कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم اور تربیت

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں علم کی افادیت اور اس کی اہمیت کا تذکرہ سب سے پہلے کیا ہے۔ چونکہ علم اللہ کی اعلی صفت ہے، اللہ رب العزت نے جب قرآن کریم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔ تو سب سے پہلے علم کی اہمیت اور افادیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آشکارا کیا۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی معرفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی پہلی آیت پڑھنے کو کہا گیا۔ جس کا مفہوم ہے پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اور قلم کے ذریعے انسان کو علم سے آشنا کیا، جس سے انسان قطعی واقف نہیں تھا۔ اس طرح قرآن کریم کو اللہ نے انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات بنایا۔ کیونکہ علم اللہ کی اعلی صفت ہے، یعنی وہ ہر ظاہر اور باطن ،اور کائنات کی ذرہ برابر شئ پر قادر ہے۔ اور ہم علم کے ذریعے ہی اللہ کی معرفت اور اس کی تخلیق کو سمجھ سکتے ہیں، اس ضمن میں ایک شاعر نے بڑی نفاست سے یہ شعر کہا ہے، پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا۔ بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے ۔ علم کے ذریعے ہی اللہ کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے۔ اور اللہ نے انسان کو بہت ہی مختصر علم عطا کیا ہے۔ جیسے سمندر سے ایک خطرہ پوری دنیا کو عطا کیا ہے۔ ہم علم دین کے حصول کے ساتھ عصری علوم کو بھی حاصل کریں تو یہ ہمارے لیے سونے پہ سہاگہ ہوگا۔ جس کے ذریعے ہم علم فلکیات، علم نفسیات، علم نجوم، اور دیگر معلومات کے ذخائر جو اللہ نے ( Creation) تخلیق کی ہے، اس کو ہم بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ تب ممکن ہوگا جب ہم سائنٹیفک طریقے سے حصول علم کے طالب ہوں گے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی خوبصورتی سے یہ شعر عرض کیا ہے۔ جائز ہے غباروں میں اڑو، چرخ پر جھولو۔ پر ایک سخن بندء عاجز کا رہے یاد اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو۔ ( Importance of knowledge) علم کی اہمیت اور افادیت اس حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ علم حاصل کرو اگر چین ہی جانا کیوں نہ پڑے۔ ( Ancient ) زمانہ قدیم میں لوگ علم کے حصول کے لیے دور دراز کا سفر اونٹوں اور گھوڑوں پر طے کرتے تھے۔ اور انہیں ایک حدیث کے لیے کوسوں میل جانا پڑتا تھا۔ اسی ضمن میں یہ حدیث ہے کہ آپ کو اگر چین جانا پڑے تو پس و پیش نہ کریں۔ کیونکہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر ( Compulsory ) فرض ہے۔ عالم کی قدر و منزلت سے متعلق ، پیغمبر اسلام کا ارشاد ہے۔ کوشش یہ کریں کہ عالم بن جائیں، یا پھر متعلم علم حاصل کرنے والے بن جائیں، یا ( Scholars ) اہل علم کی پند و نصائح سننے والے بن جائیں یا ان سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ اج کے اس قحط الرجال میں جہاں لائق اور اہل علم کی کمی ہے تو ہم پر لازم ہے ۔ ہماری ( Responsibilities) ذمہ داریاں ہیں کہ ہم دینی مدارس کی بقا کے لیے۔ اہل علم کی قدر کریں۔ حدیث شریف میں ہے ایک اہل علم یعنی عالم کی موت، سارے دنیا کے موت کے مترادف ہے۔ جب ایک اہل علم اس دنیا سے کوچ کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ علم کا ( Asset) ذخیرہ لیے جاتا ہے۔ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اہل علم کو اللہ کی طرف سے ایک خاص بصیرت اور فراصت ملتی ہے۔ جس کی نظر عام انسانوں سے الگ تھلگ ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی ( creations) تخلیق کردہ اشیاء پر غور و خوض کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر ایک عالم کی موت عالم یعنی ساری دنیا کی موت کے ( equal ) مترادف ہوتی ہے۔ اج ہماری نسل اور اولاد کی بقاء حصول علم میں مضمر ہے۔ جو ہمارا اولین ( Duty) فریضہ تھا اور ہے۔ لیکن حصول علم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہو جس سے انسان اخلاق حسنہ کا خوگر بنے۔ اس طرح تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ہو تو بہترین اخلاق کا پیکر ہوگا۔ اور آپ صلعم نے فرمایا، افسوس ہے ایسے مسلمان پر کے وہ اپنے دینی امور میں سے کسی ایک پر سمجھنے کے لیے سوال نہ کرتا ہو۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم دینی امور اور دینی تعلیم کے لیے وقت نہیں دیتے۔ جس کا نتیجہ رسوائ اور ذلت کے سوا کجھ نہیں۔ ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ دفاتر میں اور آفیسیس میں اعلی ڈگریوں اور اعلی تعلیم کے حاملین بد تمیز ، بد اخلاق ، اور رشوت خور کیوں ہیں؟ یہ اپنی جگہ پر ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔ شعور اور بصیرت حاصل ہو تو انسان انسانوں سے بھلائ اور ( Humanity ) انسانیت ،اور دکھ درد پر ترس اور دست تعاون کریگا ۔ اگر تعلیم ، شعور اور بردباری دیتی تو مذکورہ بلا دفاتر میں یا کسی اور صیغہ جات میں بیٹھے اعلی افسران جو اعلی تعلیم کے حامل ہیں اسطرح غیر اخلاقی حرکت کے مرتکب نہ ہوتے۔ انسان میں اگر بصیرت ہو تو وہ بے حیائ اور فسق س فجور میں مبتلا نہ ہوگا۔ قلب سلیم ہو اور احساس ہو تو انسان اچھائیوں کو اخذ کریگا۔ اور تربیت ہو تو مزید اخلاقی اقدار ( strong) مستحکم ہوگا۔ اس کے بر عکس اگر اس کا فقدان ہو تو برائ کو قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کریگا۔ ایک نو جوان نے ایک نیک بخت سے سوال کیا ۔ اگر دجال ائے اور اس کے پیشانی پر ( Unbeliever ) کافر لکھا ہو، تو میں نہیں سمجھتا کہ لوگ اس کی پیروی یا فالو کریں گے۔ اس نیک بخت نے بہت ہی خوبصورتی سے جواب دیا۔ سگریٹ کے پاکٹ پر لکھا ہوتا ہے۔ Smoking cigrate is dangerous to health) پھر بھی لوگ سگریٹ پینے کے عادی ہوتے ہیں۔ جو خسارے میں رہتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں علم رکھنے کے بعد بھی لوگ برائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اخلاقی تربیت سے ہی انسان کو اعلی بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اور اور قلب اطہر کسی برائ کو قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ انسان اچھی بات کو قبول کرتا اور بری بات کو ترک کر دیتا۔ چنانچہ علم و تربیت ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ تربیت ہو تو علم بھی ضروری ہے، اور علم ہو تو تربیت بھی ضروری ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے