कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

تحریر:مدثر جمیل قاسمی
9823234064
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

سیاست کا نام سن کر شاید عام لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ سیاست ایک گھٹیا قسم کا کام ہے، لیکن اگر یہی سیاست کو قوم کی بقا اور فائدے کیلئے استعمال کیا جائے تو شاید اس سے ملت کو بہت فائدہ حاصل ہوسکتا ہے،. آجکل ہندوستان کے حالات کے مناسبت سے جسطرح اکابر علماء کرام کی رہنمائی حاصل ہورہی ہے یہ ہمارے لئے باعثِ نعمت ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی ہر چھوٹی بڑی باتوں اور دنیا کے تمام حالات سے نپٹنے اور تمام باتوں کے حل کیلئے شریعت محمدی کو نافذ کیا اور آجکے اس دور میں شریعت محمدی کے مطابق ہماری صحیح رہنمائی صرف علماء کرام کی نگرانی میں ہی ہوسکتی ہے، سیاست بھی ایک ایسا کام ہے جس سے قوم کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی، ایک سیاسی لیڈر اگر اپنے قوم کے فائدہ سے زیادہ اپنی ذات کے فائدے کی فکر کرتا ہے تو اس سے قوم کا نقصان ہوگا اور اگر کوئی سیاسی لیڈر قوم کا فائدہ چاہے اور قوم کیلئے کام کرے تو قوم کو فائدہ ہوسکتا ہے،. اور اگر قوم کیلئے کچھ کرنے کی نیت ہو تو سب سے پہلے علماء کی رہنمائی حاصل کرنا اس لیڈر کے لئے نہایت ضروری ہے،. دین اور شریعت کے مطابق علماء کی رہنمائی حاصل ہوگی تو اس سے قوم کو بھی فائدہ حاصل ہوگا، ورنہ بغیر شریعت کی پاسداری اور دین داری کے سیاست بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی، خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا دور خلافت سیاسی ہونے کے باوجود مکمّل دین و شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے گزارا اور ایک کامیاب سیاسی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوئے، اسی لئے گاندھی جی نے کہا تھا اگر سیاست کرنی ہو تو حضرت عمر جیسی سیاست کرو، اپنی سادہ سی زندگی گزار کر دنیا کی سب سے بڑی حکومت چلاکر ہم لوگوں کو یہ بتا دیا کہ سیاست کرنے کیلئے دین داری سے زیادہ کوئی اور چیز اہمیت نہیں رکھتی،. بشرطیکہ سیاسی لیڈر کی نیت صحیح ہو اور اسکا ضمیر اسکو دین و شریعت کے راستے پر چلنے کی اجازت دے،. ورنہ آج کے سیاسی لیڈران تو دین اور شریعت محمدی پر چلنا تو دور کی بات شریعت کی حفاظت کیلئے آواز بلند کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتے، حال ہی کے طلاق ثلاثہ اور سی اے اے کے وقت دیکھا گیا کہ جو پارٹیاں یہ گندے قوانین ہندوستان میں لاگو کرنا چاہتی ہے انکا تک ساتھ دینے یہ نام نہاد مسلم سیاسی لیڈران تیار ہوگئے ، یہ سراسر کم علمی اور دین سے دوری کا نتیجہ ہے، وقت اور حالات کی مناسبت سے ہر مسلم سیاستدان کیلئے ضروری ہے کہ وہ علماء حق کا دامن تھامے اور انکی رہنمائی حاصل کرے ورنہ دین و شریعت کو سمجھنا سیاستدانوں کیلئے بہت مشکل ہے،. اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے