कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جاوید اختر سے مناظرہ خوش کن ثابت ہوا

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
۔9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا
جو کہتا ہے کہ خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے
گذشتہ 20 ڈسمبر 2025 کو دہلی میں Does God ?exists کیا خدا موجود ہے ؟ اس عنوان پر ڈیبیٹ ( Debate) فلمی دنیا کے مشہور مکالمہ نگار جاوید اختر صاحب اور مولانا مفتی شمائل ندوی کے مابین ہوا، جس میں مختلف قسم کے تعلیم یافتہ ،( intellectual ) ہستیاں موجود تھیں۔ یقینا اللہ نے دنیا میں زندگی اور موت کو ایک ایک امتحان کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اور انسان کو عقل سلیم عطا کرکے اس کو اچھے اور برے کا مکلف بنایا ہے۔ خدا کے وجود جو ان عصری اسلوب اور ان اصطلاحات سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔( Teleo logical Argument ( Design Argument) 1 : completed and order: the universe shows complex structure and order, suggesting a designer. 2: Fine tuning: The universes fundamental constant are finely tuned for life.implying a purposeful) جوکرتا ہے تو چھپ کے اہل جہاں سے۔ کوئ دیکھتا ہے تجھے آسماں سے۔ مولانا مفتی شمائل ندوی نے جاوید اختر کے سوالات اور خدا کی وحدانیت کی (scientific ) اور عصری اسلوب میں موثر اور مدلل جوابات دئیے۔ جس کو کڑوڑوں لوگوں نے سنجیدگی سے سماعت کیا۔ اس کا فائدہ ماشاء اللہ یہ بھی ہوا کہ علماء کا وقار دوبالا ہوگیا۔ اور خواب غفلت میں سوے ہوے (Liberal )آزاد خیال، قسم کے لوگ کم از کم جاگ اٹھے اور اللہ کے ( existence ) وحدانیت ، اس کے وجود اور اسلام کی صداقت کو محسوس کرنے لگے۔ اور خدا کی مصلحت اور منشاء سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ نے جاوید اختر صاحب (Atheist) ملحد کے بحث و مباحثہ کے ذریعہ غیروں پر اللہ کے وجود اور اسکی حقانیت کو آشکارہ کیا ہے۔ اور انشاء اللہ جاوید اختر صاحب کا اگر ضمیر جاگ گیا ہو تو وہ بھی اللہ کے وجود کے قائل ہوں گے جس سے غیروں اور آزاد خیال لوگوں میں کائنات کے رب کا تصور پیدا ہوگا۔ جو ایک خوش آئیند بات ہوگی۔ چناں چہ ایک ( Atheist) ملحد نے ایک مولانا سے کیا کہ میں اللہ کائنات میں موجود نہیں ہے، مولانا نے کہا ٹھیک ہے ،آپ کے مطابق اللہ نہیں ہے۔ پھر بھی میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے موجود ہونے کو مانتا ہوں۔جب مرنے کے بعد پتہ چلیگا کہ خدا موجود ہے، میں تو بچ گیا لیکن تم مارے گیے۔ لیکن (Debate) ڈیبیٹ کے بعد فیس بک پر جو کامینٹ اور لوگوں کی راے تھی وہ تقریبا ملحد ( atheist) جاوید اختر کی ہدایت کے لیے دعا کرنے کے بجاے، ان کی تضحیک اور تمسخر اور استھزا تھا۔ ہمارا کام ہے کہ ہم دین کی بات لوگوں تک پہونچاے، ہدایت دینا اور نہ دینا اللہ کی مرضی ہے۔ قرآن کریم میں ہے ،ہم جس کو چاہے ہدایت دیتے ہیں۔ لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشاء۔ ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں بلکہ رب کائنات جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے۔ اور جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے، اس کو کوئ بھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ،اس کو راہ راست پر کوئ بھی نہیں لا سکتا۔ ہم تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھی ( unbelievers) مشرک تھے جو اللہ کا انکار کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلی کلمۃ اللہ کی اور اللہ کے ایک ہونےاور اس کی وحدانیت کی دعوت سخن اہل عرب کو حسن اخلاق سے دی۔ جب آپ طائف میں خدا ے برتر کا پیغام اور اسکی وحدانیت اہل طائف پر ظاہر کی اور انہیں دعوت دین پیش کیا تو وہاں کے لوگوں نے آپ کو ایزا رسانی کی اور پتھر مارے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ آپ کہے تو میں اس بستی کو دونوں پہاڑ کے درمیان دبوچ لوں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں۔ اور ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔ لیکن آج ہم نے خدا کی وحدانیت اور جاء الحق و ذھق الباطل پر مدلل اور پر اثر مناظرہ سنا الحمد للہ، لیکن اس کے پس منظر میں ہمارے بہت سارے بھائیوں نے فیس بک پر جاوید اختر کی ہدایت اور ان کے لیے دعا کرنے کے بجاے تضحیک و تمسخر و استھزاء کیا جو مذہب اسلام میں درست نہیں ہے۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جو دین اسلام میں داخل ہونے سے قبل اسلام دشمن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں ہدایت کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالی ان پر اپنا فضل فرما اور انہیں دین کی خدمت کرنے کا موقع عنایت فرما۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول کی، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو ایمان کی دولت عطا فرمائ۔ اور وہ بعد کو خلیفہ بنے۔ اس سے اسلام کو مزید تقویت ملی۔ اسی طرح ابو جہل کے بارے میں بھی آپ نے دعا فرمائی تھی۔ لیکن ( Unfortunately ) بد قسمتی سے انہوں نے ایمان نہیں لایا۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم خود بھی ایمان پر قائم رہیں ،اور دوسروں کے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ سب کو دین کی سمجھ عطا فرماے۔ آمین ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے