कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جہان آباد کا لرزہ خیز سانحہ: تعلیمی اداروں میں تحفظ کا بحران اور سماجی بے حسی کا نوحہ

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔9934933992

بہار کا نسبتاً پُرامن اور تعلیمی شناخت رکھنے والا ضلع جہان آباد، جسے کبھی “اسکولوں کا شہر” کہا جاتا تھا، آج ایک ایسے سانحہ کی زد میں ہے جس نے اس شناخت کو نہ صرف دھندلا دیا بلکہ پورے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ضلع کے کڑونا تھانہ حلقہ کے تحت مٹھیر-لودی پور گاؤں کے قریب قائم ایک نجی اقامتی تعلیمی ادارہ، گروکل اسکول کے ہاسٹل میں چند دن قبل پانچ سالہ معصوم طالب علم آشو کمار کے ساتھ پیش آیا بہیمانہ واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے تعلیمی نظام، انتظامی نگرانی اور سماجی رویوں کی تلخ حقیقت صاف جھلکتی ہے۔
یہ سانحہ اس لحاظ سے بھی انتہائی دردناک ہے کہ متاثرہ بچہ، جو اپنے والدین کے خوابوں کا مرکز تھا، محض دس دن قبل ہی ہاسٹل میں داخل ہوا تھا۔ بہتر تعلیم اور محفوظ مستقبل کی امید میں اسے گھر سے دور بھیجا گیا، مگر وہی جگہ اس کے لیے موت کا سبب بن گئی۔ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ اپراجیت لوہان کی جانب سے جمعہ (۱۰ اپریل) کو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق مقتول بلاکی بیگھا گاؤں کے باشندہ دھننجے کمار کا بیٹا تھا۔ اس کی مشتبہ حالت میں موت کے بعد شروع ہونے والی تفتیش نے رفتہ رفتہ ایک ہولناک حقیقت کو بے نقاب کیا۔
پولیس نے تیز رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے ہاسٹل کے کینٹین گارڈ مکیش عرف سداما کو گرفتار کیا، جس نے دورانِ تفتیش اپنا جرم قبول کر لیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق نے اس واقعہ کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔ یہ انکشاف کہ معصوم کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا، نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ معاشرتی زوال کی ایک خطرناک علامت بھی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم واردات کے وقت نشے کی حالت میں تھا اور اس نے ثبوت مٹانے کے لیے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کیا۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ ملزم کون ہے یا اس نے کیا کیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا ہونے کیسے دیا گیا؟ ایک پانچ سالہ بچہ، جو خود اپنی حفاظت کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، اسے ایک ایسے ماحول میں کیسے چھوڑ دیا گیا جہاں اس کی جان تک محفوظ نہ رہ سکی؟ کیا اسکول و ہاسٹل انتظامیہ نے کسی بھی سطح پر حفاظتی انتظامات کو سنجیدگی سے لیا تھا؟ کیا عملے کی تقرری سے قبل ان کی مکمل جانچ کی گئی تھی؟ یا پھر سب کچھ محض رسمی کاغذی کارروائی تک محدود تھا؟
اس سانحہ کے فوراً بعد عوامی ردعمل نے واضح کر دیا کہ لوگوں کے اندر کتنی بے چینی اور غصہ موجود ہے۔ جیسے ہی واقعہ کی خبر عام ہوئی، مقامی افراد اور متاثرہ خاندان کے لوگ بڑی تعداد میں اسکول کے باہر جمع ہو گئے۔ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور کنؤدی کے قریب پٹنہ-گیا قومی شاہراہ (این ایچ-22) کو جام کر دیا گیا۔ کئی گھنٹوں تک ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا، مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس سب کے باوجود مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ تھا—انصاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات۔
اس پورے معاملے میں اسکول انتظامیہ کا ابتدائی رویہ بھی شدید تنقید کا باعث بنا۔ واقعہ کو حادثہ قرار دینے کی کوشش نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھی بلکہ اس نے عوامی اعتماد کو مزید مجروح کیا۔ جب پولیس کی تفتیش نے اصل حقیقت کو بے نقاب کیا تو انتظامیہ کی اس ابتدائی کوشش نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ پولیس نے اسکول کے بانی ترون کمار عرف گاندھی کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ چند ماہ قبل اسی ضلع کی ایک طالبہ، جو پٹنہ میں رہ کر نیٹ کی تیاری کر رہی تھی، مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی تھی۔ باعثِ تشویش امر یہ ہے کہ اس طالبہ کی موت کے دو ماہ گزر جانے کے باوجود حقیقت مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ابتدا میں اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی، مگر اس کی کارروائی پر عدم اعتماد کے اظہار کے بعد کیس کو سی بی آئی پٹنہ کے سپرد کیا گیا، اور پھر وہاں بھی اطمینان نہ ہونے پر مرکزی سی بی آئی ٹیم کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے بعض بااثر سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے شبہات نے اس معاملے کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان واقعات کا تسلسل اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً رہائشی ہاسٹلوں میں حفاظتی نظام نہایت کمزور اور غیر مؤثر ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہی ادارے مستقبل کی نسلوں کی تربیت گاہ ہوتے ہیں۔ اگر یہاں بھی بچوں کی جان و عزت محفوظ نہ ہو تو یہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔
ایسے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ محض بیانات اور یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ عملی اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ریاست بھر کے تمام رہائشی تعلیمی اداروں کا ایک جامع سروے اور آڈٹ کیا جانا چاہیے۔ ایسے اداروں کی فہرست تیار کی جائے جہاں حفاظتی انتظامات ناقص ہیں، اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، بایومیٹرک حاضری نظام، عملے کی مکمل پولیس ویری فکیشن، اور بچوں کے لیے علیحدہ سیکیورٹی اسٹاف کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
اس ضمن میں حالیہ سانحہ کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کی جانچ کا عمل شروع کیا جانا ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد گروکل اسکول سمیت ۱۱ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم صادر کیا گیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انتظامیہ اب بیدار ہوئی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام مستقل اصلاح کا پیش خیمہ بنے گا یا محض وقتی ردعمل ثابت ہوگا؟ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اکثر ایسے اقدامات وقتی دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں اور کچھ دنوں بعد حالات پھر معمول پر آ جاتے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو ایسے سانحات کے دوبارہ رونما ہونے کا خطرہ بدستور موجود رہے گا۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقع کو ایک سنجیدہ اصلاحی مہم میں تبدیل کیا جائے۔ بند کیے گئے اداروں کی محض فہرست جاری کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی خامیوں کی نشاندہی، اصلاح کے لیے واضح رہنما خطوط، اور دوبارہ کھولنے سے قبل سخت جانچ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے بھی سخت شرائط نافذ کی جائیں تاکہ غیر معیاری اور غیر محفوظ ادارے وجود میں ہی نہ آ سکیں۔
سماجی سطح پر ہمیں اپنی اجتماعی بے حسی کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ ہم اکثر ایسے واقعات پر وقتی ردعمل دیتے ہیں، چند دن غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لکھتے ہیں اور پھر سب کچھ بھلا کر اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ دراصل ایسے جرائم کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ ہمیں ایک بیدار اور ذمہ دار معاشرہ بننے کی ضرورت ہے، جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔
پولیس کی جانب سے تیز رفتار کارروائی اور ملزم کی گرفتاری یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف ملے گا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے جہاں دوبارہ کسی معصوم کو اس طرح کا انجام نہ دیکھنا پڑے۔
یہ سانحہ ہمیں ایک تلخ حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ ترقی، تعلیم اور جدیدیت کے تمام دعووں کے باوجود ہم ابھی تک اپنے بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ اگر ہم نے اس واقعہ سے سبق نہ سیکھا تو یہ محض ایک خبر بن کر رہ جائے گا، اور آنے والے دنوں میں اسی طرح کے مزید سانحات ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آشو کمار کی موت ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ یہ واقعہ ایک وارننگ ہے—ایک ایسا انتباہ جسے نظر انداز کرنا ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض افسوس کے الفاظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں، تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے واقعی محفوظ بن سکیں اور کوئی اور معصوم اس طرح بے دردی کا شکار نہ ہو۔
اگر اس سانحہ کے بعد بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، اپنے نظام کو شفاف اور مضبوط نہ بنایا، اور اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے