कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھارتی آئین اور محفوظ نشستیں (ریزرویشن)

ازقلم : عرفان بانکری
معلم، سوشل اردو ہائی اسکول سولاپور، مہاراشٹر

آج اس ملک میں کچھ لوگ ہیں جو بھارت کے آئین کو پسند نہیں کرتے اور اس میں ترمیم کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی دستور میں ترمیمات کئے جائیں اور وہی پورنا ظلم،زیادتی،غیر مساوی اور ناانصافی پر مشتمل منو وادی سماج بنایا جائے جہاں پر ایک انسان کو صرف پیدائش پر مبنی اعلیٰ اور ادنیٰ مانا جائے اور بھارتی سماج کی ایک بہت بڑی آبادی کو غلام بنا کر اُن کی زندگی جہنم بنا دی جائے۔
ایسی سوچ رکھنے والے لوگ بھارتی دستور میں موجود دلت ،پسماندہ اور اقلیت طبقے کے لیے دی جانے والی سہولیات اور ریزرویشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ بار بار یہ الزام بھی لگاتے ہیں کے اس ریزرویشن کی وجہ سے نااہل لوگ بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔جب کے یہ سچائی نہیں ہے بلکہ سچائی تو یہ ہےکے ریزرویشن سماج میں نا برابری کو ختم کر کے سماج کے دلت،پسماندہ اور اقلیت طبقےکو مساوی مواقع فراہم کرتا ہے ۔
آئیےاس بارے میں کچھ حقائق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔
ہم سب جانتے ہیں کہ بھارت جیسے ملک میں دلت اور پسماندہ طبقات صدیوں تک ظلم، محرومی اور ناانصافی کا شکار رہے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشہ تعلیم ،عزت اور روزگار کے دروازے بند رکھے گئے۔
جب بھارت آزاد ہوا تو صرف آزادی کافی نہیں تھی ۔ ضرورت تھی مساوات کی، انصاف کی، موقع کی۔ اسی لیے ہمارے آئین نے ریزرویشن کا تصور دیا۔ نہ کسی ادنیٰ طبقے پر احسان کے لیےاور نہ ہی کسی اعلیٰ طبقے پر ذیادتی کے لیے۔ بلکہ بھارتی سماج میں آزادی، مساوات،انصاف اور اخوت قائم کرنے کے لیے۔
بھارت ایک کثیر الثقافتی اور متنوع معاشرہ ہے، جہاں مختلف مذاہب، ذاتوں اور قوموں کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں۔ تاہم، بدقسمتی سے ذات پات کے نظام نے دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو سماجی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پیچھے رکھا۔ ان ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے بھارتی آئین میں دلتوں،پسماندہ طبقات ،خواتین اور اقلیتوں کو کچھ خاص سہولتیں فراہم کی گئیں، جنہیں ریزرویشن یا محفوظ نشستیں کہا جاتا ہے۔
بھارتی آئین کی دفعہ 15(4)، 15(5)، اور 16(4) ریاست کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات، خصوصاً شیڈیولڈ کاسٹس (SCs) اور شیڈیولڈ ٹرائبس (STs) کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں خصوصی رعایتیں فراہم کرے۔ اس کا مقصد صرف مراعات دینا نہیں بلکہ برابری کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ ہر طبقہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔
یہ ایک عام سوال ہے کہ اگر کوئی دلت طالب علم کم مارکس کے باوجود ڈاکٹر، انجینئر، یا استاد بن جائے، تو کیا وہ اچھا پروفیشنل بن پائے گا؟ اس سوال کا جواب صرف مارکس سے دینا ناانصافی ہوگی۔
کیوں کے مارکس صرف ایک خاص وقت کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔کئی ذہین طلبہ، وسائل کی کمی، غربت، امتیازی سلوک، یا تعلیمی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے اچھے نمبر نہیں لا پاتے۔ریزرویشن ایسے افراد کو صرف ایک موقع فراہم کرتا ہے، کامیابی کا انحصار طالب علم کی محنت، لگن، اور سیکھنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔
یہ تصور کہ ریزرویشن سے تعلیم کا معیار گر جاتا ہے، ایک غلط فہمی پر مبنی سوچ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اعلیٰ پیشہ ورانہ کورسز جیسے MBBS، B.Tech، UPSC وغیرہ کی تکمیل کے لیے سخت تربیت، امتحانات اور مستقل محنت درکار ہوتی ہے۔
اگر کوئی طالب علم نااہل ہو تو وہ ان مراحل میں کامیاب نہیں ہو پاتا، خواہ اس نے داخلہ کسی ریزرویشن سے ہی کیوں نہ لیا ہو۔
ریزرویشن کا فائدہ صرف داخلہ تک محدود ہوتا ہے، اس کے بعد سب کو ایک جیسے معیار پر پورا اترنا پڑتا ہے ۔
ریزرویشن کا مقصد معیار کو گرانا نہیں، بلکہ برابری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ دلت،پسماندہ طبقات ،خواتین اور اقلیتوں کے طلبہ کو ریزرویشن کے ذریعے جو داخلہ ملتا ہے، وہ ان کے لیے ترقی کا ایک دروازہ کھولتا ہے۔ کامیاب ہونا ان کی اپنی صلاحیت اور محنت پر منحصر ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریزرویشن کوئی رعایت نہیں بلکہ سماجی انصاف کی ایک شکل ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ کئی دلت اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کئی مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ملک و سماج کی خدمت میں اپنے آپ کو وقف کر دیا۔جن میں بھیم راؤ امبیڈکر ، جگ جیون رام،کاشی رام, مایاوتی، رام ناتھ کووند، سویتا امبیڈکر ، ای. وی. راما سوامی "پیریار”بی. پانتھولا پالیا، اور کایلانی دیوی جیسی کئی عظیم شخصیات،سماجی مصلحین ،سیاسی اور تعلیمی شعور رکھنے والےشامل ہیں جنہوں اپنے ملک میں سماجی برابری،تعلیم ،دلتوں کو انصاف ،دلت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ،خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔۔۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے