कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تلنگانہ کی مالیاتی صورتحال پر CAG رپورٹ حقیقت کا آئینہ

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

حال ہی میں پیش کی گئی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا(CAG) کی رپورٹ نے نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے ملک کی ریاستوں کی مالیاتی صورتحال پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ CAG ہندوستان کا سب سے اعلیٰ آڈٹ (تنقیح)ادارہ ہے جو آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس کا قیام مالیاتی انتظامیہ میں شفافیت، جوبدہی اور آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ CAG کی تقرری صدر جمہوریہ کرتے ہیں اور اسے سپریم کورٹ کے جج کی طرح تحفظ حاصل ہے۔ آرٹیکل 149 کے تحت اس کے فرائض اور اختیارات میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تمام اکاؤنٹس کی آڈٹ کرنا، ریسیپٹس(رسائد) اور اخراجات کی جانچ پڑتال کرنا، اور عوامی فنڈز کے درست استعمال کی نگرانی شامل ہے۔ یہ ادارہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کو اپنی رپورٹس پیش کرتا ہے تاکہ عوامی پیسے کا درست استعمال ہو سکے اور مالیاتی بدانتظامی روکی جا سکے۔ CAG کو اکثر عوامی خزانے کا محافظ (Guardian of the Public Purse) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کی حقیقت پسندی اور کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔
CAG کی سالانہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندوستان کی کئی ریاستیں ایک جیسے مالیاتی دباؤ کا شکار ہیں جیسے پنجاب، مغربی بنگال، راجستھان، آندھرا پردیش اور کیرالہ وغیرہ۔ ان ریاستوں میں قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ریونیو ڈیفیسٹ عام ہے اور کئی ریاستیں RBI سے Ways and Means Advances اور اوور ڈرافٹ کا سہارا لے رہی ہیں۔ قومی سطح پر ریاستوں کا مجموعی قرضہ دس سال میں تین گنا بڑھ چکا ہے، جو معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ تلنگانہ بھی اسی فہرست میں شامل ہے جہاں قرضہ کا تناسب GSDP کا 34.29 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
دسمبر 2023 میں جب بی آر ایس (BRS) کی حکومت ختم ہوئی اور کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو تلنگانہ کی مالیاتی صورتحال نسبتاً مستحکم تھی۔ BRS حکومت کے آخری سال 2023-24 میں ریاست ریونیو سرپلس میں تھی، تقریباً 779 کروڑ روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نئی کانگریس حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں یعنی Six Guarantees (چھ ضمانتیں) جیسے مہالکشمی، چیوتا پنشن، رعیتو بھروسہ، گروہاجیوتی وغیرہ کو ترجیح دی۔ ان وعدوں کی تکمیل کے لیے بھاری اخراجات شروع ہوئے جس سے مالیاتی تصویر بدل گئی۔
مارچ 2026 میں پیش کیے گئے 2026-27 بجٹ میں حکومت نے کل اخراجات کا حجم 3.24 لاکھ کروڑ روپے رکھا اور ریونیو سرپلس یعنی اضافی مالیہ کا دعویٰ کیا۔ مگر CAG کی 2024-25 رپورٹ (اپریل 2026 میں اسمبلی میں پیش) نے اس دعوے کی قلعی کھول دی۔ رپورٹ کے مطابق 2024-25 میں بجٹ تخمینہ 2.21 لاکھ کروڑ روپے تھا مگر اصل خرچ صرف 1.67 لاکھ کروڑ روپے (76 فیصد) رہا۔ ریونیو ریسیپٹس متوقع سے بہت کم رہے۔ نتیجتاً ریاست ریونیو سرپلس سے ریونیو ڈیفیسٹ(خسارہ) میں چلی گئی اور تقریباً 9,420 کروڑ روپے کا ڈیفیسٹ ریکارڈ ہوا۔ فسکَل ڈیفیسٹ 48,922 کروڑ روپے رہا۔ سب سے تشویش ناک بات یہ تھی کہ پورے مالی سال میں صرف دو دن ہی کم سے کم کیش بیلنس برقرار رہ سکا۔ باقی 363 دنوں میں RBI سے Special Drawing Facility، Ways and Means Advances اور اوور ڈرافٹ (تقریباً 37,457 کروڑ روپے 123 دنوں کے لیے) کا سہارا لینا پڑا۔
اس کے نتیجے میں تلنگانہ کا عوامی قرضہ مارچ 2025 تک 4.47 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ آف بجٹ گارنٹیوں سمیت یہ اعداد و شمار 5.62 لاکھ کروڑ روپے (GSDP کا 34.29 فیصد) ہو گئے جو FRBM حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ Fiscal Responsibility and Budget Management (FRBM) Act 2003 ہندوستان میں مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے کا اہم قانونی فریم ورک ہے۔ اس کا بنیادی مقصد حکومت کے اخراجات اور قرضوں کو کنٹرول کرنا، ریونیو اور فسکَل ڈیفیسٹ کو محدود کرنا اور طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اصل ایکٹ میں مرکز کے لیے فسکَل ڈیفیسٹ کو 3 فیصد GDP تک محدود کرنے اور ریونیو ڈیفیسٹ کو صفر کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ بعد میں این کے سنگھ کمیٹی کی سفارشات پر 2018 میں ترمیم کی گئی جس میں فسکَل ڈیفیسٹ کے ساتھ ساتھ Debt-to-GSDP ratio کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ مرکز کے لیے debt-to-GDP کا ہدف 40 فیصد اور ریاستوں کے لیے 20 فیصد رکھا گیا تھا تاکہ مجموعی طور پر جنرل گورنمنٹ ڈبٹ 60 فیصد GDP تک رہے۔ ریاستوں کے اپنے FRBM ایکٹس میں بھی فسکَل ڈیفیسٹ کو عام طور پر 3 فیصد GSDP تک محدود رکھنے کا ہدف ہوتا ہے، جس میں بعض خاص حالات (جیسے قدرتی آفت یا معاشی بحران) میں 0.5 فیصد تک کی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔بات تلنگانہ حکومت کی جائے تو گارنٹیوں کا بوجھ بھی بڑھ کر 2.41 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔ سود کی ادائیگی پر 21,304 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ CAG نے واضح طور پر کہا کہ بجٹ کے تخمینے غیر حقیقت پسندانہ ہیں، بجٹ کا کم استعمال جاری ہے اور ریونیو جنریشن کمزور رہا ہے۔
اپوزیشن BRS نے CAG رپورٹ کو کانگریس حکومت کے خلاف ریڈ الرٹ قرار دیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور BRS لیڈر ٹی ہریش رائو نے کہا کہ CAG رپورٹ نے کانگریس کی مالیاتی بد انتظامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ BRS نے ریاست کو ریونیو سرپلس دے کر چھوڑا تھا مگر کانگریس نے اسے ڈیفیسٹ میں تبدیل کر دیا۔ بجٹ کے تخمینوں اور اصل اخراجات میں بڑا فرق، قرضوں کا بے جا استعمال اور ویلفیئر کی ناکامی یہ سب CAG نے ثابت کر دیا ہے۔ BRS ورکنگ پریذیڈنٹ کے ٹی آر نے بھی الزام لگایا کہ کانگریس نے قرض اور سود کی ادائیگی کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ CAG رپورٹ کے مطابق 23 مہینوں میں 2.23 لاکھ کروڑ روپے قرض لیا گیا مگر کوئی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں ہوا۔ BRS کے دور میں ہر روپیہ اثاثہ سازی پر خرچ ہوا تھا جبکہ اب ریونیو گروتھ منفی ہو گئی ہے۔
ماہرین معیشت بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ CAG خود نوٹ کرتی ہے کہ BRS اور کانگریس دونوں حکومتوں نے غیر حقیقت پسندانہ بجٹ پیش کیے۔ بعض معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویلفیئر اسکیمز (Six Guarantees) غریب طبقے کے لیے اہم ہیں مگر اگر قرضوں سے چلائی جائیں اور سرمایہ اخراجات محدود رہے تو طویل مدتی استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ نیتی آیوگ کی Fiscal Health Index میں تلنگانہ کا موقف متوسط ہے جو بتاتی ہے کہ ریونیو موبلائزیشن اور ڈیبٹ مینجمنٹ میں بہتری کی ضرورت ہے۔اس مالیاتی دباؤ کے باوجود چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی حکومت تلنگانہ رائزنگ 2047 کے وژن پر کام کر رہی ہے۔ اس وژن کے تحت ریاست کو 2034 تک 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے ریاست کو تین معاشی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ CURE (شہری علاقے ‘سروسز اور نیٹ زیرو)، PURE (پیری اربن مینوفیکچرنگ) اور RARE (دیہی زراعت اور گرین اکانومی)۔ حیدرآباد کو عالمی IT اور AI ہب بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور پائیدار ترقی پر زور ہے۔چھہ ضمانتیں اس وژن کا مرکزی ستون ہیں۔ 2026-27 بجٹ میں ان پر 50,713 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ضمانتیں غریبوں کو بااختیار بنائیں گی جو طویل مدت میں معاشی سرگرمی بڑھائیں گی اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ کریں گی۔ بجٹ میںسرمایہ اخراجات 47,267 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور قرضوں کی ری سٹرکچرنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ سود کا بوجھ کم ہو۔
CAG رپورٹ ایک آئینہ ہے۔ BRS اسے کانگریس کی ناکامی قرار دے رہی ہے جبکہ ماہرین دونوں پارٹیوں کی غیر حقیقت پسندانہ بجٹنگ پر تنقید کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ویلفیئر اور ترقی دونوں کو ایک ساتھ چلانے کی کوشش قابل تعریف ہے مگر اس کے لیے شفافیت، ریونیو جنریشن بڑھانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور پرائیویٹ انویسٹمنٹ راغب کرنا ضروری ہے۔ اگر درست اقدامات کیے گئے تو تلنگانہ کی نوجوان آبادی، IT صلاحیت اور ریونت ریڈی کا وژن اسے قومی سطح پر مثال بنا سکتا ہے۔ ورنہ قرض کے بوجھ تلے ترقی کا خواب صرف ایک خواب ہی رہے گا۔
اس صورتحال میں کچھ عملی تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں جو مالیاتی استحکام اور ویلفیئر دونوں کو متوازن بنائیں۔ سب سے پہلے ویلفیئر اسکیمز کو ٹارگٹڈ بنایا جائے یعنی صرف مستحقین تک محدود رکھا جائے تاکہ خلاء ختم ہوں۔ ریونیو جنریشن کو بڑھانے کے لیے ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے اور نان ٹیکس ریونیو کے ذرائع تلاش کیے جائیں۔ کیپیٹل اخراجات کو ترجیح دی جائے تاکہ انفراسٹرکچر اور روزگار پیدا ہو۔ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کو مزید فعال کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے۔
یہ تجاویز صرف عملی نہیں بلکہ معاشی نظریات پر بھی مبنی ہیں۔ آدم سمتھ، جو جدید معیشت کے بانی سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی ویلتھ آف نیشنز میں لکھتے ہیں کہ حکومت کا کام محدود ہونا چاہیے۔ وہ ”ان ویزیبل ہینڈ” (Invisible Hand) کے اصول پر زور دیتے ہیں کہ آزاد بازار خود بخود وسائل کو موثر طریقے سے تقسیم کرتا ہے۔ سمتھ کے مطابق حکومت کو قرض صرف پیداواری کاموں (جیسے انفراسٹرکچر اور تعلیم) کے لیے لینا چاہیے، غیر ضروری ویلفیئر یا پاپولزم پر نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بے جا اخراجات اور قرض کا بوجھ آنے والی نسلوں پر ظلم ہے۔ اسی طرح جدید سیاسی مفکرین جیسے جان مینارڈ کینز کا خیال ہے کہ بحران کے وقت ڈیفیسٹ سپینڈنگ مفید ہو سکتا ہے مگر طویل مدتی طور پر یہ متوازن ہونا چاہیے ورنہ مہنگائی اور قرض کا چکر شروع ہو جاتا ہے۔ ان خیالات کی روشنی میں تلنگانہ کو ویلفیئر اور ترقی کا توازن قائم کرنا ہوگا تاکہ سمتھ کے اصول کے مطابق آزاد معیشت اور کینز کے متوازن مداخلت کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔تلنگانہ کی ترقی کا انحصار ویلفیئر اور مالیاتی استحکام کے متوازن راستے پر ہے۔ CAG رپورٹ کو موقع بنا کر اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر کام کریں تو ریاست کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے