कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب سولاپور اٹھ کھڑا ہوا:ستیہ گرہ اور شہادت کی داستان

تحریر:عرفان محمد اسحاق بانکری

مہاراشٹرا کا شہر سولاپور دکن کی تاریخ میں محض ایک صنعتی مرکز نہیں بلکہ سیاسی شعور، عوامی بیداری اور مزاحمت کی علامت رہا ہے۔ قدیم زمانے سے یہ علاقہ تجارتی راستوں، کپاس کی صنعت اور محنت کش طبقے کے سبب اہمیت رکھتا تھا۔ برطانوی دور میں جب سولاپور پاور لوم اور ٹیکسٹائل صنعت کا بڑا مرکز بنا تو یہاں ایک منظم مزدور طبقہ وجود میں آیا، جو جلد ہی سیاسی شعور کا حامل ہو گیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جہاں صنعت اور محنت کش طبقہ بیدار ہوتا ہے، وہاں ظلم کے خلاف مزاحمت بھی جنم لیتی ہے۔ سولاپور اسی اصول کی عملی مثال بنا…
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی حکومت نے سولاپور کی صنعت سے بے پناہ فائدہ اٹھایا، مگر مزدوروں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔ کم اجرت، طویل اوقاتِ کار اور سیاسی پابندیوں نے عوامی بے چینی کو جنم دیا۔
کانگریس کی مقامی شاخ، قوم پرست اخبارات، جلسے جلوس اور انقلابی لٹریچر نے اس بے چینی کو شعوری مزاحمت میں بدل دیا۔ یہی وہ فضا تھی جس نے سولاپور کو 1930 میں ایک انقلابی شہر بنا دیا۔
1930: نمک ستیہ گرہ اور سولاپور کا فیصلہ کن کردار
مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی نمک ستیہ گرہ نے پورے ہندوستان میں انگریز حکومت کی اخلاقی حیثیت کو چیلنج کیا۔ سولاپور میں اس تحریک نے غیر معمولی شدت اختیار کی۔ ہڑتالیں شروع ہوئیں، بازار بند رہے، غیر ملکی کپڑوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور قومی پرچم سرکاری عمارتوں پر لہرائے گئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق چند دنوں کے لیے سولاپور میں عوامی کنٹرول قائم ہو گیا تھا، جو برطانوی حکومت کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا۔جب برطانوی حکومت نے دیکھا کہ انتظامی ڈھانچہ بکھر رہا ہے تو فوجی طاقت کا سہارا لیا گیا۔ سولاپور میں مارشل لا نافذ ہوا، فوج تعینات کی گئی اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔۔۔
نوآبادیاتی حکومت نے فیصلہ کیا کہ تحریک کو دبانے کے لیے چند افراد کو مثال بنایا جائے۔ اسی پالیسی کے تحت چار نوجوانوں کو منتخب کیا گیا، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ عوامی مزاحمت کی علامت بن چکے تھے۔جن میں ملاپا دھن شیٹی سولاپور کی عوامی تحریک کے صفِ اول کے کارکن تھے۔ وہ جلوسوں، ہڑتالوں اور عوامی اجتماعات کی قیادت کرتے تھے۔ برطانوی ریکارڈ کے مطابق ان پر ایک انگریز افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا، مگر مقدمے میں شواہد نہایت کمزور تھے۔ اس کے باوجود فوجی عدالت نے سزائے موت سنا دی۔دوسرے مجاہد آزادی شری کرشن ساردہ ایک تعلیم یافتہ قوم پرست اور تنظیم ساز تھے۔ ان کی تقاریر اور تحریریں عوام میں آزادی کا شعور بیدار کر رہی تھیں۔ نوآبادیاتی حکومت کے نزدیک وہ ’’نظریاتی خطرہ‘‘ تھے۔ انہیں گرفتار کر کے انتہائی عجلت میں مقدمہ چلا کر پھانسی کی سزا دی گئی۔اسی طرح ایک اور آزادی کے مجاہد جگن ناتھ شندے مزدور تحریک کی جان تھے۔ پاور لوم مزدوروں میں ان کی غیر معمولی مقبولیت انگریز حکومت کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ انہیں بھی بغاوت کا مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنائی گئی۔۔۔۔
اگر ذکر سولاپور کےتحریکِ آزادی کا ہو اور بات قربان حسین کی نہ ہو تو وہ سولاپور کی تاریخ ادھوری تاریخ ہو گی۔۔۔
سولاپور کی مٹی نے آزادی کی جدوجہد میں بے شمار جانثار پیدا کیے، مگر جن ناموں نے تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لیے نقش چھوڑا، اُن میں شہید قربان حسین کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ قربان حسین اُن مجاہدینِ آزادی میں شامل تھے جنہوں نے نہ دولت کی پروا کی، نہ جان کی، بلکہ وطن کی عزت و آزادی کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیا۔ برطانوی سامراج کے خلاف اُٹھنے والی سولاپور کی عوامی تحریک میں اُن کا کردار نہ صرف عملی تھا بلکہ فکری اور اخلاقی سطح پر بھی بے حد مضبوط تھا۔۔۔
قربان حسین کی پیدائش سولاپور کے ایک متوسط مگر باوقار مسلم خاندان میں ہوئی۔ اُن کی پرورش سادگی، دیانت اور قومی شعور کے ماحول میں ہوئی۔ کم عمری ہی سے اُن کے دل میں انگریزی اقتدار کے ظلم و جبر کے خلاف نفرت اور آزادی کی تڑپ پیدا ہو چکی تھی۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ تھے، جو غلامی کو انسانیت کی توہین سمجھتے تھے۔ تعلیم اگرچہ محدود تھی، مگر سیاسی شعور، قومی غیرت اور حق گوئی اُن کی اصل پہچان تھی۔ 1920 اور 1930 کے دور میں جب پورا ملک تحریکِ آزادی کی آگ میں جل رہا تھا، سولاپور بھی خاموش نہ رہا۔ قربان حسین نے گاندھی جی کی عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی تحریک اور مقامی انقلابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ جلسوں، جلوسوں اور عوامی بیداری کی مہمات میں پیش پیش رہتے۔ برطانوی حکومت کے خلاف نعرے لگانا، عوام کو منظم کرنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اُن کے روزمرہ کے معمولات میں شامل تھا۔
1930 میں سولاپور میں برطانوی حکومت کے خلاف جو عوامی بغاوت اٹھی، وہ ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس دوران شہر میں انگریزی راج کی علامتیں منہدم کی گئیں اور وقتی طور پر عوامی راج قائم ہوا۔ قربان حسین اس انقلابی ماحول کے سرگرم کردار تھے۔ یہی وہ موقع تھا جب برطانوی حکومت نے طاقت کے زور پر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور متعدد مجاہدین کو گرفتار کیا گیا۔
قربان حسین کو بھی اُن کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر کے سخت مقدمات قائم کیے گئے۔ انگریز حکومت نے انہیں بغاوت، سرکشی اور حکومت کے خلاف جنگ کا مجرم قرار دیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران قربان حسین نے کسی قسم کی معافی یا رحم کی اپیل نہیں کی۔ اُن کا مؤقف صاف تھا کہ غلامی کے خلاف جدوجہد جرم نہیں بلکہ فرض ہے۔ یہ جرأت اور حق گوئی ہی اُن کی شہادت کا پیش خیمہ بنی۔۔۔۔
12جنوری 1931 کو شہید قربان حسین کو سولاپور کے دیگر تین مجاہدین کے ساتھ پھانسی دے دی گئی۔ یہ پھانسی محض ایک سزا نہیں تھی بلکہ ہندوستانی مسلمانوں اور بالخصوص سولاپور کے عوام کے حوصلے آزمانے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ قربان حسین نے پھانسی کے تختے کو مسکراتے ہوئے قبول کیا اور ثابت کر دیا کہ سچا مجاہد موت سے نہیں ڈرتا، بلکہ موت کو بھی پیغام بنا دیتا ہے…
شہید قربان حسین کی قربانی نے سولاپور کی تحریکِ آزادی کو ایک نئی روح عطا کی۔ اُن کی شہادت کے بعد شہر میں آزادی کی تڑپ اور زیادہ شدید ہو گئی۔ ہندو، مسلم، دلت اور تمام طبقات کے لوگوں نے متحد ہو کر یہ پیغام دیا کہ قربان حسین جیسے شہید کسی ایک قوم کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے ہیں۔۔۔۔۔
شہید قربان حسین سولاپور کی تحریکِ آزادی کا وہ کردار تھے جس نے اس جدوجہد کو مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کا عملی نمونہ بنایا۔ وہ نہ صرف احتجاج میں پیش پیش تھے بلکہ مختلف طبقوں اور مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔
ان کی قیادت میں سولاپور کی تحریک فرقہ وارانہ سیاست سے پاک رہی، جو برطانوی حکومت کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی ۔قربان حسین کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں شدید جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی رحم کی اپیل نہیں کی۔انہوں نے قید کے دوران کہا۔۔
“اگر میری قربانی سے ہندو مسلم اتحاد مضبوط ہوتا ہے تو یہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔”
اس پھانسی نے پورے ہندوستان میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ کانگریس کے اجلاسوں میں اس واقعے کی مذمت کی گئی، اخبارات نے اسے ’’عدالتی قتل‘‘ قرار دیا اور عوامی سطح پر ان شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
مورخین کے مطابق سولاپور کے چار شہیدوں کی قربانی نے آزادی کی تحریک کو اخلاقی طاقت فراہم کی۔ سولاپور کے چار شہید ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ آزادی صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ قربانی، اتحاد اور استقامت کا نتیجہ ہے۔خاص طور پر قربان حسین کی شہادت ہمیں سکھاتی ہے کہ قومی اتحاد کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔
آج ضرورت ہے کہ شہید قربان حسین کو محض ایک تاریخی نام نہ سمجھا جائے بلکہ اُن کے کردار کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنایا جائے۔ اُن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی قربانی مانگتی ہے، اور قربانی دینے والے ہی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ سولاپور کی گلیاں آج بھی اُن کے قدموں کی گواہ ہیں اور اُن کا نام ہندوستان کی آزادی کی داستان میں سنہری حروف سے لکھا جا چکا ہے۔۔۔۔
حوالہ جات
*”آزادی ہند کے مجاہدین”
مصنف۔ بپین چندرا.

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے