कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب ماؤس رُکے تو نوکری خطرے میں۔ ڈیجیٹل دور میں ہر حرکت پر باس کی نظر

تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ ،سولاپور

ایک وقت تھا جب دفتر میں کام کا مطلب تھا انسان کی قابلیت، خیالات، اور ٹیم ورک۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ان سب کی جگہ لے لی ہے ایک چھوٹی سی کرسر کی حرکت نے۔ اگر ماؤس چند منٹ کے لیے بھی رُک جائے تو آپ کے باس کو لگتا ہے آپ کام نہیں کر رہے۔ یہ ہے "باس ویئر” — جدید کمپنیوں کی نئی آنکھ جو ملازم کے ہر کلک اور ہر لمحے کی نگرانی کرتی ہے۔
جب آزادی ڈیجیٹل زنجیر بن گئی:
وبا کے دوران جب دنیا نے ریموٹ ورک کا خواب دیکھا تو خیال تھا کہ آزادی بڑھے گی۔ لوگ گھروں سے سکون سے کام کریں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ اب وہی کمپیوٹر، جو آزادی کی علامت بنا تھا، نیا ہتھکڑی بن چکا ہے۔ دفاتر نے سافٹ ویئر انسٹال کیے جو ملازم کے کی بورڈ کی رفتار، ماؤس کی حرکت، اسکرین پر گزرا وقت، اور حتیٰ کہ ویڈیو کال کے دوران چہرے کے تاثرات تک ریکارڈ کرتے ہیں۔
ماؤس جِگلر۔ نئی دنیا کی چالاکی :
کئی ملازمین نے اس نگرانی کا توڑ بھی نکال لیا۔ کچھ لوگ “Mouse Jiggler” نامی ڈیوائس استعمال کرتے ہیں جو خودکار طریقے سے ماؤس کو حرکت دیتی رہتی ہے تاکہ کمپیوٹر "Idle” نہ ہو۔
یعنی انسان آرام کر رہا ہے مگر سسٹم دکھا رہا ہے کہ وہ کام کر رہا ہے۔
یہ وہی ڈیجیٹل دوڑ ہے جس میں اعتماد کی جگہ چالاکی نے لے لی ہے۔
نگرانی کا اثر ذہن اور کارکردگی پر :
ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب انسان کو یہ احساس ہو کہ اس پر ہر وقت کوئی نظر رکھ رہا ہے تو اس کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ دماغ دباؤ میں آ جاتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں میں ایسے کئی ملازم سامنے آئے جو دن میں آٹھ گھنٹے نہیں بلکہ ماؤس کے ہر موومنٹ کے حساب سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھاتی ہے بلکہ انسان کو خود پر اعتماد کھو دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ایک ملازم نے بتایا کہ اسے روز یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کام کر رہا ہے۔ اگر چند منٹ ماؤس نہ ہلے تو رپورٹ میں "غیر فعال” دکھایا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں محنت کا معیار ماؤس کی رفتار سے ناپا جانے لگا ہے۔
کمپنیاں یہ کیوں کرتی ہیں؟ :
کمپنیاں اس رجحان کا جواز یہ دیتی ہیں کہ آن لائن کام کے ماحول میں نگرانی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس سے پیداوار (Productivity) میں اضافہ ہوتا ہے، اور غیر ذمہ دار ملازمین کی پہچان آسان ہو جاتی ہے۔
لیکن *ماہرین کہتے ہیں کہ یہ تصور صرف سطحی ہے۔ پیداوار بڑھتی نہیں بلکہ اعتماد ٹوٹتا ہے۔*
انسان مشین بننے لگتا ہے اور اصل کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
نئی نسل کا ردعمل:
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان ملازمین اب اس رجحان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق *کام صرف گھنٹے پورے کرنے کا نام نہیں بلکہ دماغی سکون، اعتماد اور تخلیقی آزادی کا نام ہے۔*
کئی کمپنیاں اب ہائبرڈ ماڈل اپنا رہی ہیں جہاں کارکردگی کو ماؤس یا اسکرین کے بجائے نتائج اور خیالات سے ناپا جا رہا ہے۔
باس ویئر سے باس کلچر تک:* باس ویئر دراصل ایک نئی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں باس یہ نہیں دیکھتا کہ آپ نے کیا سیکھا، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ آپ کی اسکرین پر کتنے کلک ہوئے۔ *یہ تصور بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کے لیے نہیں بلکہ انسان ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔
حل کیا ہے؟
1- اعتماد کی بحالی:
اداروں کو چاہیے کہ نگرانی کے بجائے اعتماد پر مبنی کلچر پیدا کریں۔
ملازم کو آزادی دیں تاکہ وہ نتائج پر توجہ دے، اسکرین پر نہیں۔
2 – نتائج پر مبنی کارکردگی:
کارکردگی کی پیمائش گھنٹوں سے نہیں بلکہ حاصل شدہ نتائج سے کی جائے۔
3- دماغی سکون اور تخلیقی آزادی:
ملازم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ادارہ اسے انسان سمجھتا ہے، مشین نہیں۔
4- ٹیکنالوجی کا توازن:
نگرانی کے آلات صرف تحفظ اور کارکردگی کی حد تک استعمال ہوں، انسانی نجی زندگی میں مداخلت نہ کریں۔
اختتامیہ ۔ ماؤس حرکت میں مگر انسان رُک رہا ہے۔
یہ دنیا اب ماؤس کی حرکت سے نہیں بلکہ دماغ کی تخلیق سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
اگر ہر کلک کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
اور جہاں اعتماد نہ ہو، وہاں ترقی بھی رک جاتی ہے۔
باس ویئر شاید کمپنیوں کو لمحاتی اطمینان دے دے، مگر یہ انسانی ذہن کو آہستہ آہستہ خاموش کر دیتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ماؤس نہیں، سوچنے کی صلاحیت کو حرکت میں لائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے