कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حالیہ ماحولیاتی بحران اور ہماری ذمہ داریاں

ازقلم : ادیبہ تحریم سیّد اعجاز (جی آئی او ممبر پرھبنی)
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

زمین اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس کی فضا، دریا، پہاڑ، درخت، جانور، پرندے اور سبزہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتےہے:
*﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾*
ترجمہ: ’’بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ *(آلِ عمران: 190)*
لیکن انسان نے اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ بے تحاشا درختوں کی کٹائی، گاڑیوں کا دھواں، پلاسٹک کا استعمال — یہ سب ہماری زمین کو بیمار کر رہے ہیں۔
قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے:
*﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾*
ترجمہ: ’’خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ *(روم: 41)*
انسان نے ضرورت سے زیادہ قدرتی وسائل کا استعمال کیا اور زمین کے توازن کو بگاڑ دیا ماحولیاتی بحران کی وجوہات درختوں کی اندھا دھند کٹائی
عالمی ماحولیاتی رپورٹوں کے مطابق *2000* سے *2023* تک بھارت نے تقریباً *23* لاکھ 30 ہزار ہیکٹر *(23,30,000 ہیکٹر)* جنگلات کھو دیے ہیں۔ یہ بھارت کے کل درختوں کے رقبے کا تقریباً *6* فیصد بنتا ہے شاعر نے سچ کہا:
*ہم اپنی بے قرینہ کاوشوں سے*
*خود ہی راہ میں حائل ہو گئے ہیں*
*ہمیں قدرت نے بخشے ہیں جو وسائل*
*مسائل در مسائل ہو گئے ہیں*
اس کے علاوہ صنعتی آلودگی،
گاڑیوں کی بھرمار،
پلاسٹک اور کیمیکل کا استعمال، اور زمین کا غلط استعمال،
یہی ماحولیاتی بحران کے اثرات ہمارے مد نظر ہے اورانسانی غلطیوں کا نتیجہ سامنے ہے
جیسے گلوبل وارمنگ یعنی زمین کا درجہ حرارت بڑھنا،
برفانی علاقوں کا پگھلنا،
سمندری سطح بلند ہونا،
شدید طوفان، سیلاب اور خشک سالی،زراعت متاثر ہونا،جانوروں کی نسلوں کا خاتمہ،انسانی صحت پر مضر اثرات رونما ہے۔
اسلام ہمیں زمین کو سنوارنے اور آباد رکھنے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾*
ترجمہ: ’’زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ *(اعراف: 56)*
شخص کوئی درخت لگاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔(مسلم شریف)
اور فرمایا:
’’پانی کے استعمال میں بھی اسراف نہ کرو، چاہے بہتے دریا پر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (ابن ماجہ)
ہماری بھی ذمہ داریاں ہے کہ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کریں اور زمین کو دوبارہ سرسبز و شاداب بنائیں۔
زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ،جنگلات کی حفاظت کریں، پانی اور بجلی کا محتاط استعمال کریں، پلاسٹک کے تھیلے چھوڑیں، کپڑے یا کاغذ کے تھیلی استعمال کریں،ری سائیکلنگ کو فروغ دیں، گاڑیوں کا کم استعمال کریں، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ اپنائیں۔
گھر، محلہ، اسکول اور دفتر کو صاف رکھیں۔
بچوں کو ماحولیاتی تحفظ کی تعلیم دیں۔
آپ اس بات سے بخوبی واقف ھیکہ *جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرا* ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں خود باخبر رہنے اور عوام الناس کو بھی با خبر رکھنے نیز ماحولیات کے سلسلے میں عملی اقدامات کے شجر کاری مہم منارہی ہے ۔ مہم بعنوان :*مٹی میں ہاتھ، دل وطن کے ساتھ* *چلڈرن اسلامک آرگنائزیشن (بچوں کی تنظیم )* نے بھی اس میں شامل ہو کر اس مہم کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے .بچوں کو بچپن ہی سے ماحولیات کے تحفظ کا شعور اور احساس ذمہ داری کی تربیت دی جائے تو انشاء اللّٰہ وہ بڑے ہوکر وہ ماحولیات کے محافظ بن سکتے ہیں۔
🌿 اللہ اس مقصد میں کامیاب کرے۔ (آمین)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے