कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ترنگے کے لیے جان قربان کرنے والے مسلم فوجیوں کو غدار ثابت کرنے کی بے شرمانہ سازش

1965 کی جنگ کے نام پر جھوٹی تاریخ، زہریلا پروپیگنڈہ اور بھارتی فوج کی بدنامی

تحریر: سینئر صحافی رام پرساد کھنڈیلوال
مترجم: حیدرعلی
ناندیڑ | 4 فروری 2026

بھارتی معاشرہ ایک بار پھر ایک خطرناک اور زہریلے پروپیگنڈے کا شکار بنایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینا ہے بلکہ بھارتی فوج کی ساکھ اور اتحاد کو بھی کمزور کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد آئی ٹی سیل کی جانب سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی، جس میں جان بوجھ کر یہ سوال اٹھایا گیا کہ بھارتی فوج میں مسلم رجمنٹ کیوں نہیں ہے، اور پھر اس سوال کے جواب میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ 1965 کی جنگ میں بھارت کی ایک مسلم رجمنٹ پاکستان جا کر شامل ہو گئی تھی۔
یہ دعویٰ نہ صرف تاریخی طور پر غلط ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی غدارانہ ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے، جس کا مقصد بھارتی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کرنا ہے۔
بی جے پی کا آئی ٹی سیل ماضی میں بھی جعلی تاریخ، آدھے سچ اور گمراہ کن مواد کے ذریعے معاشرے میں تفریق پیدا کرتا رہا ہے۔ مقصد صاف ہے—ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے دور رہیں، شک اور بداعتمادی قائم رہے، اور ملک کبھی متحد نہ ہو سکے۔ یہی وہ طریقہ تھا جو 1947 سے قبل استعمال کیا گیا اور جس کے نتیجے میں ملک تقسیم ہوا۔ افسوس کہ آج ایک بار پھر وہی خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
ٹی سی ایس کے اشوک کمار پانڈے کے مطابق، اس طرح کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کرنا اور سچ کو عوام کے سامنے لانا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے، کیونکہ خاموشی دراصل جھوٹ کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔
تحقیقات سے یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ اس افواہ کی شروعات 2010 میں پاکستان سے ہوئی، جب پاکستان کی فوجی میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک مضمون شائع کیا گیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی مسلم فوجیوں نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان کا مقصد دنیا کے سامنے یہ تاثر قائم کرنا تھا کہ بھارتی مسلمان اپنے ملک کے وفادار نہیں ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ 1947 ہو یا 1965، پاکستان کو ہر بار یہ غلط فہمی رہی کہ بھارت پر حملہ ہوتے ہی بھارتی مسلمان اس کا ساتھ دیں گے، لیکن ہر بار بھارتی مسلمانوں نے اپنے وطن کے حق میں کھڑے ہو کر اس سوچ کو غلط ثابت کیا۔ یہاں تک کہ مہاتما گاندھی جیسے عدم تشدد کے علمبردار نے بھی شیخ عبداللہ کی اس کوشش کی حمایت کی تھی، جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو متحد کر کے پاکستان کے خلاف محاذ قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ برطانوی دور میں بھی بھارتی فوج میں کبھی مذہب کی بنیاد پر کوئی رجمنٹ تشکیل نہیں دی گئی۔ فوجی یونٹوں کی تشکیل علاقائی، نسلی یا عسکری ضرورتوں کے مطابق ہوتی رہی ہے، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کبھی کوئی مسلم رجمنٹ تھی، سراسر جھوٹ اور گمراہ کن دعویٰ ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، دی وائر، انڈین ایکسپریس اور فرنٹ لائن جیسے معتبر ادارے اس دعوے کو فیکٹ چیک کر کے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
1965 کی جنگ کے دوران پاکستان کو یہ خوش فہمی تھی کہ امریکہ کے فراہم کردہ پیٹن ٹینکوں کے ذریعے وہ بھارت کو کچل دے گا، لیکن یہ غرور بھارتی فوج کے بہادر سپاہی شہید صوبیدار عبدالحمید نے خاک میں ملا دیا۔ ان کی بے مثال بہادری پر حکومتِ ہند نے انہیں بعد از وفات پرم ویر چکر سے نوازا۔ اس کے باوجود آج بھی بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہنا کہ مسلم فوجیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا، نہایت شرمناک اور افسوسناک ہے۔
تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں ایک ہی خاندان میں کوئی فرد پاکستان کی فوج میں اور کوئی بھارت کی فوج میں ملک کے لیے لڑتا رہا ہے۔ جس طرح ہندو فوجیوں نے قربانیاں دیں، اسی طرح مسلمان فوجیوں نے بھی خون بہایا، جانیں قربان کیں اور ترنگے کے لیے اپنی زندگیاں نچھاور کیں۔ اگر کوئی شک میں ہو تو وہ محض ایک بار گوگل پر “India Muslim soldiers martyred” تلاش کرے، اسے سینکڑوں شہیدوں کے نام مل جائیں گے۔
سال 2020 میں بھارتی فوج کے 120 ریٹائرڈ سینئر افسران نے وزیراعظم نریندر مودی اور اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ مسلم فوجیوں کی وفاداری پر سوال اٹھانے والا پروپیگنڈہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ اس طرح کا بیانیہ نہ صرف فوج کے حوصلے کو توڑتا ہے بلکہ دشمن ممالک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنے سنگین معاملے کے باوجود نفرت پھیلانے والوں کے خلاف آج تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ نہ پوسٹس ہٹائی گئیں، نہ مقدمات درج ہوئے، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان جیسے دشمن ممالک کو ہوا۔
حقیقت ایک بار پھر واضح طور پر دہرانا ضروری ہے کہ 1965 کی جنگ میں بھارت کی کسی بھی مسلم رجمنٹ نے ہتھیار نہیں ڈالے، کیونکہ ایسی کوئی مسلم رجمنٹ کبھی موجود ہی نہیں تھی۔ یہ پورا بیانیہ پاکستان کی آئی ایس پی آر کی پیداوار ہے، جسے بھارت میں نفرت پھیلانے والی طاقتیں دانستہ طور پر آگے بڑھا رہی ہیں۔
کشمیر ہو، کارگل ہو یا ملک کا کوئی بھی کونا، بھارتی مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ان کی وفاداری بھارت کے ساتھ ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جب بھی اس قسم کا جھوٹا اور زہریلا پروپیگنڈہ سامنے آئے تو خاموش نہ رہا جائے، اس کی مخالفت کی جائے اور سچ کو پوری طاقت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا جائے، کیونکہ جھوٹ کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل حب الوطنی ہے اور یہی بھارتی فوج کے وقار کا حقیقی دفاع ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے