कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جسٹس فاطمہ بی بی: سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج

تحریر : مریم عبدالرحمٰن
متعلم درجۂ پنجم،
پی ایم شری ضلع پریشد اُردو اسکول دیولگاؤں مہی (بلڈھانہ)

تعارف:
جسٹس فاطمہ بی بی کا نام بھارتی عدلیہ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے، کیونکہ وہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی پہلی خاتون جج ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف صنفی امتیاز کی دیواروں کو گرایا، بلکہ ایک مسلم خاتون کے طور پر اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ کر اقلیتوں اور خواتین کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم:
فاطمہ بی بی 30 اپریل 1927ء کو ریاست کیرالہ کے ضلع پٹھنم تھِٹّا (Pathanamthitta) کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد بی وی محمد ایک اسکول ٹیچر تھے جنہوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں حاصل کی اور پھر یونیورسٹی کالج، تروواننتھاپورم سے بی اے کی ڈگری لی۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ لا کالج، تروواننتھاپورم سے ایل ایل بی کیا۔
عدالتی کیریئر کی شروعات:
فاطمہ بی بی نے 1950ء میں بار میں شمولیت اختیار کی اور ابتدا میں ریاستی حکومت کی طرف سے پبلک پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1974ء میں انہیں سب جج کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ وقت کے ساتھ وہ اعلیٰ عدالتوں میں مختلف ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔
سپریم کورٹ میں تقرری:
1989ء میں فاطمہ بی بی کو بھارتی سپریم کورٹ کی جج مقرر کیا گیا۔ یوں وہ بھارت کی تاریخ کی پہلی خاتون سپریم کورٹ جج بن گئیں۔ یہ اس وقت ایک انقلابی قدم تھا، جب اعلیٰ عدلیہ میں مردوں کا ہی غلبہ تھا۔ ان کی تقرری نے نہ صرف خواتین بلکہ اقلیتوں کے اعتماد کو بھی جلا بخشی۔
خدمات اور کارنامے:
صنفی مساوات کی علمبردار: انہوں نے کئی مقدمات میں خواتین کے حقوق، تحفظ اور مساوات کے حق میں فیصلے دیے۔
قانونی اصلاحات کی حامی: وہ عدالتی نظام میں شفافیت، تیز تر انصاف اور خواتین ججوں کی شمولیت کی حامی تھیں۔
پیشہ ورانہ دیانت: اپنے پورے کیریئر میں وہ دیانت، وقار اور غیر جانبداری کی علامت بنی رہیں۔
بعد از عدلیہ کردار:
ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس فاطمہ بی بی کو کئی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
1997ء میں انہیں تامِل ناڈو کی گورنر مقرر کیا گیا، اور وہ کسی بھارتی ریاست کی پہلی خاتون مسلم گورنر بھی بنیں۔
انہوں نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے کئی تنظیموں سے وابستہ رہیں۔
اعزازات و اعتراف:
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت اور جدوجہد نے آنے والی نسلوں کی خواتین ججوں، وکلاء اور لیڈروں کے لیے راہ ہموار کی۔
وفات:
جسٹس فاطمہ بی بی 23 نومبر 2017ء کو نوے برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات پر عدلیہ، سیاسی و سماجی حلقوں نے گہرے رنج و الم کا اظہار کیا۔
جسٹس فاطمہ بی بی کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عزم، علم، محنت اور دیانت کے ذریعے کوئی بھی شخص دنیا کی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے۔ وہ نہ صرف بھارت کی عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کی علامت تھیں بلکہ ایک ایسا روشن چراغ بھی تھیں جس نے مساوات، عدل اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ روشنی فراہم کی۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے