कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھارتیہ مسلم سلاطین کو غیر ملکی ثابت کرنے کی سازش

تحریر:سید عمران ناندیڑ۔

مُسلم سلاطین کو غیر ملکی حملہ آور ثابت کیا جارہا ہے تا کہ مسلمانوں کو غیر ملکی دہشت گرد (دیش دروہی) اور حملا آور ثابت کیا جائے، حالانکہ ملک کے باؤنڈریس کا کنسیپٹ تو نام نہاد آزادی کے بعد آیا اس سے پہلے تو مغلوں نے ان ہی کے خوابوں کا اکھنڈ بھارت بنا کر دکھایا تھا۔ اور وہ تو اس پورے خطّے کو اپنا مانتے تھے جن کی 10ـ10 نسلیں یہی پیدا اور یہی دفن ہوگئیں۔ جو کچھ حاصل کیا اسی کے سپرد خاک کیا یہاں تک کہ بھارت کے آخری مسلم بادشاہ کو وراثت میں اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سر اور ملک بدر کرکے قید میں موت نصیب ہوئی جس پر وہ خود لکھتے ہے کہ "کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،، وہ اکھنڈ بھارت کا بادشاہ چاہتا تو انگریزوں سے مصالحت کرلیتا، اپنا خزانہ لیکر آرام دہ زندگی حاصل کرسکتا تھا۔ لیکن اس کے برخلاف بہادر شاہ ظفر نے عزت کی موت کو قبول کیا۔
ملک میں کون رہا کون لُوٹ کر بھاگا:
دوسری جانب انگریز حکمران ہیں جنہوں نے یہاں قبضہ کیا اور سیکڑوں سال نفرت کی سیاست کرنے کے بعد یہاں کا سب کچھ لوٹ کر لے گئے لیکن یہ انگریزوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے؟ انگریزوں کے بجائے مسلم بادشاہوں کو ٹارگٹ کرتے ہے كيوکہ مسلم راجاؤں کو ٹارگٹ کرنے کے پیچھے ایک بڑی کنسپرینسی ہے!
پہلا سیاسی فائدہ:
انگریزوں کے خلاف بیان بازی سے انہیں وہ سیاسی فوائد نہیں ملیں گے جو مسلمانوں کے خلاف بیانیہ پیش کرکے ملتے ہیں۔اور سچ کہیں تو ان کی سیاسی بھٹیاں اسی نفرت سے چلتی ہیں۔
دوسرا اور سب سے اہم یہ کہ *مسلم بادشاہوں کو حملہ آور ثابت کردیا تو اُن کے ادوار میں گزرے تمام اینٹی نیشنل شخصیات ملک کے وفادار فریڈم فائٹر کھلائیں گے اور تمام اینٹی نیشنل مہمات دیش پریمی ثابت ہوجائیں گی۔
آج ملک میں مسلم بادشاہوں کی تاریخ کو نہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے مسلم بادشاہوں کے تعمیرات کو چاہے وہ مذہبی ہو يا عوامی اس پر میلی نظر ہے۔ بابری مسجد اور تاج محل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مسلم بادشاہوں کے ادوار میں اٹھے چھوٹے بڑے سیاسی فتنہ پرور شخصیات کو ہیرو ثابت کیا جارہا ہے اسے مذہبی رنگ دیا جارہا ہے۔
ایسے حالات میں تاریخ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے ماضی میں کیا ایسے حالات مسلمانوں پر نہیں گزرے ایسے حالات میں باشعور قوموں کی کیا اسٹریٹجی رہی کے و اپنے تاریخ کو محفوظ رکھ پائی اس کی مثال ہمیں تاریخ کے اوراق الٹنے پر اسپین کے مسلمانوں سے ملتی ہے۔ نئی نسلوں کے دلوں میں ایمان کی حفاظت کی گواہی اسپین میں 1884 میں ایک مسلمان کے پرانے گھر کی مرمت کرتے وقت ملے وہ قرآن کے اوراق اور ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس میں اسلام سے محبّت کے وہ نعتیہ اشعار لکھے تھے کے *تم ہمیں جلا تو سکتے ہو لیکن اسلام کی محبّت ہمارے دلوں سے ختم نہیں کرسکتے* یہ کاغذ کا ٹکڑا 17وی صدی عیسوی کا تھا یعنی سقوطِ غرناطہ کے 300 سال بعد کا۔ جہاں اسلام کے نام لیوا معلوم ہونے پر ہڈیاں توڑ کر زندہ جلا دیا جاتا تھا اس ملک اسپین میں مسلمانوں نے 300 سالوں تک اپنی تاریخ اور اسلام سے محبّت کو اپنے دلوں میں نہ صرف چھپائے رکھا بلکہ نسلوں کو منتقل بھی کرتے رہیں ظاہراً تو وہ صلیبی دکھائی دیتے مگر اسلام کی روشنی کو اپنے سینوں میں جلائے رکھا۔
آج بھارت میں بھی مسلمانوں کو اپنی تاریخ اپنی نئی نسلوں میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والی نسلیں محمد بن قاسم کو بت شکن نہیں حملہ آور کہیں گی اور بھارت پر سیکڑوں سال حکومت کرنے والے مسلم سلاطین کو لُٹیرے۔ باشعور قومیں حالات کا شکار نہیں ہوجاتی اپنی تاریخ سے منہ نہیں موڑلیتی بلکہ اپنی نسلوں میں اپنی تاریخ خاموشی سے منتقل اور محفوظ کرتی رہتی ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے