कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بیچ سمندر ساحل: الفاظ کی موجوں میں بہتے جذبات کی کہانی

از قلم: خان افراء تسکین ( اورنگ آباد)

اردو شاعری میں ابتدا ہی سے غزل کا جادو سر چھڑ کر بولتارہا ہے- ہر دور کے نمائندہ شعرا غزل کی زلفوں کے اسیر رہے ہیں – وقت کے ساتھ ساتھ غزل کے موضوعات اور اسلوب میں تبدیلیاں ضرور واقع ہوئیں لیکن ان سے غزل کی ہیئت اور مزاج پر زیادہ اثر نہیں پڑا –
موجودہ دور میں بھی غزل کا جادو برقرار ہے، نسل نو کے شعرا بھی غزل کی سحر انگیزی سے خود کو علیحدہ نہیں کرپائے ہیں-
موجودہ غزل میں موضوعات اور تراکیب کی اتنی رنگینی دکھائی دیتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے- باوجود از ایں موجودہ غزل کلاسیکی غزل کا مقابلہ نہیں کرسکتی –
جدید نسل کے غزلیہ شعرا کی بات کریں تو نوجوان شعرا کا ایک ہجوم سوشل میڈیا کی بھینٹ چڑھ چکا ہے جو سطحی شاعری یا مناسب تکبندی کی بنیاد پر شہرت کے شکھر پر بیٹھنے کی تگ و دود میں لگا ہے- جبکہ اسی نسل کے کچھ شعرا ایسے بھی ہیں جو نہایت سنجیدگی سے کلاسیکی شاعری کا دامن تھامے ہوئے جدید غزل کو اپنی ذات کے اظہار کا وسیلہ بنائے ہوئے ہیں- انھیں چند شعرا میں ممبئی میں مقیم شاعر محسن ساحل کا نام سر فہرست شامل کیا جاسکتا ہے – محسن ساحل اردو غزل کے ان جدید شعرا میں شامل ہیں جنھوں نے غزل میں نت نئے موضوعات کی تلاش کرنے کی کوشش کی اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے، حال ہی میں ساحل کا اولین شعری مجموعہ ‘بیچ سمندر ساحل’ منظر عام پر آیا اور مقبول خاص و عام ہوا- آئیے اسی کے پیش نظر ان کی شعری کاوشوں پر طائرانہ نظر ڈالیں-
محسن ساحل کا شعری مجموعہ "بیچ سمندر ساحل” ایک ایسی شعری تخلیق ہے، جو قارئین کو محبت، ہجر، تنہائی، زندگی کی سختیوں اور انسان کے باطنی کرب کے مختلف جذباتی رنگوں سے روشناس کراتی ہے۔
یہ مجموعہ،محسن جس میں ساحل کی خون جگر سے لکھی ہوئی غزلیں شامل ہیں، 2024 میں نایاب بکس، نئی دہلی کے ذریعے شائع ہوا۔ محسن ساحل کی جڑیں مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل سے وابستہ ہیں، وہ 7 جنوری 1990 کو تحصیل عمرکھیڑ میں پیدا ہوئے۔ 2011 میں ممبئی کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد، تدریس کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اور ممبئ کو وطن ثانی قبول کرتے ہوئے وہیں مستقل سکونت اختیار کی- بطور مدرس ایک بڑا حلقہ ان سے اچھی طرح متعارف ہے مگر ان کی اصل پہچان ان کی شاعری ہے، جس میں گہری فکر، سادگی، تاثیر اور فنی مہارت کا حسین امتزاج محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسا تخلیقی سفر ہے، جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے اور زندگی کے پیچیدہ مگر حسین زاویوں کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
محبت اور ہجر اردو شاعری کے ایسے دائمی موضوعات ہیں جو ہمیشہ دلوں کو چھوتے ہیں۔ محسن ساحل نے ان جذبات کو اس انداز میں باندھا ہے کہ قاری خود کو اشعار میں بسا ہوا محسوس کرتا ہے:
شکایت ہجر کی تجھ سے کروں کیا
تو اچھا تھا، سمے اچھا نہیں تھا
یہ شعر محبت کی آزمائش کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ کبھی کبھی محبت برقرار رہتی ہے، جذبات سچے ہوتے ہیں، مگر وقت اور حالات ساتھ نہیں دیتے۔
اسی طرح، عشق کی اثر پذیری کو شاعر نے یوں قید کیا ہے:
مجھے تُو کس طرح خود میں سماتا
میں پتھر تھا، کوئی خوشبو نہیں تھا
یہ شعر محبت کی وہ طاقت بیان کرتا ہے جو بے جان، سخت اور سنگدل انسان کو بھی نرمی، لطافت اور احساسات کی دولت سے نواز دیتی ہے۔
زندگی محض خوشیوں کا دوسرا نام نہیں، بلکہ یہ آزمائشوں، مشکلات اور صبر کے امتحانوں سے بھی بھری ہوئی ہے۔ محسن ساحل کی شاعری ان حقائق کی دلکش مگر گہری ترجمانی کرتی ہے:
لوگ مشکل کیے دیتے ہیں ہمارا جینا
اور ہم مشکلات آسان کیے جاتے ہیں
یہ شعر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ زندگی میں چیلنجز آتے ہیں، مگر جو صبر اور حوصلے سے کام لیتے ہیں، وہی ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
محفل کی چکاچوند کے بعد کی تنہائی، ایک ایسا کرب ہے جسے وہی محسوس کر سکتا ہے جو اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔ شاعر نے اس درد کو یوں بیان کیا ہے:
یہ شمع، بزم، یہ رونق، یہ رنگینیِ غزل کی
پھر اس کے بعد کی تنہائیاں کس کو بتائیں
یہ شعر ان لوگوں کی کیفیت کو سموئے ہوئے ہے جو ہجوم میں بھی تنہا ہوتے ہیں۔
محسن ساحل کی شاعری صرف دنیاوی جذبات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایک مضبوط روحانی پہلو بھی نمایاں ہے۔ ان کے اشعار میں خدا پر یقین اور تقدیر پر بھروسہ جھلکتا ہے:
تو اپنی خیریت کی خبر رکھ میرے حریف
میری نہ سوچ، میرا تو پروردگار ہے
یہ شعر نہ صرف مخالفین کو ایک گہرا پیغام دیتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ جو انسان خدا پر یقین رکھتا ہے، اسے دنیاوی معاملات کی فکر نہیں ہوتی۔
محبت میں یادیں سب سے زیادہ اذیت دیتی ہیں۔ شاعر اپنے عشق کے رنگ میں کہتا ہے:
ہم اس کو روز صحیفے کی طرح پڑھتے ہیں
وہ خط جو دسمبر میں تم نے لکھا تھا
تم آ کے رہ نہ سکے اور بات ہے لیکن
تمہارے گھر سے میرا دل کشادہ ہے
یہ اشعار ایک بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، جو محبت کی سچائی اور دوری کی تلخی کا حسین امتزاج ہیں
بیچ سمندر ساحل محض شاعری کا مجموعہ نہیں، بلکہ زندگی، محبت، ہجر، صبر اور یقین کی ایک مکمل داستان ہے۔ محسن ساحل کا اندازِ بیاں سادہ مگر پُرتاثیر ہے، جو دل پر گہرا نقش چھوڑ دیتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے بلکہ یہ جذبات و خیالات کی وہ دنیا ہے جہاں ہر قاری اپنے احساسات کی جھلک دیکھ سکتا ہے۔
یہ شاعری نہیں، زندگی ہے!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے