कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تیسرا عشرہ: رحمت، مغفرت اور نجات کی معراج

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ
صدرجمعیۃ الاقلیۃ المسلمۃ الھندیہ ،لکھنؤ

رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں، رحمتوں اور روحانی ترقی کا مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں اور برکتیں اہل ایمان پر نازل ہوتی ہیں۔ یہ مہینہ تین عشروں پر مشتمل ہے، جن میں ہر ایک کی اپنی خاص فضیلت ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا عشرہ کہلاتا ہے۔ رمضان کا تیسرا اور آخری عشرہ اس مقدس مہینے کا سب سے اہم اور بابرکت حصہ ہوتا ہے، جس میں عبادات کی خاص تاکید کی گئی ہے اور شبِ قدر جیسی عظیم رات اسی عشرے میں موجود ہے، جسے ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے۔
تیسرے عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے جہنم سے نجات کے دروازے کھول دیتا ہے اور جو بھی سچے دل سے توبہ کرتا ہے، اسے معاف فرما دیتا ہے۔ یہی وہ عشرہ ہے جس میں نبی اکرمؐ عبادات میں مزید اضافہ فرما دیتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی راتوں کو عبادت کے لیے جگاتے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان والوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے، اپنی روح کو پاکیزگی بخشنی چاہیے اور اللہ کے قرب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ اس عشرے میں دنیاوی مصروفیات کو کم کر کے دل کو عبادت، ذکر اور توبہ کی طرف مائل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
اس عشرے کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس میں لیلۃ القدر یعنی شبِ قدر واقع ہوتی ہے، جو امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑی روحانی نعمت ہے۔ یہ رات ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بے حساب نازل ہوتی ہیں۔ قرآن مجید میں اس رات کی عظمت کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور نبی اکرمؐ نے بھی اس رات کو عبادت میں گزارنے کی ترغیب دی ہے۔ اس رات میں کیے گئے اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور جو کوئی اس رات کو ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت میں گزارتا ہے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات کو پانے کے لیے اہل ایمان آخری عشرے میں اعتکاف کرتے ہیں، تاکہ دنیاوی مشاغل سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی طرف رجوع کر سکیں۔
اعتکاف رمضان کے آخری عشرے کی ایک اہم سنت ہے، جو انسان کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر کے اللہ کی عبادت میں مشغول ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نبی اکرمؐ خود بھی رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، اور آپ کے بعد صحابہ کرامؐ اور امت کے نیک لوگ بھی اس سنت پر عمل پیرا رہے۔ اعتکاف کے ذریعے انسان اپنی خواہشات اور مصروفیات کو ترک کر کے مکمل طور پر اللہ کے ذکر اور عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے، اور اس کا دل اللہ کی محبت سے معمور ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ کے لیے ایک نیک اور پرہیزگار زندگی گزارنے کا عہد کرے۔
تیسرے عشرے میں عبادات میں اضافہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عشرہ جہنم سے نجات کا عشرہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں اور وہ اپنے بندوں کو بخشش کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہیے، نوافل ادا کرنے چاہئیں، درود شریف کا ورد کرنا چاہیے اور استغفار کو اپنی عادت بنانا چاہیے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کرتا ہے، اس کے لیے بے شمار رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر ’’اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی‘‘ دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے، کیونکہ یہ دعا نبی اکرمؐ نے شبِ قدر میں مانگنے کی خاص تلقین فرمائی ہے۔
رمضان المبارک کے آخری دنوں میں ایک اور اہم پہلو صدقہ و خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خاص طور پر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاکہ معاشرے کے وہ لوگ جو مشکلات کا شکار ہیں، انہیں بھی رمضان کی برکتوں سے فیض یاب کیا جا سکے۔ زکوٰۃ اور فطرانے کی ادائیگی بھی اسی عشرے میں کی جاتی ہے، تاکہ مستحقین عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ رمضان کے آخری لمحات میں بھی انفاق فی سبیل اللہ کو نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ دل کھول کر اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔
رمضان کا آخری عشرہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم موقع ہے، جس میں مغفرت اور رحمت کے دروازے وسیع کر دیے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان قیمتی لمحات کی قدر کریں، اپنی زندگیوں کو بدلنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن عبادت کریں۔ جو شخص اس عشرے کو غفلت میں گزار دیتا ہے، وہ درحقیقت ایک بہت بڑی نعمت سے محروم رہ جاتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم نہ صرف رمضان بلکہ پورے سال کے دوران اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنی زندگیوں کو نیکی اور تقویٰ سے مزین کریں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرتے رہیں۔
جب رمضان المبارک کا اختتام قریب آتا ہے، تو ایک طرف اہل ایمان کو خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ایک مہینہ گزارا، لیکن دوسری طرف دل میں ایک عجیب سی اداسی بھی پیدا ہوتی ہے کہ یہ بابرکت مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔ جو لوگ اس مہینے میں اللہ کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وہ درحقیقت حقیقی سعادت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم رمضان کے آخری عشرے کو پوری سنجیدگی سے گزاریں، عبادت میں اپنا وقت لگائیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کی بے پایاں رحمتوں کا طلبگار بنیں، تاکہ یہ مبارک لمحات ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکیں اور ہمیں آخرت میں کامیابی کی طرف لے جائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے