कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنگ زدہ دنیا میں امید کی شمع، رائسینا ڈائیلاگ2026

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

نئی دہلی کی چمکدار عمارتوں اور تاریخی فضاؤں میں، جہاں ہر سال دنیا کے بڑے رہنما، دانشور اور پالیسی ساز جمع ہوتے ہیں، اس بار Raisina Dialogue 2026 کا منظر کچھ مختلف تھا۔ 5تا7 مارچ تک جاری رہنے والے اس گیارہویں ایڈیشن میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب چیف گیسٹ اور کلیدی سپیکر تھے۔ ان کی افتتاحی تقریر نے جیسے عالمی سیاست کی ہوا کو نئی سمت دے دی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ مغربی غلبے والا دور ختم ہو چکا ہے، اب گلوبل ساؤتھ، خاص طور پر انڈیا، نئی دنیا کی تشکیل کرے گا۔ یہ دنیا یا تو طاقت کی بنیاد پر لڑائیوں اور معاہدوں کی طرف جائے گی، یا پھر اصولوں پر مبنی تعاون کی طرف۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی پچھلا عالمی نظام کامل نہیں تھا۔ ہمیں اس خیال کو چھوڑ دینا چاہیے کہ ایک یوٹوپین آرڈر ممکن ہے جہاں دنیا کے تمام 200 ممالک ایک ساتھ خوشحال رہیں۔ ان کی تقریر میں انسانی فطرت کی تین غلطیوں کا ذکر تھا: ’’ہم ماضی کو زیادہ عقلی بناتے ہیں، حال کو زیادہ ڈرامائی کرتے ہیں، اور مستقبل کو زیادہ امید پسندانہ دیکھتے ہیں۔‘‘
یہ الفاظ ایک ایسی دنیا کے لیے تھے جو جنگوں کی لپیٹ میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جاری جنگ نے علاقے کو شعلوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ تیل کی سپلائی رک گئی ہے، ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اور پڑوسی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کی لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی لڑائیاں، اور میانمار کی خانہ جنگی جو ہزاروں جانوں کو نگل چکی ہے۔یہ سب ایک غیر مستحکم عالمی منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ صدر سٹب نے اپنی تقریر میں تشویش کا اظہار کیا کہ ’’یہ تنازعات آہستہ آہستہ عالمی سطح پر پھیل رہے ہیں۔ میرا مقصد آج یہ ہے کہ ایک ایسے بین الاقوامی نظام کی طرف واپسی کا راستہ تلاش کیا جائے جہاں ادارے، اصول اور قوانین کی عزت کی جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آج میں یہاں Raisina Dialogue کی بحث کا آغاز دو چیزوں پر کروں گا: پہلے مسئلہ کی نشاندہی، اور پھر حل کی طرف اشارہ۔‘‘
ایسی صورتحال میں انڈیا اور فن لینڈ کے درمیان نئی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ ایک امید کی کرن بھی ہے۔ یہ پارٹنرشپ ڈیجیٹلائزیشن اور سسٹین ایبلٹی پر مبنی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ تنازعات کے بیچ بھی تعاون کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ تاہم، کئی ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب دنیا جنگوں کی آگ میں جل رہی ہے تو کیا ایسے فورمز کا انعقاد مناسب ہے؟ کیا یہ جنگوں کو روکنے کے عملی اقدامات کی جگہ محض سفارتی تقریبات اور معاہدوں پر توجہ دے کر حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں؟
یہ سمٹ جس کا تھیم ”Samskara: Assertion, Accommodation, Advancement جو عالمی مسائل پر گہری اور جامع بحث کا مرکز بنا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا۔ صدر سٹب نے اپنی تقریر میں Law of the Jungle کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا طاقت کی بنیاد پر قوانین کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے یورپ کو یہ سبق دیا کہ یورپ کے مسائل پوری دنیا کے مسائل نہیں ہیں، لیکن دنیا کے مسائل یورپ کے مسائل بھی ہیں۔ یورپ کو اس ذہنیت سے نکلنا چاہیے کہ صرف یورپ کے مسائل اہم ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی اصلاحات کی تجاویز پیش کیں، انڈیا کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست کی حمایت کی، اور ایک New Delhi Moment کی کال دی۔ یعنی نئی دہلی میں ایک عالمی ڈائیلاگ جو اکیسویں صدی کے مطابق عالمی اداروں کو تبدیل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا اور دیگر کلیدی طاقتوں کے پالیسی فیصلے اس منتقلی کے دور میں واقعی اہم ہیں۔ یہ مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ اور ہمیں تین دن بیٹھ کر دنیا کو جیسا ہے ویسا قبول کرنا چاہیے اور اسے وقار کے ساتھ بہتر بنانا چاہیے۔
تین دنوں میں چھ بڑے تھیمز پر بحث ہوئی۔ ان میں سرحدی تنازعات اور طاقت کی سیاست، گلوبل مشترکہ وسائل کی حفاظت، 2030 ایجنڈا، کلائمیٹ اور تنازعات کا تعلق، ٹیکنالوجی کا مستقبل، اور ٹریڈ وارز اور معاشی ریزائلنس شامل تھے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اختتامی کلمات میں ”Viksit Bharat 2047” کے وژن کو اجاگر کیا۔ یہ وژن بتاتا ہے کہ انڈیا نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے ایک ماڈل بن رہا ہے۔ اب Raisina Dialogue کی مزید تفصیل میں جائیں تو یہ 2016 میں شروع ہوا تھا، جب وزارت خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (ORF) نے مل کر اسے لانچ کیا۔ یہ انڈیا کا فلیگ شپ کانفرنس ہے جو جیو پالیٹکس اورجیو اکنامکس پر توجہ دیتا ہے۔ یہ ایک طرح سے میونخ سیکوریٹی کانفرنس اور Shangri-La Dialogue کا انڈین ورژن ہے، جو انڈیا کی خارجہ پالیسی کو پروجیکٹ کرتا ہے۔ سیاسیات میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف گلوبل مسائل پر بحث کرتا ہے بلکہ انڈیا کو ایک گلوبل شیپر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ فورم انڈیا کی multi-alignment پالیسی کو دکھاتا ہے، جہاں انڈیا مغربی اتحادیوں (جیسے Quad) اور گلوبل ساؤتھ (جیسے BRICS) دونوں کے ساتھ توازن رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف سفارتی بات چیت کا پلیٹ فارم ہے بلکہ یہ انڈیا کی گلوبل ساؤتھ کی آواز بننے کی کوشش کو بھی اجاگر کرتا ہے، جیسے UN اصلاحات اور کلائمیٹ فنانس پر۔ شروع میں صرف 40 ممالک سے 120 شرکاء تھے، لیکن اب یہ 125 سے زائد ممالک کے 3500 لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے میں یہ سمٹ انڈیا کی عالمی قیادت کو مزید مضبوط کرنے والا ہے۔ Observer Research Foundation کے صدر سمیر سارن نے سٹب کی تقریر کی تعریف کی اور کہا کہ یہ گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بلند کرنے کا اہم قدم ہے۔ سابق سفارت کار اور کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ایسے فورمز عالمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں اور پرانی ساختوں کو نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ فن لینڈ کے خارجہ پالیسی تجزیہ کاروں نے سٹب کی تقریر کو تاریخی قرار دیا۔ تاہم، تنقید بھی شدید ہے۔ سابق ڈپلومیٹ کنول سبال سنگھ نے کہا کہ جنگ کے قریب ہونے کے باوجود سمٹ منعقد کرنا غیر دانشمندانہ تھا۔ اسے ملتوی کر کے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے تھی۔امریکہ کے ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ کرسٹوفر لینڈاؤ کے بیان نے بھی تنازعہ کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انڈیا کے ساتھ چین والی غلطیوں کو دہرانے نہیں دے گا۔ یعنی امریکہ انڈیا کو چین کی طرح اقتصادی حریف نہیں بننے دے گا۔ یہ بیان انڈیا میں شدید تنقید کا باعث بنا۔ سوشل میڈیا پر اسے توہین آمیز اور اینٹی انڈیا قرار دیا گیا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ شراکت داری کی حقیقی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کو مقدم رکھتا ہے اور انڈیا کی ترقی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپوزیشن کا ردعمل بھی ملاجلا ہے۔ کانگریس پارٹی نے سمٹ کو انڈیا کی ڈپلومیسی کی کامیابی قرار دیا۔ ششی تھرور نے کہا کہ کلائمیٹ چینج اور AI جیسے مسائل پر بحث ضروری ہے۔ تاہم، اپوزیشن لیڈرز نے نوٹ کیا کہ نتائج کو داخلی مسائل جیسے روزگار اور انوویشن سے جوڑنا چاہیے۔ جب مشرق وسطیٰ کی جنگ جاری ہے تو جنگوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسے ڈائیلاگز محض شو پیس بن کر رہ جاتے ہیں۔
اصل دلچسپی انڈیا اور فن لینڈ کے درمیان11 بڑے نتائج میں ہے جو صدر سٹب کی سٹیٹ وزٹ کے دوران طے ہوئے۔ دونوں ممالک نے تعلقات کو ڈیجیٹلائزیشن اور سسٹین ایبلٹی میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ تک بلند کر دیا۔ ان نتائج میں ہنر مند پروفیشنلز کی حرکت کو آسان بنانے کا معاہدہ، AI، 6G، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز پر مشترکہ ورکنگ گروپ، 2026 میں ورلڈ سرکلر اکانومی فورم کو انڈیا میں مشترکہ میزبانی، دفاع اور اسپیس میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، تجارت اور سرمایہ کاری کو 2030 تک ڈبل کرنے کا ہدف، قطبی تحقیق اور Arctic سے متعلق تعاون، تعلیم، قونصلر مسائل اور دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہیں۔یہ معاہدے جنگ زدہ وقت میں مناسب اس لیے ہیں کہ وہ ٹیکنالوجی اور سسٹین ایبلٹی پر فوکس کرتے ہیں۔ کلائمیٹ چینج جو جنگوں سے زیادہ خطرناک ہے اسے روکنے کے لیے فن لینڈ کی گرین ٹیکنالوجی اور انڈیا کی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا امتزاج طاقتور ہے۔ یہ اصولوں پر مبنی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ تاہم، ناقدین کہتے ہیں کہ یہ معاہدے جنگوں کو روکنے کے بجائے ٹیکنالوجی اور تجارت پر فوکس کر کے حقیقی امن کی کوششوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ امریکہ جیسے بیانات سے نئی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
فن لینڈ کی قدر وقیمت اس پارٹنرشپ کو خاص بناتی ہے۔ یہ دنیا کا خوش ترین ملک ہے۔ AI اور 6G میں لیڈر ہے۔ Arctic کا ماہر ہے جہاں کلائمیٹ چینج سے نئی تجارتی راہیں کھل رہی ہیں۔ NATO کا نیا ممبر ہے اور اس کی دفاعی ٹیکنالوجی Make in India کو سپورٹ کر سکتی ہے۔ اس کی سرکلر اکانومی دنیا کی بہترین ہے۔ یہ ملک روس کی سرحد پر ہے اور یوکرین جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ انڈیا کے لیے یہ یورپ کا گیٹ وے ہے۔ ایک ایسا پارٹنر جو نہ مغربی بلاک کا غلام ہے اور نہ مشرقی، بلکہ اقدار پر مبنی حقیقت پسندی پر یقین رکھتا ہے۔ صدر سٹب نے تقریر میں انڈیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں سب کو تھوڑا سا انڈین بننا چاہیے”، کیونکہ انڈیا کی غیر جانبدار یا ملٹی الائنمنٹ پالیسی دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔
اب اگر دیکھیں تو انڈیا اب متعدد عالمی ڈائیلاگز کو ہینڈل کر رہا ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کی طاقت کو دکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، G20 میں انڈیا نے 2023 کی صدارت میں African Union کو شامل کر کے گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بلند کیا۔ Quad میں انڈیا انڈو-پیسفک سیکیورٹی پر امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ہے، جو چین کی طرف سے چیلنجز کا جواب ہے۔ BRICS میں انڈیا نئی ڈویلپمنٹ بینک اور ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن کو پروموٹ کر رہا ہے، اور 2026 میں اس کی صدارت کرے گا۔ SCO میں یوریشیا کے مسائل پر چین اور روس کے ساتھ تعاون، اور IBSA میں برازیل اور ساؤتھ افریقہ کے ساتھ۔ یہ سب انڈیا کی multi-alignment کو دکھاتے ہیں، جہاں یہ مغربی اتحادیوں اور گلوبل ساؤتھ دونوں کو بیلنس کرتا ہے۔ Raisina Dialogue بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو انڈیا کو ایک گلوبل شیپر بناتا ہے۔
Raisina Dialogue 2026 نے ثابت کیا کہ جنگوں کے سائے میں بھی امید کی شمعیں جلائی جا سکتی ہیں۔ فن لینڈ جیسا چھوٹا لیکن طاقتور ملک انڈیا کے ساتھ مل کر بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تنازعات کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے۔ تاہم، تنقید یہ بھی ہے کہ ایسے فورمز کو جنگوں کو روکنے کے عملی اقدامات سے جوڑنا چاہیے۔ ورنہ یہ محض سفارتی اجتماعات بن کر رہ جائیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے