कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا علی میاںندویؒ کی علمی وفکری کاوشیں

یوم وفات پر خصوصی پیشکش(24 نومبر 1914تا31 دسمبر1999)

از:ڈاکٹر محمدسعیداللہ ندوی

مفکراسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی کی ولادت 24نومبر1914ء کو اترپردیش کے مشہور ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ تکیہ کلاں ، میدان پور میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حکیم عبدالحئی تھا اوروالدہ ماجدہ کا اسم گرامی خیرالنساء تھا،مولانا کی نوعمری ہی میں والدِ محترم کا سایہ سرسے اٹھ گیاتھا اورآپ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری آپ کے بڑے بھائی ڈاکٹرعبدالعلی کے کاندھوں پر آگئی۔ انہوںنے آپ کی تعلیم وتربیت میں کسی طرح کی کوئی کسر نہیں چھوڑی اوربڑے انہماک اورلگن کے ساتھ مولانا کی تعلیم وتربیت کی جس کے نتیجہ میں آپ ایک باکمال علمی، فکر ی اوراصلاحی شخصیت کے حامل بنے اور میخانہ علم ودانش کے سچے اورمخلص بادہ خوار ہوئے اور ایک عظیم اسلامی اسکالر ، ماہر ادیب ، عالمی شہرت یافتہ صحافی،تجزیہ نگار اورانشاء پرداز، عبقری شخصیت کے مالک معلم ومربی ، مصنف ماہرِ تعلیمات و لسانیات اوران سب سے بڑھ کر نسخۂ آدمیت تھے۔گویاآپ ستودہ صفات مبلغ اور ہشت نگینہ شخصیت تھے جن کے قلم گہربار سے منظر عام پر آنے والی کتب ورسائل علمی مجالس ومشاغل کے ذریعے اربابِ علم ودانش مستفید ہوتے رہے ۔آپ نے ایک ایسے خانوادہ میں آنکھ خولی جو ایک طرف سیدعرفان شہید کی متحرک تحریک سے وابستہ اوران کے دعوتی فکر کا وارث وامین تھاتودوسری طرف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خاندان اورمجدد الف ثانی احمدسرہندی ؒ کے خلفاء سے ان کا بڑا گہرا ربط تھا،چنانچہ آپ ان تینوں مکاتب فکر کے بادہ کش اورحقیقی وارث وامین ثابت ہوئے۔
آپ نے مغربی افکارونظریات اوراس کے کلچر کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا، قومیت،وطنیت ،علاقائیت ،لسانی تہذیب اورتمدنی تعصب پرستی کا دوردیکھا،مسلم قوم کی مغرب نوازی ،پسماندگی ،جدید تہذیب سے مرعوبیت اورعلم وفن کے میدان میں ان کے جمود وتعطل کا مشاہدہ کیا ،مختلف عالمی اوراسلامی تنظیموں سے آپ کی وابستگی اوران میں عملی شرکت رہی، اپنے دور کے علماء ، صلحاء اورقائدین سے آپ کے گہرے مراسم ہونے کے ساتھ آپ نے عالم اسلام اورعالم عرب کی ممتاز دینی اوراسلامی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں اورعالمی سیاست وحالات سے آگاہی وواقفیت حاصل کی۔ حضرت مولانا نے جس وقت اسلام کی طرف واپس پلٹنے کی صدابلند کی وہ وقت غیراسلامی افکار وخیالات اورخصوصاً پوری مغربی فکر کے عروج کاتھااور اسلامی افکار وخیالات مغربی افکارونظریات وتہذیب وتمدن کی لپیٹ میں تھے ،چہارجانب سے مستشرقین اسلامی افکار وخیالات پر حملہ آور تھے اوراسلامی تہذیب کو مجروح کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اورمسلمان پستی اوراحساس کمتری کا شکار ہوگئے تھے ۔ حضرت مولانا نے اس وقت اس مغربی یلغار کا مقابلہ بڑی سنجیدگی اوردانشمندی ،مدلل اورمؤثر علمی انداز میں کیا۔مختلف علمی تحقیقی معرکۃ الآراء کتابیں اوررسائل تحریرکیں۔دوسری طرف آپ نے ایسے افراد کی تعلیم وتربیت فرمائی جنہوں نے مغربی افکار وخیالات کو نشانہ بنایا اوران پر تحقیقات وتجزیاتی تنقیدیں کیں اوراخلاقیات کا پورا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے قوم مسلم کو احساس کمتری کے دلدل سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی اورقوم مسلم کوتعمیر وترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ مغربی رعب ودبدبہ کے طلسم کو توڑ ڈالا ۔اس میدان میں حضرت مولانا کے طریقہ کار میں حد درجہ کا اعتدال وتوازن اوردینی عقائدسے غیرمتزلزل لگاؤ اورعصری آگاہی کا حسین سنگم ملتاہے۔ حضرت مولانا ؒ نے نہ تو مکمل طورپر پوری تہذیب وتمدن کو ترک کرنے کی دعوت دی اورنہ مکمل طور پر اسے اپنانے کا مشورہ دیابلکہ مولانا کا طریقہ کار قدیم وجدید دونوں کو یکجاکر کے ساتھ لیکر چلنے اورمسلسل تدبر وغورو فکر اوربحث وتحقیق کی طرف مائل تھا۔آپ نہ توجدید تہذیب وتمدن سے مرعوب تھے اورنہ قدیم افکار سے بیزارتھے بلکہ دونوں کو ساتھ لیکر چلنے کے قائل تھے۔ایک طرف آپ کے اندر سیاسی بصیرت بدرجہ اتم موجود تھی تودوسری طرف فکری واصلاحی اورخانقاہی مزاج بھی رکھتے تھے،علم وحکمت، تہذیب وثقافت ، عقل ودانش اورادب وانشاء پردازی حضرت مولانا کے قلبی سکون ودلچسپی کے سامان تھے ،غور وفکر مولانا کاضروری مشغلہ تھا زمانہ طفولیت سے مولانا کی فکر وسوچ علم ودانش کی طرف مائل تھی ،علم کی قدروقیمت اوراہمیت کا دنیا کی تمام قیمتی اشیاء پر برتری کا احساس مولانا کے رگ وریشے میں پیوست تھا۔ آپ نے عالم عرب کے حکمرانوں کو بیدار کرنے کی بھرپور کوشش کی اور مستقل ان کی ذہن سازی کرتے رہے اورموقع بموقع ان کو نصیحت بھی کرتے رہے اوران کو اسلامی تہذیب وتمدن اوردینی حمیت وغیرت کی ترغیب دیتے رہے الغرض اسلام کے ہر نقطے پر آپ کی نگاہیں لگی رہتیں اورآپ ہمیشہ معاشرہ اورامت کی اصلاح کی فکر میں مستغرق رہتے۔بالآخر علم وتہذیب کا یہ آفتاب ومہتاب 31دسمبر1999ء 23رمضان المبارک بروز جمعہ سورہ یٰسین شریف پڑھتے ہوئے روزہ کی حالت میںغروب ہوگیا۔آپؒ کے جانشین مصلح الامت مولانا حضرت مولاناسید محمدرابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی امامت میں لاکھوں افراد نے نمازجنازہ ادا کی اور تکیہ کلاں شاہ علم اللہ رائے بریلی میںسپردخاک ہوئے۔آسماں تیری لحدپرشبنم افشانی کرے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے