कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بگڑتے معاشرتی اقدار پر قابو پانے کی ضرورت

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

مسلم معاشرہ، اپنے میں پائے جانے والے بگاڑ کے باوجود اب بھی دیگر مذاہب کے معاشروں سے ممتاز ہے، وہ کئی برائیوں سے پاک ہے اور اس میں جرائم اور گناہوں کی شرح بہت کم ہے مگر حالیہ دنوں میں پیش آنے والے چند واقعات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مسلم معاشرہ بہت جلد اپنی حیثیت کھو دے گا۔ جرائم کے ساتھ ساتھ اخلاقی بگاڑ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ اخلاقی برائیاں جن کے بارے میں مسلم معاشرہ میں تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا ان کا ارتکاب ہونے لگا ہے۔ قتل اور زنا کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے اور ایسے گناہوں کا ارتکاب شاذ و نادر ہی ہوا کرتا تھا۔ حالیہ دنوں میں مسلم معاشرہ میں قتل اور زنا کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ مسلم معاشرہ میں جنسی بے راہ روی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں مگر اس کے لئے انٹرنیٹ اور سیل فونس کا بے دریغ استعمال اہم ذریعہ نظر آتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے آزادانہ استعمال کے نتیجہ میں جنسی بے راہ روی بڑھنے لگی ہیں۔ علاوہ ازیں دین سے دوری کے نتیجہ میں مسلمان نیکی اور گناہ کے علاوہ حلال و حرام کی تمیز فراموش کر بیٹھا ہے۔ سیل فون اور انٹرنیٹ کے ارزان ہوجانے کے باعث آج ہر بالغ بلکہ نابالغوں کی رسائی سوشل میڈیا تک ہوگئی ہے اور یہ ایک ایسا پلیٹ فام بن گیا ہے جہاں پر کچے مکانات میں رہنے والے بھی دولت کی لالچ میں اپنے بیڈ رومس کو لائیو پیش کرنے لگے ہیں۔ مسلم معاشرہ میں چند دہائی قبل تک بچوں کی دینی تربیت کا باضابطہ نظم کیا جاتا تھا، ہر محلہ کی مسجدوں میں مدرسے چلا کرتے تھے، جہاں بچوں کو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم دی جاتی تھی اور بچوں کو دین کی بنیادی باتیں سکھائی جاتی تھیں۔ انہیں نیکیوں اور گناہوں اور حلال و حرام کے بارے میں درس دئے جاتے تھے اور اپنے اسلاف کے قصے سنا کر ان کے اخلاق کو سنوارا جاتا تھا مگر رفتہ رفتہ جب سے ملت اسلامیہ میں حصول تعلیم کی دھن سوار ہوئی، مسلمانوں نے دین کو فراموش کرنا شروع کر دیا۔ والدین یہی سمجھتے رہے ہیں کہ وہ ایک اچھے والدین اسی وقت قرار پائیں گے جب وہ اپنے بچوں کو بہترین دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور کریں گے اور اس فکر میں وہ بچوں کی دینی تربیت کو فراموش کربیٹھے ہیں، جس کے نتیجہ میں ان بچوں میں حلال و حرام کی تمیز باقی نہیں رہی۔ وہ شرعی حدود کو پھلانگنے لگے ہیں اور سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ اگر مسلم معاشرہ اس بگاڑ پر فوری توجہ نہ دے گا اور اس کے سدباب کے لئے اجتماعی اقدام نہ کرے گا تو وہ دن دور نہیں جب نئی نسل ان کے قابو سے باہر ہوجائے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے