कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعزیتی پیغام

از قلم محمود علی لیکچرر

آج ہم ایک محترم شخصیت سید ضیاالحسن مرحوم کی یاد میں اظہار کرتے ہوئے دل گرفتہ ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی زندگی محبت، خدمت اور معیاری حسنِ اخلاق کی غماز تھی۔
ان کی موجودگی ہر محفل کو وقار بخشنے کے علاوہ ان کے ہم پیشہ افراد بھی ان کی قابلیت اور فن کے قائل اور معترف تھے۔ ویسے ہم پیشہ افراد میں مقابلہ فطری عمل ہے جو معاشرے کی بہتری اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹر ضیاالحسن مرحوم کی ولادت ناندیڑ کے ایک مہذب اور معزز گھرانے میں 19 فروری 1960 کو ہوئی۔ وہ علمی اور ادبی حلقوں میں ایک اہم شخصیت کا درجہ رکھتے تھے۔ ادبی ذوق اپنے دادا حضور نورالحسن قادری سے پایا۔ مشائخ یعنی روحانیت میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو لوگوں کو اخلاق، صبر اور محبت کا درس دیتے ہیں۔ ان کی صحبت دلوں کو سکون اور زندگی کو صحیح سمت عطا کرتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب بچپن سے ہی ذہین و فطین تھے، اس لیے والدین نے ان کی توجہ میڈیکل کی تعلیم کی طرف مبذول کرائی۔ ڈاکٹر صاحب نے 1986 میں ناندیڑ ایورویدک کالج سے BAMS کی تعلیم مکمل کی اور 1987 میں انٹرن شپ مکمل کی۔ اپنے عزیز دوست ڈاکٹر امین الدین صدیقی صاحب کی شراکت داری میں دیگلور ناکہ علاقے میں 1994 تک کلینک کی شروعات کی جو 1996 تک جاری رہا۔
طبیعت میں اردو ادب سے لگاؤ بچپن سے رچا بسا تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ پروان چڑھتا گیا۔ اردو ادب کے لگاؤ نے ان کے خیالات کو نکھارا اور شخصیت کو سنوارا۔ بعد میں انہوں نے M.A اردو کیا اور NET کا مسابقتی امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ صحافت میں ڈپلومہ کیا اور M.A فاضل اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔
ڈاکٹر ضیاالحسن مرحوم بنیادی طور پر ایک نثر نگار تھے۔ انشائیے، خاکے اور تحقیقی مضامین لکھنے کے علاوہ مراٹھی اور دوسری زبانوں کے نثری و منظوم ادب کے تراجم کیے۔ نثری نظمیں بھی لکھیں۔ ان کے نثری خاکے و ترجمہ شدہ نگارشات مختلف اخبارات و رسائل جیسے اعتماد، اورنگ آباد ٹائمز، منصف، دعوت اور اردو دنیا میں چھپتے رہے ہیں۔
زندگی کے اخلاقی پہلو انسانی کردار سے تیار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاالحسن مرحوم ایک بااخلاق انسان تھے۔ سنجیدگی، دیانت داری، صبر اور برداشت جیسی خوبیوں نے ان کو معاشرے میں ایک معزز انسان کا درجہ عطا کیا تھا۔ دراصل ایک کامیاب زندگی وہی ہے جس میں انسان اعلیٰ اخلاق کو اپنا شعار بنائے اور اپنے عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرے۔
مرحوم سے میری 30 سال سے شناسائی تھی، لیکن جب میرا تقرر 1999 جونیر کالج پر ہوا پھر میں نے محترم کے کچھ آرٹیکل پڑھے تو پتا چلا کہ شخصیت قد آور لیجنڈ ہے۔ دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ مرحوم عمر میں مجھ سے 9 سال بڑے تھے۔ بڑی عمر والوں سے دوستی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ ان کے زندگی بھر کے تجربات، مشاہدات، برداشت اور سمجھداری سے میں نے بہت رہنمائی حاصل کی ہے۔ روز شام کو اکثر میں مرحوم کے ساتھ بیٹھتا۔ الگ الگ شعبوں سے وابستہ احباب، ہر خاص و عام ان کے یہاں آتے۔ ناندیڑ کی مشہور شخصیت ڈاکٹر و پرنسپل قطب الدین صاحب LLM PhD، جو غالباً ناندیڑ کے پہلے قانون کے PhD ہیں، ڈاکٹر امین الدین صدیقی، قاضی امین الدین صاحب، سابق ٹیچر اسماعیل صاحب، فاروق صاحب، ابراہیم صاحب اور شہر کے ایک معتبر ادارے کے ہیڈ ماسٹر جناب ماسٹر ماجد سر اور اس پروگرام کے روحِ رواں ہاشمی صاحب جو نہایت قابل ترین اشخاص میں سے ہیں۔ ان کی آواز محمد رفیع جیسی آواز بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، وہ آواز جس میں نرمی بھی ہے اور بلندی بھی، درد بھی ہے اور خوشی بھی۔ ان کی آواز دل کے تاروں کو ایسے چھیڑتی ہے کہ سننے والا اپنے جذبات میں کھو جاتا۔ کبھی کبھی ڈاکٹر ضیاالحسن مرحوم کے چھوٹے بھائی ریاض الحسن جنہوں نے MA میوزک کیا ہے، وہ بھی ایک قابل انسان ہیں، اس محفل میں شریک ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب نہایت عام فہم انداز میں گفتگو کرتے۔ دوستوں کی محفل میں جب علمیت کی باتیں چھڑتی تھیں تو ماحول میں ایک خوشگوار سنجیدگی پیدا ہو جاتی تھی۔ ہر دوست اپنے مطالعے، تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں گفتگو کرتا تھا اور یوں خیالات کا ایک خوبصورت تبادلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ان کی محفل میں نہ کوئی برتری جتاتا تھا اور نہ کوئی کمتر محسوس کرتا تھا بلکہ سب ایک دوسرے سے سیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ علم پر مبنی گفتگو نہ صرف ذہن کو وسعت دیتی ہے بلکہ دوستی کو بھی مضبوط بناتی ہے کیونکہ مشترکہ فکری دلچسپیاں دلوں کو قریب لے آتی ہیں۔ اس طرح کی محفلیں انسان کے ذوقِ مطالعہ کو بڑھاتی ہیں اور اسے بہتر سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ عطا کرتی ہیں۔ میں نے زبان دانی کا کچھ فہم اور فن انہی سے سیکھا، یعنی زبان دانی کا فن انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی بات کو اس طرح ادا کرے کہ سننے یا پڑھنے والا آسانی سے سمجھ سکے اور متاثر ہو۔ ڈاکٹر ضیاالحسن کی لائبریری میں اردو ادب کی بہترین کتابوں کا بیش بہا خزانہ موجود تھا۔ متنوع اصناف پر مشتمل ایک وسیع علمی خزانہ تھا۔ اتنی قابلیت رکھنے کے باوجود وہ نوکری اور مستقل پروفیسر بننے کی راہ میں کچھ مشکلات کا شکار رہے جیسے NGO غیر سرکاری تنظیمی ادارے میں انتخاب کا طریقۂ کار (قارئین اور سامعین خود قیاس کر لیں)، سیاسی رسوخ کا فقدان، آپسی رنجش، عطیات اور ڈونیشن نہ دینے کی ضد، ریاست سے باہر نوکری نہ کرنے کی ضد۔ ایسی کچھ تعلیمی تکنیکی وجوہات بھی تھیں۔ حال ہی میں ناندیڑ کے ایک قابل پروفیسر نے بتایا جن کا نام سن کر الہان ناندیڑ میں کچھ لوگ ان کو برداشت نہیں کرتے۔ بہت ساری وجوہات تھیں جن کو مرحوم نے قسمت پر چھوڑ دیا۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے کچھ سال CHB پر شہر کے ایک معتبر ادارےپر تیبھانیکیتن سینئر کالج میں خدمت انجام دی۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، آمین۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے