कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم اور معلم انسانیت صلی اللّٰہ علیہ وسلم

تحریر:سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹرا
8485884176

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے علم کی نعمت سے نوازا ہے تو معلم انسانیت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو رہبری کے لئے بھیجا ہے کہ اس علم وتعلیم سے انسانیت نواز بننے کے لئے اپنے آقائے محبوب کی تعلیمات کو اپنے زندگی کا شعار بنالو ، *علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے* ۔۔۔۔ *علم حاصل کرو گود سے گور تک* یہ ہمیں دین اسلام سے ملا ہے ، ہمیں علم کا تحفہ پیش کیا گیا ہے اور رہتی دنیا تک ہمیں علم سیکھنا ہے اور عمل کرنا ہے ، اسلام نے ہمیشہ علم کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کیا ہے ، جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تو فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں ، یہ فضیلت و اہمیت کس لئے تھی ، وہ محض علم کی وجہہ سے دی گئی ان کو جو علم دیا گیا وہ فرشتوں کے پاس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اور معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس میں تعلیم عام نہ ہو ، تعلیم سے مراد ہے شیوہ علم ، اور اس میں ہر قسم کی تعلیم شامل ہے ، دینی و دنیاوی ، بنیادی و اعلیٰ نظری اور عملی تجربہ و تحقیق پر مبنی ہو یا عقل و فکر پر ، ۔۔۔۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ ,, اللّٰہ تعالیٰ نے آخری نبی کے طور پر جن کا انتخاب کیا وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اور اللّٰہ بہتر جانتا کہ اس نے کس کو منتخب کرنا ہے ،۔۔۔ الانعام ( 6 : 124) ، ۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے اس پیغمبر پر پہلی وحی بھیجی ہے تو اسے پڑھنے کا ہی حکم دیا گیا ,, پڑھو اور یقین رکھو کہ تمھارا رب بڑا کریم ہے ، وہی ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جو وہ نہیں جانتا تھا ،، (العلق 96 : 3 ۔ 5) ۔۔۔۔یعنی پیغام ہدایت بھیجنے والا بھی معلم اور العلیم جو پیغام بھیجا گیا وہ یہ کہ ,, پڑھو ،، اور پھر ڈیوٹی یہ لگائی کہ دوسروں کو پڑھاؤ ۔
اور ہم نے تمھارے درمیان ایک رسول بھیجا ہے جو تمھیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے تمھارا تزکیہ کرتا ہے تمھیں کتاب وسنت کی تعلیم دیتا ہے اور ایسی باتیں سکھاتا ہے جنھیں تم نہیں جانتے تھے ، ( البقرہ 2 : 151) ۔۔۔۔ ,, بیشک اللّٰہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہوں ،، ( فاطر 35:28) اسی لئے قرآن نے فرمایا کہ ,, عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے ( الزمر 9 : 39 ) ، ,, بلکہ اہل علم کا درجہ تو بہت بلند ہے ، ( یوسف 12: 76) ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی لئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کر سکے ،
چنانچہ اس پیغمبر کی ساری عمر تعلیم میں ہی گذر گئی اور تحدیث نعمت اور اظہار حقیقت کے طور پر فرمایا کہ میں تو ہوں ہی معلم ، اور جب حج کے موقع پر سارے مسلمان اکھٹے تھے تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا میں نے پہچانے کا حق ادا کر دیا ہے ، سب نے کہا ,, ہاں ،، اس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور عرض کیا ، اے اللّٰه گواہ رہنا ، یہ تھے پیغمبر اسلام ، معلم انسانیت ، معلم رہبر۔۔۔ اور اسلام میں علم کی یہ اہمیت کیوں ہے اس لئے کہ صحیح علم کے بغیر آدمی نہ خدا کو پہچان سکتا ہے نہ اس کائنات میں اپنی حیثیت کو ، چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں ، طلب العلم فریضہ علی کل مسلم ( سنن ابو ماجہ) لیکن اسے یہ نہ سمجھا جائے کہ اس علم میں صرف دینی علم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے بلکہ بنیادی علم یعنی لکھنا پڑھنا ، جاننا بھی ، اس سے مراد ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عربوں میں لکھنے پڑھنے کا رواج کم تھا اور مدینے میں بھی ایسے لوگ کم تھے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس کمی کو پورا کرنے کا اتنا خیال تھا کہ بدر میں جو پڑھے لکھے قیدی تھے ان کا فدویہ مقرر کیا گیا کہ وہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں چنانچہ زید بن ثابت رض جیسے عالم نے اس موقع پر ہی لکھنا پڑھنا سیکھا تھا ، ۔۔۔۔۔۔ اسی علم کی بنیاد پر ساری دنیا نے علم سیکھا ہے ، سارے مذہب اور ساری قوموں نے اسے اپنایا ہے ، استاد ہی نے بادشاہ بنائے ہیں ، استاد ہی نے ہر اعلیٰ عہدیدار کو تراشا ہے ، استاد ہی نے افسر بھی بنائے ہیں ، قوم کی رہبری کے لئے قابل استاد خدا کی ایک نعمت ہے ، استاد کا کردار ہمیشہ سے انسان کی زندگی کا اہم جزو ہوتا ہے اور یہ اس کی ذات سے جھلکتا ہے کیونکہ استاد شخصیت کی مکمل تشکیل کرتا ہے ، استاد کا ادب کرنا بھی ترقی کا ضامن ہے ، جب علامہ اقبال کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو علامہ اقبال نے یہ خطاب لینے سے انکار کر دیا جس پر وقت کا گورنر بے حد حیران ہوا ، وجہ دریافت کی تو علامہ اقبال نے فرمایا ، کہ میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کر سکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دیا جائے ، یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کو تو سر کا خطاب اس لئے دیا جارہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں ، آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں ، بڑے بڑے مقالات تخلیق کئے ہیں ، لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسن صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے؟ ۔۔۔۔ یہ سن کر علامہ اقبال نے جواب دیا کہ مولوی میر حسن نے ,, اقبال ،، کو تخلیق کیا ہے ، یہ سن کر انگریز گورنر نے اقبال کی بات مان لی اور ان کے کہنے پر مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا ، اللّٰہ تعالیٰ ایسے استاد اور ایسے شاگرد ہر دور میں پیدا کرے ، عصر حاضر کے معلم کو چاہیئے کہ وہ اپنے پیشے کو نہ صرف ذریعہ معاش سمجھیں بلکہ اپنی ایمانداری اور محنت ، سچی لگن سے مستقبل کے صحیح رہبروں کو پیدا کریں ، اللّٰہ سے دعاء ہے کہ تدریس سے جڑے ہوئے لوگوں کی خدمت کو قبول فرمائے ، اور ہر اساتذہ دین و دنیا کی رہبری کے لئے صحیح ثابت ہو ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہو جائے آمین ،

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے