कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حج کی فضیلت و اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

از فضیل اختر قاسمی بھیروی

اسلام ایک ایسا کامل و جامع مذہب ہے جو محض اعتقادی نظریات اور عبادات پر مشتمل نہیں بلکہ زندگی کے ہر گوشے کو محیط ہے۔ اس کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن "حج” ہے، جو نہ صرف روحانیت، بلکہ اجتماعیت، مساوات اور اطاعتِ الٰہی کا عملی مظہر ہے۔ ماہِ ذی الحجہ یعنی حج کا مہینہ ، اپنے خالق و مالک سے برہنہ پا و برہنہ سر والہانہ عشق کے اظہار کا مہینہ، لاریب کہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو بارگاہِ ایزدی میں اپنے عشق کے والہانہ اظہار کا موقع نصیب ہوا اور خوش قسمت ترین ہیں وہ حضرات جن کے حج کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمایا جائے گا ، وہ کون ہے ؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، البتہ کبھی کبھی اپنے مقربین کو بشارت سے بھی سرفراز فرما دیا جاتا ہے۔ حج درحقیقت ذاتِ حق جل مجدہ سے بندے کی وابستگی، اطاعت اور تسلیم و رضا کا وہ اعلیٰ ترین مظہر ہے جو دیگر عبادات کی نسبت کئی جہات سے منفرد اور جامع تر ہے۔
حج اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً، وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ” (آل عمران: 97)
ترجمہ: "اور لوگوں پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔”
یہ آیتِ کریمہ حجِ بیت اللہ کی فرضیت پر ایک قطعی، صریح اور غیر مبہم دلیل ہے، جو ہر عاقل و بالغ مسلمان پر، استطاعت کی شرط کے ساتھ، اس عظیم الشان فریضہ کی وجوبیت کو واجب التعمیل قرار دیتی ہے۔ یہاں "استطاعت” کا مفہوم محض مالی حیثیت یا اقتصادی کفایت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں بدنی صحت، جسمانی استعداد، سفری سہولت، راستوں کا امن، اور سازگار حالات و اسباب بھی شامل ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص نہ صرف زادِ راہ و سواری کا مالک ہو بلکہ اس کے پاس اتنی قوت و طاقت بھی ہو کہ وہ یہ مسافت طے کر سکے، اور اس کے لیے راستہ بھی مامون و محفوظ ہو، تو اس پر حج فرض ہے۔
آیت کے اختتام پر اللہ ربّ العزت نے "فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ” فرما کر یہ اعلان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال و عبادات کا محتاج نہیں، وہ بے نیاز مطلق ہے، اس کی عظمت و کبریائی کو کسی کی اطاعت و عبادت سے کوئی اضافہ حاصل نہیں ہوتا۔ درحقیقت، عبادات بندے کی اپنی نجات، فلاح اور ابدی سعادت کا ذریعہ ہیں۔
پس یہ آیت نہ صرف حج کے وجوب پر ایک ناقابلِ تردید حجت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے شدید تنبیہ اور وعید بھی ہے جو استطاعت کے باوجود اس فریضے سے تغافل برتتے ہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجاجِ بیت اللہ اور زائرانِ حرمین شریفین کو جو بشارتیں عطا فرمائیں، وہ محض وقتی تسلیاں نہیں بلکہ ربِ غفور و رحیم کی جانب سے مغفرت و رحمت کے ابدی پروانے ہیں، اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شفاعتِ کبریٰ کی وہ نویدیں ہیں جن کی تمنا میں عشاقِ الٰہی اگر اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کر دیں، تو یہ سودا سراسر نفع کا، عزت کا، اور کامیابی کا سودا ہے۔ یہ وہ خوشخبریاں ہیں جن سے مردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں، غافل آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، اور دلوں میں ایک نورانی تڑپ جاگ اٹھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج و زیارت کے اس عظیم سفر میں جتنی مشقتیں، مصیبتیں، اور آزمائشیں پیش آتی ہیں، وہ سب ان بشاراتِ نبویہ کے سامنے ہیچ اور بے قیمت نظر آتی ہیں، کیونکہ یہ سفر محض جسمانی مشقت کا نام نہیں بلکہ روحانی معراج کا زینہ ہے، جو انسان کو مغفرت کی نوید، رضائے الٰہی کی بشارت، اور شفاعتِ مصطفوی کی امید سے ہمکنار کرتا ہے۔
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَن حَجَّ للهِ، فلَمْ يَرفُثْ، ولَم يَفسُقْ، رَجَعَ كَيومِ ولَدْتُهُ أُمُّهُ
ترجمہ : حس شخص نے خالص اللہ کے لیے (یعنی صرف اس کے حکم کی تعمیل اور اسکی رضا طلبی کی نیت سے ) حج کیا ، اور اس حج میں نہ رفث اس سےسرزد ہوا نہ فسق (یعنی کوئی فحش بات نہیں کی اور نہ اللہ کی کو ئی نافرمانی کی) تو وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہو کر واپس ہوگا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا۔
(رواہ البخاري: ١٥٢١،ومسلم: ١٣٥٠)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے صحیح بخاری و مسلم ہی میں یہ بھی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
العُمْرَةُ إلى العُمْرَةِ كَفّارَةٌ لِما بيْنَهُما، والحَجُّ المَبْرُورُ ليسَ له جَزاءٌ إلّا الجَنَّةُ.
ترجمہ: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک (کے درمیانی گناہوں) کا کفارہ ہو جاتا ہے، اور خالص حج (جس میں حج کی شان کے خلاف کوئی حرکت نہ ہوئی ہو) اس کی جزاء بس جنت ہی ہے۔
(رواہ البخاري: ١٧٧٣، ومسلم: ١٣٤٩)
اور حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں فرمایا:
أما علِمتَ أنَّ الإِسلامَ يَهْدِمُ ما كان قَبلَهُ، وأنَّ الهِجرَةَ تَهدِمُ ما كان قبْلَها، وأنَّ الحَجَّ يَهدِمُ ما كان قَبلَهُ؟
ترجمہ: کیا تم نے نہیں جانا کہ اسلام وہ سب کچھ مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے تھا، اور ہجرت وہ سب کچھ مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے تھا، اور حج وہ سب کچھ مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے تھا؟
(رواہ مسلم: ١٢١)
ان احادیث میں صراحت کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص خالص نیت اور شرعی اصولوں کی مکمل پابندی کے ساتھ حج ادا کرے، اور اس کے دوران کوئی گناہ یا نافرمانی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گذشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ حج اسے جنت کا مستحق اور قریب کر دینے والا عمل بن جاتا ہے۔ یعنی حج صرف عبادت نہیں بلکہ مغفرت اور کامیابی کی ضمانت بھی ہے بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے ادا کیا جائے۔
اگرچہ حج کی عظمت اور اس کی مغفرت و بخش کی خصوصیت واضح و مبرہن ہے، مگر یہ بھی لازم ہے کہ ہم اس مقدس سفر کا اصل مرکز یعنی مکہ معظمہ کی شان و عظمت کو بھی جانیں اور اس کی تقدیس و تعظیم سے عاری نہ ہوں۔ مکہ وہ بے مثال و مقدس شہر ہے جس میں خداوندِ متعال کی خاص نورانی جلوہ گاہ، کعبۂ مکرمہ واقع ہے۔ یہ وہی گھر ہے جسے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کے حکم سے تعمیر فرمایا۔ اسی میں حجر اسود ہے، اسی میں مقام ابراہیم ہے، اور اسی میں زمزم کا مبارک چشمہ ہے جو معجزانہ طور پر حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم الرضوان کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ یہ وہ نورانی مرکز ہے جسے ربِّّ العزّت نے اپنی بارگاہ میں اپنے گھر کا درجہ دیا اور قیامت تک تمام مشرق و مغرب کے باشندوں کے لیے قبلہ مقرر فرمایا۔
اسی طرح زیارت کے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پاک ارشاد فرمایا:
مَن زار قبري وجَبَت له شفاعَتي
ترجمہ: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ
مَن حَجَّ فزارَ قَبري بَعدَ وفاتي، فكَأنَّما زارَني في حَياتي
ترجمہ: جو شخص حج کو گیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی اس نے زیارت کی،تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے زندگی میں میری زیارت کی۔
"بریں مژدہ گر جاں فشانم رواست”
ترجمہ: اس خوشخبری پر اگر جان بھی قربان کر دوں تو بجا ہے۔
بھلا ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر مسرت انگیز پیغام اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور کی زیارت کرے، اور یوں روحانی طور پر گویا خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیضیاب ہو؟ آخر ان کروڑوں مسلمانانِ عالم میں کون ایسا محروم القلب اور بد نصیب ہوگا جس کے دل میں اس نعمتِ عظمیٰ کی سچی تڑپ اور طلب نہ ہو، اور جو اس روح پرور سفر کے لیے اپنی جان، مال اور وقت سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو؟
أَمُرُّ عَلى الدِيارِ دِيارِ لَيلى
أُقَبِّلَ ذا الجِدارَ وَذا الجِدارا
وَما حُبُّ الدِيارِ شَغَفنَ قَلبي
وَلَكِن حُبُّ مَن سَكَنَ الدِيارا
ترجمہ: میں لیلیٰ کے دیار پر آتا ہوں اور اُن دیواروں کو چومتا ہوں، کبھی اِس دیوار کو، کبھی اُس دیوار کو۔
یہ کوئی دیواروں کی محبت نے مجھے فریفتہ نہیں کیا، بلکہ جو ان میں رہتے ہیں ان کی محبت کا کرشمہ ہے۔
امام غزالی رحمۃاللہ علیہ اپنی مشہور کتاب احیاء العلوم میں لکھتے ہیں:
اگر اللہ تعالی سے بقا کا شوق ہے تو مسلمان اس کے وسائل و اسباب اختیار کرنے پر لامحالہ مجبور ہوگا، عاشق اور محب ہر اس چیز کا مشتاق ہوتا ہے جس کی اضافت اس کے محبوب کی طرف ہو، کعبہ کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف ہے اس لیے مسلمان کو قدرتی طور پر اس کا سب سے زیادہ مشتاق ہونا چاہیے علاوہ اس اجر و ثواب کی طلب و احتجاج کے جس کا وعدہ بھی اس سے کیا گیا ہے۔
حج اپنے سارے ارکان و اعمال اور مناسک و عبادات کے ساتھ اطاعتِ محض، مجرد امتثال امر، بے چوں و چرا حکم بجا لانے اور ہر مطالبہ کے آگے سر جھکا دینے کا نام ہے، حاجی کبھی مکہ میں نظر آتا ہے، کبھی منیٰ میں، کبھی عرفات میں، کبھی مزدلفہ میں، کبھی ٹھہرتا ہے، کبھی سفر کرتا ہے، کبھی خیمہ گاڑتا ہے، کبھی اکھاڑتا ہے، وہ حکم کا بندہ اور چشم و ابرو کا پابند ہے، اس کا خود نہ کوئی ارادہ ہوتا ہے، نہ فیصلہ، اسی طرح وہ زندگی بھر نماز کا پابند تھا لیکن عرفہ میں اس کو اس کا حکم ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز ترک کر دے اس لیے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے، نماز یا اپنی عادت کا نہیں، وہ یہ نماز مزدلفہ پہنچنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہے الغرض اس کو ہر حال میں رب کے حکم کی بجا آوری کرنی ہوتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سب انبیاء کرام اور ان کے بعد تمام عشاق و اہل محبت، اہل دل اور اہل طلب کی زندگی کا طرز یہی تھا کبھی سفر کبھی قیام، کبھی وصل کبھی ہجر، نہ عادت کی غلامی نہ ذوق کی اسیری، نہ خواہش کی تابعداری، نہ شہوت کے سامنے سپر اندازی۔
الغرض حج اسلام کے ان عظیم ارکان میں سے ہے جو نہ صرف بندے کو اللہ کے قریب کرتے ہیں بلکہ اس کی پوری زندگی پر گہرے روحانی، اخلاقی، اور اجتماعی اثرات ڈالتے ہیں۔ یہ فریضہ صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ایک انقلابی تربیت ہے، جو بندے کو تواضع، مساوات، اتحاد، صبر، قربانی، اور اطاعت کا درس دیتی ہے۔ حج کے ذریعے بندہ اپنی گذشتہ زندگی کے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، نئی روحانی زندگی کا آغاز کرتا ہے، اور اللہ کی رضا و مغفرت کا طلبگار بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کی زیارت، خصوصاً روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری، مؤمن کے لیے دنیا و آخرت کی سب سے بڑی سعادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مقدس فریضے کو نہ صرف ظاہری طور پر انجام دینے کی کوشش کریں بلکہ اس کی روح، حکمت، اور پیغام کو بھی اپنی زندگیوں میں جذب کر کے ایک سچے، اطاعت گزار، اور نیکوکار مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی ہم سب کو بار بار اپنے مقدس گھر کی حاضری اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت نصیب فرمائے۔ آمین۔
نوٹ: عازمین حج سے ایک عاجزانہ التجا اور استدعا ہے کہ وہ دعاؤں کے مخصوص اوقات میں اپنی مستجاب دعاؤں میں اگر احقر کو یاد رکھ سکیں تو ضرور یہ کرم فرمائیں اور روضۂ اقدس پر حاضری کے وقت جب وہ اپنے دوستوں کا سلام پہنچائیں تو سب سے آخر میں حضور کے اس سیاہ کار اور تباہ حال غلام امتی کا بھی سلام عرض کر دیں بڑا کرم اور بڑا احسان ہوگا اور اللہ ضرور آپ کو اس کا اجر دے گا۔

آپ کا مخلص
فضیل اختر قاسمی بھیروی
متعلم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد تلنگانہ
15/ مئی 2025ء بروز جمعرات

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے