कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم ہی سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ….!!

از قم: عبدالرافع خان ناندیڑ
متعم: دارالعلوم دیوبند

ڈگریاں تو بس تعلیم کی رسید ہوا کرتی ہے ۔!
سچ تو یہ ہے کہ عمل انساں کی پہنچان ہوا کرتی ہے۔
ہوں تو اس دنیائے رنگ و نو میں مسبب الاسباب نے انسان و بشر کو اسباب و وسائل کا ماتحت بنایا ہے اور اسی کو اپنا کر انسان اپنی ضرورتوں کو کامل و مکمل کرتا چلا آیا ہے چونکہ ہر دور میں دنیا کی ترقی و کامیابی کا راز تعلیم ہی سے ہے منسلک رہا ہے اور انسانی معاشرے میں تہذیب وسلیفہ بھی تعلیم ہی کی مرہون منت ہے غرض یہ کہ تعلیم ہی وہ سرمایہ ہے جس سے دنیا کا امن و سکون جوڑا ہوا ہے۔
تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت ہے۔
تعلیم دنیا کی ہر قوم و مذہب کے لئے ترقی کا ضامن ہے۔
تعلیم سے محض ڈگریاں حاصل کرنا مقصود نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اخلاق رذیلہ کو نکال باہر کر کے اخلاق حسنہ اور تہذیب و تمدن کو معاشرے میں اجاگر کرنا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم وہ ہنر اور گر ہے۔ جو ستاروں کی گزر گاہوں سے لیکر زمین میں چھپے معدنیات کی کھوج اور خزانے کو ڈھونڈنے کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ تعلیم نے ہر میدان جہالت ہر مردہ قلوب میں پیوسط ہو کر اپنا لوہا منوایا ہے الغرض یہ کہ تعلیم میں سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
سامعین محترم : اگر انسان میں تعلیمی شعور نا ہو تو وہ چند ٹکوں میں اپنے ضمیر کو فروخت کرنے پر راضی ہو جائیگا ۔
چونکہ شریعت اسلامی میں تعلیم سے مقصود تہذیب و تمدن اور سلیقہ مند افراد کا پیدا ہونا ہے۔ خود اللہ تعالٰی نے اپنے مبارک کلام میں فرمایا ہے کہ قل ھل یستوی الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ (الزمر (۹)
جس طرح اللہ تعالٰی کے نزدیک عالم اور جاہل میں فرق ہے۔ اسی طرح ایک سلیقہ مند اور بد تہذیب شخص میں بھی فرق ہے
کیوں کہ جاہل صرف وہ شخص نہیں جو تعلیم سے آشنا نا ہو بلکہ جاہل تو وہ بھی ہے۔ جس نے بہت سی ڈگریاں اور تمغے حاصل کئے ہوں مگر اپنے ظرف میں وسعت لہجے سے میں نرمی اور طبیعت میں عاجزی و انکساری نا پیدا کی ہو۔ چونکہ تعلیم انسان کو ایک سلیقہ مند اور اعلیٰ طرف رکھنے والا بناتی ہے۔
دسیوں مثالیں ماضی میں روق گردانی کے بعد ہم کو ملتی ہے۔
کیا آپ کو یاد نہیں جب مکہ میں اقراء کا نعرا بلند ہوا تو جاہلیت کی تہذیب نے اپنا راستہ بدل لیا:
حاضر بن مجلس اور اسلام کی ماؤں اور یہوں :
کیا آپ کو علم نہیں کہ جب عرب میں تعلیم عام ہوئی تو وہاں سے ابن عباس ہو جیسے مفسر اور ابن مسعود جیسے فقیہ و مدبر حضرات نے لوگوں تعلیم حیات سے آشنا کروایا ۔
کیا آپ نے سنا نہیں کہ محمد بن قاسم نے تہذیب و اخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک خدا کی بندگی کی تعلیم دی۔
مختصر یہ کہ تعلیم ہی پر ترقی کا زینہ اور ہر تاج کا نگینہ ہے اور آج ہماری اس سے دوری دنیا و آخرت میں خون آنسو پینا ہے دعاء کریں اللہ پاک تعلیم کو اپنا زیور حیات بناکر اپنی زندگیوں کو سنوارے اور نسل کو سدھارے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العلمین وصلی الہ علی النبی الکریم ۔۔
’’ اوزار تھما دیتی ہے ہاتھوں میں غریبی
ہر طفل کی قسمت میں کتابیں نہیں ہو تیں‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے