ کے پودے کا بیج بویا لیکن اِس کی آبیاری حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ نے پچاس سال تک کی۔ اب یہ ایک عظیم اور تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ جنتور کے ابنائے کاشف نے اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی حیثیت اور طاقت کے حساب سے ۲۹؍نومبر بروز ہفتہ ۲۰۲۵ء کو جو ایک روزہ سمینار منعقد کیا ہے اُن کے اِس کام کی جس قدر بھی سراہنا کی جائے کم ہے اور اسے بنظرتحسین دیکھ کر اُن کی ہمت افزائی کرنی چاہئے اور ان کے اس ایک روزہ سمینار کو تمہید سمجھتے ہوئے احاطۂ جامعہ میں حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کے شایان شان دوروزہ نہ سہی کم ازکم ایک روزہ سمینار ضرور منعقد کرنا چاہئے۔ تب ہی کہیں جاکر ان کے خدمات کا صحیح معنی میں اعتراف ہوگا اور ھل جزاء الاحسان الا الاحسان والی بات صادق آئے گی۔
اُم المدارس جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کے سالارِکارواں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندویؒ جن کے لئے یہ شعر ؎
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
معمولی لگتا ہے ، جن کی جامعہ کے تئیں پچاس سالہ خدمات ناقابل فراموش ہی نہیں بلکہ اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم ابتداء میں ایک معمولی مدرسہ تھا لیکن مولانائے محترم کی جہدمسلسل ، عمل پیہم اور میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز پر کے بمصداق ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
پھر یہ کارواں اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہوگیا۔ دورانِ سفر جو حوادثات اور واقعات پیش آئے وہ ایک مرد مجاہد ، میرکارواں کے لئے عام طور پر پیش آتے ہی رہتے ہیں۔ انھیں یقینی طور پر اس بات کا علم تھا کہ ؎
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اس طویل ترین سفر میں بیشمار نشیب و فراز آئے ، دشواریاں ، پریشانیاں ، آزمائشیں سدّراہ ہوئیں مگر ولولہ ، جوش ، عزم ، حوصلہ ہمت کے پیکر مولانائے محترم نے نہایت مستقل مزاجی اور آہنی عزم سے ان تمام شرور و فتن اور غیریقینی حالات کا ڈٹ کر پامردی سے مقابلہ کیا کیونکہ آپ کے سر پر ولی کامل بانی جامعہ مولانا سعید خان صاحبؒ کا دست شفقت اور ساتھ میں مقبول دعاؤں کا توشہ تھا۔ شاید مولانا مرحوم کے پیش نظر یہ شعر رہا ہوگا ؎
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
مولانائے مرحوم کی زندگی کے بیشمار باب ہیں اور ان کی زندگی کا ہر باب روشن اور قابل تحسین ہے۔ مولانائے مرحوم بحیثیت معلم کامیاب اور تاریخ ساز رہے ، وجہ اس کی یہ رہی کہ وہ اپنے طالب علموں کے ساتھ نہایت مشفقانہ برتاؤ کیا کرتے تھے۔ طریقۂ تدریس نہایت موثر و دلنشین ہوا کرتا۔ نظامت کی اہم ذمہ داری سنبھالتے ہوئے تدریسی عمل کے لئے وہ اپنے آپ کو سعادت مند تصور کرتے تھے۔ زندگی بھر سنتوں پر عمل پیرا رہے ، بھلا وہ ’’إنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً‘‘ پر عمل کیوں نہ کرتے؟ نہایت آسان اور عام فہم اندازِتدریس کہ کمزور سے کمزور طالب علم کو بھی بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی۔ عام طور پر معلموں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جماعت میں ذہین طلباء کو پیش نظر رکھ کر تدریسی عمل انجام دیتے ہیں لیکن مولانائے مرحوم کا انداز جداگانہ تھا۔ وہ جماعت میں کمزور ترین طالب علم کو پیش نظر رکھتے اور جب تک وہ کمزور طالبعلم اثبات میں سر نہیں ہلاتا اس وقت تک وہ آگے نہیں بڑھتے اور یہی عمل ایک کامیاب معلم کی پہچان ہے۔ بحیثیت ناظم وہ ایک دوراندیش ، دوررس نگاہوں کے حامل مدبر منتظم رہے جنھوں نے طلباء کی تمام ضروریات ، سہولیات کو بھی مدنظر رکھااور تدریسی اور غیرتدریسی عملہ کی طرف بھی خصوصی توجہ اور نظرالتفات و کرم فرمائی سے کام لیا۔ رعب و دبدبہ ، جلال و جمال کا بے مثال شاہکار جن کی عوام الناس میں بھی نہایت قدر و عظمت اور انتظامیہ میں احترام و عقیدت پائی جاتی تھی ۔ کم بولنا ، کم سونا ، کم کھاناعقلمندوں ، دانشمندوں کی پہچان ہے۔ اسی طرح لوگوں سے میل جول کم رکھنا ، اس حکیمانہ فارمولے پر زندگی بھر گامزن رہے۔ یہی وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ اپنے اندر متقیانہ صفات پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔
جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم دین اسلام کا اور مدارس کی طرح ایک مضبوط قلعہ ہے۔ دین کا ایک آہنی حصار ہے ملت کا تشخص اسی سے قائم ہے ، امت مسلمہ کے لئے ایک دھڑکتا دل ہے۔ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہے۔ اخلاق و ایمان ، اخلاص و روحانیت کا سرچشمہ ہے۔ یہاں مردہ دلوں کو زندگی ملتی ہے۔ یہاں پیاسوں کو سیرابی ملتی ہے۔ یہاں طلباء کے دلوں میں اخوت و ہمدردی ، مساوات و رواداری کی تخم ریزی کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہاں ان کے عقائد و افکار درست کئے جاتے ہیں ، ان میں فکرآخرت پیدا کی جاتی ہے ، کامیاب زندگی گذارنے کے لئے انھیں تیار کیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دینی مدارس معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سوسائٹی اور سماج کا مکھن ہوتے ہیں۔ یہ دینی مدارس اللہ اور اس کے رسول سے آشنا کرانے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں جو ہم تمام کا اہم مقصد ہے۔ اسی لئے ان مدارس سے ہمارا تعلق ایسا ہی ہوناچاہئے جیسا جسم کا روح سے ہوتا ہے۔ آفتاب کا روشنی سے اور پھولوں کا خوشبو سے۔ اگر یہ تعلق باقی ہے تو سمجھ لیجئے جسم و روح دونوں زندہ ہیں اور اگر یہ تعلق ختم ہوگیا تو خدا ہی ہمارا حافظ ہے۔
علمائِ دین اور بزرگانِ دین نے مدارس اور خانقاہوں کے ذریعہ نہ صرف انسانی نفوس کا تزکیہ اور تعلیم و تربیت کا نظم کیا بلکہ اسلام کے تحفظ و بقاء کے لئے مدارس کا جال بچھا دیا۔ یہی مدارس اب اسلام کے لئے محفوظ اور مضبوط قلعے ثابت ہوئے ہیں۔ ان مدارس کی آبیاری ، نشوونما ، بقاء و تحفظ ہی میں اسلام کی حفاظت و بقاء پوشیدہ ہے۔ موجودہ دور میں اس بات کی شدید ترین ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان مدارس کو فتنہ پروروں کی شرانگیزی ، حاسدوں کی ریشہ دوانیوں اور بدنظروں کی نظربد سے بچایا جائے اور داخلی و بیرونی فتنوں سے حفاظت کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔ اس لئے اب ہر کلمہ گو مسلمان پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ جملہ وسائل کو بروئے کار لائے اور ان مدارس کی حفاظت و بقاء کے لئے دامے درمے سخنے ہر ممکن تعاون کریں تاکہ یہ مدارس اسلام کے تحفظ کے لئے ناقابل تسخیر قلعے ثابت ہوں۔
حضرت مولانا محمد ریاض الدین فاروقی ندوی نوراللہ مرقدہ نے دین اسلام کے اس قلعہ کی حفاظت کا جو اہم کارنامہ انجام دیا اور اس کے لئے پچاس سالہ خدمات پیش کیں وہ نہایت قابل قدر ہیں۔ مولانائے مرحوم کی ان بیش بہا خدمات کا اعتراف حقیقت میں اسی وقت ادا ہوسکتا ہے جب ہم اس جامعہ کی ہر طرح سے حفاظت کرنے میں ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں اور خلوص و للہیت سے اس اہم کام کو بحسن و خوبی انجام دینے کی کوشش کریں اور مولانائے مرحوم کے لئے بس یہی دعا ہے کہ اے اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی قبر کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنا دے۔ (آمین)
٭٭٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے