कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تربیت یافتہ انسان تبدیلی کی بنیاد

تحریر از: طالبِ تربیت خمیسہ محمد جنید
رابطہ نمبر:،9850875893
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

انسان کی اصل قدر اس کے علم یا مرتبے سے نہیں، بلکہ اس تربیت سے جانی جاتی ہے جو اسے شعور، کردار، توازن اور بصیرت عطا کرتی ہے۔
تربیت یافتہ انسان کسی مکتب، کسی استاد یا کسی نظام کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا ہے۔
وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے، اپنے رویوں کو درست کرنے، اور اپنے فیصلوں کو حکمت کے سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن یہ صلاحیت بغیر رہنمائی اور بغیر آزمائش کے پیدا نہیں ہوتی۔
تربیت کا سفر ہمیشہ اطاعت، قربت، اور صبر کی مشقوں سے گزرتا ہے۔
تربیت کا پہلا اصول۔۔
کسی استاد کے ماتحت رہنا
کوئی بھی شخص اپنی تربیت خود نہیں کر سکتا۔
ہر انسان کو کسی نہ کسی رہنما، مربی یا تجربہ کار شخص کے زیرِ سایہ رہ کر اپنی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ کا واقعہ اس اصول کی سب سے بڑی مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔
’’فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا‘‘
(الکہف: 65)
یعنی انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ (خضرؑ) پایا جسے ہم نے خاص علم عطا کیا تھا۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔۔
"هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا”
(الکہف: 66)
’’کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو آپ کو دیا گیا ہے؟‘‘
یہ آیت بتاتی ہے کہ تربیت یافتہ بننے کے لیے سب سے پہلے اتّباع یعنی کسی کی پیروی کرنا لازم ہے۔
یہ پیروی محض ظاہری نہیں، بلکہ اس میں عاجزی، صبر، اور احترام شامل ہے۔
امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے۔۔
’’جو شخص علم اپنے استاد سے نہیں لیتا، وہ ہمیشہ کتاب کا قیدی بن کر رہتا ہے۔‘‘
(البیہقی، مناقب الشافعی)
اسی طرح، امام مالکؒ کہا کرتے تھے۔۔
’’میں نے چالیس سال علم حاصل کیا، لیکن تیس سال آداب سیکھنے میں لگائے۔‘‘
(ابن عبد البر، جامع بیان العلم)
یہ اقوال اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ تربیت صرف علم حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ادبِ شاگردی اور احترامِ رہنمائی سے جنم لیتی ہے۔
دوسرا اصول۔۔
آزمائش اور تجربے سے گزرنا
تربیت کبھی آسان راستہ نہیں ہوتی۔
یہ صبر، ضبط اور قربانی کی آزمائشوں سے گزرتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔
’’وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ‘‘
(البقرہ: 155)
’’اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔‘‘
تربیت یافتہ انسان انہی امتحانات سے گزر کر اپنی ذات کو مضبوط کرتا ہے۔
جو مشکلات سے بھاگ جائے، وہ کبھی مضبوط کردار نہیں بنا سکتا۔
علامہ ابن قیمؒ نے مدارج السالکین میں لکھا ہے۔۔
’’آزمائش ہی انسان کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کی تربیت کتنی حقیقی ہے۔‘‘
یہی اصول روحانی و اخلاقی تربیت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔۔
’’أشد الناس بلاءً الأنبياء، ثم الأمثل فالأمثل.‘‘
(ترمذی، کتاب الزہد)
’’سب سے زیادہ آزمائش میں انبیا ہوتے ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب درجے کے ہوں۔‘‘
یعنی جس کی تربیت جتنی اعلیٰ، اس کی آزمائش اتنی سخت۔
اسی لیے ایک تربیت یافتہ انسان جب قیادت یا ذمہ داری سنبھالتا ہے تو وہ جذباتی نہیں ہوتا وہ تجربے سے گزرا ہوا، صبر آزما راستوں کا مسافر ہوتا ہے۔
تیسرا اصول۔۔
اصولوں اور ضوابط کی پابندی
تربیت کا ایک لازمی جزو انضباط (discipline) ہے۔
جس تربیت میں اصول نہ ہوں، وہ محض جذبات کی تربیت ہے، شعور کی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا نظم و ضبط کی تعلیم دی۔۔
’’إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ‘‘
(الصف: 4)
’’اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک مضبوط دیوار ہوں۔‘‘
یہ نظم و ضبط ہی تربیت یافتہ انسان کی پہچان ہے۔
وہ اصولوں کا پابند رہتا ہے، خواہ حالات سخت ہوں۔
اس کے فیصلے ذاتی خواہش پر نہیں بلکہ اصولی سوچ پر مبنی ہوتے ہیں۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا۔۔
’’جس نے اپنے نفس کو نظم میں نہ رکھا، اس کا دل بے ترتیب ہو جاتا ہے۔‘‘
(ابن سعد، الطبقات الکبریٰ)
اسی اصول پر کسی ادارے، جماعت یا قوم کی تعمیر ممکن ہے۔
تربیت یافتہ لوگ وہی ہوتے ہیں جو نظم کے ساتھ جیتے ہیں، اصولوں پر چلتے ہیں، اور اپنے اندر و باہر دونوں کو قابو میں رکھتے ہیں۔
تربیت کا سفر، استاد سے آغاز اور صبر پر انجام
تربیت یافتہ بننے کا سفر مطالعہ، غور و فکر، عمل اور صبر سے گزرتا ہے
لیکن اس کا مرکز ہمیشہ کسی رہنما کی صحبت اور کسی نظام کی پابندی ہوتا ہے۔
جو شخص خود کو کسی کے ماتحت رکھتا ہے، وہ دراصل اپنی خواہشات پر قابو پانے کا فن سیکھتا ہے۔
اور جب وہ خود کسی منصب پر فائز ہوتا ہے، تو وہ دوسروں کو نرمی، حکمت اور ضبط کے ساتھ سنبھالتا ہے۔
یہی تربیت کا حاصل ہے
کہ انسان اپنے رب کے فیصلوں پر راضی، اپنے حالات پر صابر، اور اپنے عمل میں اصول پرست بن جائے۔
علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو ایک شعر میں سمیٹا ہے۔۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
تربیت یافتہ انسان انہی "امتحانوں” سے گزر کر "جہانِ اور” کو پا لیتا ہے
جہاں علم، عمل اور شعور ایک ہو جاتے ہیں۔
جب انسان ان تمام تربیتی مراحل، اصولوں اور آزمائشوں سے گزرتا ہے تو وہ محض ایک فرد نہیں رہتا وہ ایک گوہرِ نایاب بن جاتا ہے۔ تربیت یافتہ انسان وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے، جس کے دل میں خوفِ خدا اور دردِ خلق دونوں بیدار ہو جاتے ہیں۔
ایسے ہی لوگوں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں تبدیلی اور اصلاح کا نظام قائم فرماتا ہے۔
عبادت محض رسمی حرکات سے آگے بڑھ کر جب تربیت کا جوہر حاصل کر لیتی ہے، تب وہ انسان کے وجود میں انقلاب برپا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو صرف عبادت گزار نہیں، بلکہ تربیت یافتہ، درد مند اور مخلوقِ خدا کے لیے تڑپ رکھنے والے بندے محبوب ہیں۔
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ اپنے نبیوں کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے منتخب فرماتا ہے جو دنیا میں روشنی، عدل اور خیر کے علمبردار بنتے ہیں۔
اسی لیے نبی اکرم ﷺ کا مشن صرف عبادت نہیں، تربیتِ انسانیت تھا۔
آیئے اب ہم اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالیں
کیا ہم نے تربیت کو ان اصولوں کے ساتھ کبھی سمجھا ہے؟
نہیں!
ہم نے تو ہر شخص کے نظریے کے مطابق تربیت کو ایک الگ مفہوم دے دیا ہے۔
کسی نے فنون کو سیکھنا تربیت سمجھا،
کسی نے مہارت کو،
اور کسی نے صرف نوکری یا ڈگری حاصل کر لینا ہی تربیت کا معیار سمجھ لیا۔
حالانکہ یہ سب محض ذرائع ہیں، مقصود نہیں۔
اصل تربیت تو وہ ہے جو ان فنون، مہارتوں اور علوم کے بعد انسان کے باطن میں جھانکنے، نفس کو سنوارنے اور کردار کو مضبوط کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
اسی تربیت کے بعد انسان دراصل "تربیت یافتہ” کہلاتا ہے
اور ایسا ہی انسان معاشرے میں حقیقی تبدیلی لاتا ہے۔
تو آیئے، ہم سب آج ایک عہد کریں
کہ ہم علم حاصل کریں گے،
فن اور مہارتیں سیکھیں گے،
مگر ساتھ ہی اپنے آپ کو ان اصولوں کے مطابق تربیت کے دائرے میں رکھیں گے۔
کسی کے زیرِ سایہ، کسی مربی کی رہنمائی میں،
تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو،
اور ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے
جنہیں وہ دنیا میں تبدیلی کے لیے منتخب کرتا ہے۔
آخر میں قرآنِ کریم کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھیں کہ۔۔
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”
(الرعد: 11)
یعنی: اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے